hamid-mir-columns

عمران خان اور فوج کا مورال

عمران خان کی کئی باتوں اور فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ۔ ہم سب کی طرح عمران خان سے بھی خطائیں سرزد ہوتی ہیں ۔ کبھی وہ اپنی خطا تسلیم کر لیتا ہے کبھی تسلیم نہیں کرتا۔ کئی دفعہ اس نے اپنی خطا کو انا بنا لیا اور نقصان بھی اٹھایا لیکن مجھے کبھی عمران خان کی نیت پر شک نہیں ہوا ۔ میں عمران خان کی زندگی کے کئی نشیب وفراز کا عینی شاہد ہوں۔ مجھے اسکی سب سے اچھی بات یہ لگتی ہے کہ اس نے کم از کم میرے ساتھ کبھی غلط بیانی نہیں کی ۔ بعض اوقات وہ اپنی سادگی میں ایسی باتیں بھی بتا دیتا ہے جو عام طور پر سیاست دان صحافیوں سے چھپاتے ہیں لیکن وہ اپنے دل کی ہر بات زبان پر لے آتا ہے اور اکثر اوقات اپنی صاف گوئی کے باعث سیاسی مخالفین کی بے جا تنقید کا نشانہ بنتا ہے ۔ کچھ دن پہلے میں نے جیو نیوز کیلئے عمران خان کا ایک انٹرویو کیا۔ انٹرویو کے دوران عمران خان نے اپنے پرانے موقف کو دہرایا اور کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں لہٰذا طالبان سے مذاکرات کئے جائیں ۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ایک ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے سے بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے امکانات صرف40فیصد ہیں۔ عمران خان نے کوئی نئی بات نہیں کی تھی کیونکہ
تمام باخبر صحافی جانتے ہیں کہ دو سال پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت پر یہ غیر ملکی دبائو تھا کہ اگر وہ ڈرون حملوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنا چاہئے ۔ اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا بھی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حامی تھے لیکن جنرل کیانی نے 2002ء سے 2010ء کے درمیان قبائلی علاقوں میں ہونے و الے مختلف فوجی آپریشنوں کو سامنے رکھ کر زمینی حقائق کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت مورچہ بند ہو کر پاکستانی فوج کا مقابلہ نہیں کرے گی بلکہ بارودی سرنگیں بچھا کر افغانستان بھاگ جائے گی اور پاکستان کے بڑے شہروں میں جوابی کارروائی کریگی۔ جنرل کیانی کا خیال تھا کہ طالبان کے خلاف کارروائی کیلئے تمام اہم سیاسی و مذہبی جماعتوں کو متحد ہونا چاہئے اور شہری علاقوں میں ان کے ٹھکانے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی پانچ سال تک مرکز اور خیبر پختونخوا میں مل کر حکومت کرتی رہیں لیکن پانچ سال میں ان دونوں جماعتوں نے شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں کیا۔ 2013ء میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو وہ پہلے دن سے مذاکرات کے ذریعہ ملک میں امن قائم کرنے کے حامی تھے۔
2013ء کے انتخابات میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے اہم رہنمائوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا سلسلہ شروع کیا تو کہا گیا کہ عمران خان کو فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے ۔ یہ موضوع میرے کالموں میں بھی زیر بحث آیا اور میں نے کئی مرتبہ اس سلسلے میں عمران خان کے ساتھ بھی بحث کی لیکن 2013ءکے انتخابی نتائج نے عمران خان اور فوج کے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات کی تردید کر دی ۔ عمران خان نے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی پر بہت شور مچایا لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مسلم لیگ (ن)کی حکومت کا کھل کر ساتھ دیا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ستمبر 2013ء کی آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور دیگر اہم جماعتوں کی قیادت نے مسلم لیگ (ن)کی حکومت سے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں ۔ اس دوران ایک ملاقات میں عمران خان کو بتایا گیا کہ مذاکرات اس لئے ضروری ہیں کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے صرف 40فیصد امکانات ہیں ۔ جب سے عمران خان نے یہ بات میرے ساتھ انٹرویو کے دوران جیو نیوز پر کہی ہے انکے سیاسی مخالفین نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے ۔ عمران خان پر سب سے بڑا الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے یہ بات کہہ کر فوج کا مورال ڈائون کر دیا ہے ۔ سینٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے دوستوں نے عمران خان کو طالبان کا دوست اور فوج کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہی لوگ پچھلے سال تک عمران خان اور فوج کے مابین سیاسی گٹھ جوڑ کا الزام لگایا کرتے تھے ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق صاحب نے اپنے بیانات کے ذریعہ عمران خان کے دعوے کو جھٹلایا اور کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے عمران خان کے ساتھ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے 40فیصد امکانات پر کوئی بات نہیں کی ۔ دوسری طرف جب یہی سوال نواز شریف صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے گول مول الفاظ میں عمران خان کے دعوے کی تصدیق کر دی۔ ظاہر ہے ان کے لئے بھی اپنے وزیر داخلہ اور راجہ ظفر الحق کے دعوئوں کو جھٹلانا خاصا مشکل تھا۔غور کریں تو عمران خان پر الزامات کے تیر برسانے والے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے اکثر رہنما وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو کئی ہفتوں سے پرویز مشرف کے وکلاء کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے ۔ مشرف کے وکلاء کہتے ہیں کہ اگر ایک سابق آرمی چیف کا آئین کی دفعہ چھ کے تحت ٹرائل ہو گیا تو فوج کا مورال ڈائون ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی کہتی ہے کہ عمران خان کے ایک بیان سے فوج کا مورال ڈائون ہو گیا ہے ۔کیا ہماری فوج کا مورال کانچ کا بنا ہوا ہے ؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ فوج کا مورال فولاد کی طرح مضبوط ہوتا ہے ۔ جب ایک آرمی چیف جنرل ضیاءالحق ایک سابق آرمی چیف جنرل ٹکا خان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالتا ہے تو فوج کا مورال ڈائون نہیں ہوتا تو پھر مشرف پر مقدمہ چلنے سے یہ مورال کیسے ڈائون ہو سکتا ہے ؟
اسی پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف 2005ء میں برطانوی صحافی کیری شو فیلڈ کو پاکستان بلایا۔ اس خاتون صحافی کیلئے پاکستان آرمی کی وردی تیار کی گئی۔ یہ خاتون وردی پہن کر فوجی یونٹوں میں جاتی تھی اور 2011ء میں اسکی کتاب ’’پاکستان آرمی کے اندر ‘‘ (INSIDE PAKISTAN ARMY)منظر عام پر آئی ۔ اس خاتون نے شمالی وزیرستان سے لیکر سیاچن کی چوٹیوں تک پاکستانی فوج کے افسران اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں اور لکھا ہے کہ اس فوج میں بیرونی دشمن سے لڑنے کی صلاحیت بے مثال ہے لیکن اس فوج کیلئے اپنوں سے لڑنا مشکل ہے ۔ کیری شوفیلڈ کی کتاب میں 2002ء سے 2009ء کے درمیان قبائلی علاقوں میں ہونے والے بڑے بڑے آپریشنوں کی تفصیل درج ہے جو ناکام ہوگئے۔ ناکامی کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ فوج 12سال سے قبائلی علاقوں میں تعینات ہے اور کہیں بھی مکمل امن قائم نہیں ہوا بلکہ بدامنی بڑے شہروں تک پھیل چکی ہے ۔ عمران خان نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ عمران خان صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اپنی فوج کو دلدل میں نہ پھنسائو۔ جو لوگ عمران خان پر فوج کا مورال ڈائون کرنے کا الزام لگا رہے ہیں وہ بتائیں کہ پچھلے پانچ سال سے کراچی میں کس کی حکومت ہے؟ کراچی کے 40فیصد علاقے طالبان کے کنٹرول میں دینے کا ذمہ دار عمران خان ہے یا کوئی اور ؟ کیا بلاول بھٹو زرداری کوئی جواب دیں گے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں