سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں نواز شریف کو طلب کرلیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکپتن کی اوقاف کی زمین کے معاملے میں نواز شریف کو ذاتی حیثیت سے طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار کے گرد اوقاف کی زمین کی الاٹمنٹ اور دکانوں کی تعمیر پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے نوازشریف کے وکیل کی طرف سے جمع کرایا گیا جواب مسترد کردیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آپ نےجواب میں لکھ دیا کہ نواز شریف کوعلم ہی نہیں اور نوازشریف نے ایسا کوئی آرڈر پاس ہی نہیں کیا تھا، نواز شریف خود آکر بتائیں یہ احکامات کس نے دیئے تھے اور خود آکر وضاحت کریں کہ انہوں نے نوٹی فکیشن کیوں واپس لیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی فائل میں سمری لگی ہوئی ہے جس پر نواز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر سارے کا سارا فراڈ ہوا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف پر الزام ہے کہ انہوں نے 1985 میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب پاکپتن دربار کے گرد اوقاف کی زمین کی الاٹمنٹ کا نوٹی فکیشن ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں