hamid-mir-columns

قائداعظم پر ایک الزام کا جواب

جاہل وہ نہیں ہوتا جو اپنا نام لکھنا نہیں جانتا۔ جاہل وہ ہوتا ہے جو سچ برداشت نہیں کرسکتا اور اپنے جھوٹ کو منوانے کیلئے گالی اور الزام کا سہارا لیتا ہے۔ اس قسم کے اکثر جاہل بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور ان گنوار لوگوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جو پڑھنا لکھنا تو نہیں جانتے لیکن سچ اور جھوٹ کی تمیز کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ میں عام طور پر پڑھے لکھے جاہلوں کی گالیوں اور الزامات کا جواب نہیں دیتا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل کی مصروف زندگی میں جھوٹے لوگوں کے الزامات کا جواب دینے کیلئے وقت ہی نہیں ہوتا ۔لیکن یہاں معاملہ قائداعظم محمد علی جناح کی ذات کا آچکا ہے اور میں جواب دینا لازمی سمجھتاہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ 16 دسمبر 2013ء کو روزنامہ جنگ میں میرا کالم ’’نسل تو نہ بدلی جغرافیہ بدل گیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کالم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کی مذمت کی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں ان وجوہات پر غور کرنا چاہئے جن کے باعث پاکستان دولخت ہوا اور اب بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کیلئے بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ میں نے اس کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمان تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے اور 1964ء تک محترمہ فاطمہ جناح کے زبردست حامی تھے۔ میرے اس کالم کا بنگالی زبان میں ترجمہ کر کے کچھ بنگلہ دیشی اخبارات میں شائع کیا گیا اور پھر بنگلہ دیش میں یہ بحث شروع کردی گئی کہ ایک طرف حامد میر جیسے پاکستانی صحافی عبدالقادر ملا کی پھانسی کی مخالفت کرتے ہیںدوسری طرف کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرو حالانکہ عبدالقادر ملا کی پھانسی بھی بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور پاکستانیوں کی اسی منافقت نے پاکستان توڑا۔ بات یہیں پر ختم نہ ہوئی بلکہ کچھ بنگلہ دیشی صحافیوں نے میرا دفاع کیا تو بحث میں بھارتی بنگال کے کچھ صحافی بھی کود پڑے اور انہوں نے 19 دسمبر 2013ء کو ’’ابوالکلام آزد اورپاکستان‘‘ کے عنوان سےشائع ہونے والے میرے کالم پر زبردست تنقید کی جس میں اس خاکسار نے لکھا تھا کہ کانگریس نے لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ایک طرف متحدہ بنگال کا راستہ روکا دوسری طرف کشمیر کی آزادی کا راستہ روکا۔ بھارتی صحافیوں کو میرے اس جملے پر بہت تکلیف ہوئی کہ 16دسمبر 1971ء کو پاکستان ٹوٹ جانے کے باوجود دو قومی نظریہ ختم نہیں ہوا کیونکہ بنگالی مسلمانوں نے واپس بھارت میں جانے کی بجائے بنگلہ دیش بنا لیا۔ اس بحث کے دوران کچھ بھارتی اور بنگلہ دیشی اخبارات میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی تقسیم کی بنیاد کسی اور نے نہیں بلکہ خود قائداعظم محمد علی جناح نے ڈالی جب انہوں نے 1948ء میں ڈھاکہ میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا اور وہاں ہنگامہ ہوگیا۔ ایک بنگلہ دیشی صحافی نے مجھے ای میل کے ذریعہ اس ساری بحث سے آگاہ کیا اور دو سوال پوچھے۔ پہلا یہ کہ میںقائداعظم کو ایک سامراج دشمن لیڈر کے طور پر کیوں پیش کرتا ہوں جبکہ وہ انگریزی لباس پہننے والے انگریز دوست لیڈر تھے جنہوں نے ہندوستان کو تقسیم کر کے برطانوی حکومت کے ایجنڈے پر عمل کیا۔ دوسرا سوال یہ پوچھا کہ کیا قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے ڈھاکہ میں اردو کو قومی زبان قرار دینا غلطی نہ تھی؟ بنگلہ دیشی صحافی نے مجھے ایک بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل کا لنک بھیجا ہے جس میں قائداعظم کے ایک سابقہ اے ڈی سی عطا ربانی کی کتاب (THE SUN SHALL RISE) کے حوالے سے کہا گیا کہ ڈھاکہ میں اردو کو قومی زبان قرار دینا ایک غلطی تھی۔ بھارتی اخبار میں قائداعظم پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے کچھ نامی گرامی پاکستانی صحافیوں کے حوالے دیئے گئے جنہوں نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینا قائداعظم کی غلطی قرار دیا۔ میں اس کالم کے ذریعہ اپنے بنگلہ دیشی دوست کو جواب دے رہا ہوں اور امید ہے کہ وہ اسے ترجمہ کر کے اپنے اخبار میں شائع کر دے گا تاکہ اس کے بھارتی نیاز مندوں کی بھی تسلی ہو جائے۔

سب سے پہلی بات یہ کہ میں کوئی اسکالر نہیں بلکہ معمولی سا صحافی ہوں لیکن قائداعظم کی سامراج دشمنی پر پوری کتاب لکھ سکتا ہوں۔ 1982ء میں بھارت میں ایک کتاب شائع ہوئی تھی کا جس کا نام تھا ’’مائونٹ بیٹن اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا‘‘۔ یہ مائونٹ بیٹن کا ایک طویل انٹرویو تھا جو دو صحافیوں لیری کولنز اور ڈومنیک لاپیرے نے کئی نشستوں میں کیا تھا۔ اس کتاب میں مائونٹ بیٹن نے اعتراف کیا کہ وہ متحدہ ہندوستان کا حامی تھا وہ ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتا تھا اس نے کوشش بھی کی لیکن وہ جناح کو قائل نہ کرسکا۔ مائونٹ بیٹن نے کہا کہ اگر جناح 1946ء میں انتقال کر جاتے تو پاکستان نہ بنتا۔ تو جناب متحدہ ہندوستان میں برطانیہ کے آخری وائسرائے نے صاف صاف اعتراف کیا کہ قائداعظم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اس کا مطلب ہے برطانوی حکومت پاکستان کا قیام نہیں چاہتی تھی لیکن برطانیہ اور کانگریس کو قائداعظم کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑے۔
اشتہار



اب دوسرےسوال کی طرف آیئے۔ میں نے عطا ربانی صاحب کی کتاب پڑھی ہے۔ انہوں نے واقعی یہ لکھا ہے کہ قائداعظم نے مارچ 1948ء میں اپنے دورۂ مشرقی پاکستان کے دوران مشرقی بازو کی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا جو محض دو فیصد آبادی کی زبان تھی اور وہاںہنگامہ ہوگیا جس میں تین طلبہ مارے گئے۔ قائداعظم بھی ایک انسان تھے اور انسان سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن عطا ربانی صاحب نے جو لکھا وہ حقیقت کے منافی ہے۔ میں ربانی صاحب کی بہت عزت کرتا ہوں وہ میرے عزیز دوست میاں رضا ربانی کے والد تھے لیکن وہ ڈھاکہ کے اس جلسے میں بطور اے ڈی سی قائداعظم کے ساتھ نہیں تھے۔ وہ سات ماہ قائداعظم کے ساتھ رہے۔ 19 مارچ 1948ء کو واپس ائرفورس میں چلے گئے جبکہ قائداعظم نے ڈھاکہ کے جلسے سے 21 مارچ 1948ء کو خطاب کیا۔

اس جلسے میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا۔ قائداعظم کی اس جلسے میں تقریر کا پس منظر اور پیش منظر منیر احمد منیر صاحب نے اپنی کتاب ’’قائداعظم، اعتراضات اور حقائق‘‘ میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ قائداعظم نے ڈھاکہ میں جو اعلان کیا وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اکثریتی فیصلہ تھا۔ 25 فروری 1948ء کو کراچی میں دستور ساز اسمبلی میں مشرقی پاکستان سے کانگریس کے ہندو رکن دھرنیدر ناتھ دتہ نے بنگالی کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ قائداعظم نے اسمبلی کے سپیکر کے طور پر اس مطالبے کو رد کرنے کی بجائے اس پر بحث کرائی۔ کانگریسی رکن اسمبلی نے کہا ریاست کے 6 کروڑ 80 لاکھ باشندوں میں سے 4 کروڑ 40 لاکھ باشندے بنگالی بولتے ہیں اس لئے قومی زبان بنگالی ہوگی۔ ایک اور کانگریسی رکن پریم ہری ورما نے اس مطالبے کی حمایت کی لیکن مشرقی پاکستان کے بنگالی ارکان مولوی تمیز الدین اور خواجہ ناظم الدین نے اس مطالبے کی مخالفت کی۔ لیاقت علی خان نے وضاحت کی کہ ہم انگریزی کی جگہ اردو کو لانا چاہتے ہیں اس کا مطلب بنگالی کو ختم کرنا نہیں۔ کافی بحث کے بعد یہ مطالبہ مسترد کردیا گیا اور مطالبہ مسترد کرنے والوں میں بنگالی ارکان حسین شہید سہروردی، نور الامین، اے کے فضل الحق، ڈاکٹر ایم اے مالک اور مولوی ابراہیم خان بھی شامل تھے۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ قائداعظم کا نہیں دستور ساز اسمبلی کا فیصلہ تھا۔ قائداعظم نے 21 مارچ 1948ء کی تقریر میں یہ بھی کہا تھا آپ اپنے صوبے کی زبان بنگالی کو بنانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے نمائندوں کا کام ہے۔ بعدازاں صوبائی حکومت نے اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تو یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا لیکن تاخیر سے کیا گیا اور اس تاخیر کا پاکستان کے دشمنوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ بنگالی عوام قائداعظم سے ناراض ہوتے تو 2 جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایو ب خان کے مقابلے پر قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت نہ کرتے۔ فاطمہ جناح ڈھاکہ میں جیت گئی تھیں کیونکہ ڈھاکہ میں ان کا چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمان تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں