سعد رفیق کی گرفتاری کی اصل کہانی

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی گرفتاری قیصر امین بٹ کے نئے بیان حلفی پر ہوئی ۔یہ بیان حلفی اس نے مجسٹریٹ ذوالفقار باری کے روبرو چھ دسمبر کوریکارڈ کرایا تھا ۔

بیان حلفی میں قیصر امین بٹ نے کہا ’میں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو عرصہ پیتیس سال سے جانتا ہوں ۔میں انیس سو ستانوے سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک تھا ۔ خواجہ سعد سعد رفیق میں کاروبار میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ۔

اسی سال خواجہ سعد رفیق نے ندیم ضیا کو میرے ساتھ متعارف کرایا اور کہا کہ ندیم ضیا بہت کام کا لڑکا ہے ۔اس کو اپنے کاروبار میں شامل کریں یہ اپنےاور میرے کاروبارکی دیکھ بھال کرے گا۔

میں نےخواجہ سعد رفیق ،ندیم اور سلمان سے مل کرانیس سو ستانوے میں ایک کمپنی بنائی ۔جس کا نامM/S DEBONAIRپرائیویٹ لمیٹڈ رکھا۔اس کمپنی میں میرے ساتھ خواجہ سعد رفیق کی بیگم غزالہ سعد،خواجہ سلمان رفیق اورندیم ضیا کی بیگم شمع ندیم بھی حصہ دار تھیں ۔

خواجہ سعد رفیق کی بیگم کا نام استعمال ہوا تھا ۔تمام کام سعد رفیق اور سلمان کرتے تھے ۔ندیم ضیا کی بھی یہی صورت حال تھی اصل میں کام وہ خود کرتا تھا۔سن دوہزار میں خواجہ سعد رفیق ،سلمان رفیق اور ندیم نے میرے ساتھ مل کر موضع سیج پال اورجھگیاں واقع لاہور کینٹ میں جائیداد کی خریداری کی ۔

ہم سب سے تقریباً دوسو کنال اراضی خرید کی ، وہ زمین میرے نام کرائی گئی اس موضع میں تقریباً اٹھ سو کنال زمین بیانہ جات بھی مالکان کے ساتھ کئے تھے ۔وہ بھی میرے نام سے کرائے گئے لیکن اس زمین کی خریداری میں خواجہ سعد رفیق ،سلمان اور میں نے رقم لگائی ،ہم سب نے اس زمین پر ہاوسنگ سکیم ایئر ایونیو کی منظوری ملٹری ایکٹ والوں کے دفتر سے لی لیکن اس سکیم کو مارکیٹ میں لانچ نہ کیا جاسکا ۔

ساری زمین ہم نے اربن ڈویلپر میاں طاہر جاوید اور ایڈن ڈویلپر کو فروخت کردی اس زمین کی قیمت کی رقم سے ہم نے موضع پھلروان اور ڈھوک رائے فواد برقی روڈ پر زمین خرید کرنی شروع کردی اور اس زمین پر ہاوسنگ سوسائٹی کا نیا منصوبہ بنایا۔
اشتہار


اس منصوبے کےلئے نئی کمپنی بنائی جس کا نام ایئر ایونیو پرائیویٹ لمینڈ رکھا جس میں خواجہ سعد رفیق اور سلمان نے اپنا نام نکال لیا اور اپنی ندیم ضیا کا نام متعارف کرایا اس میں میں اور ندیم پچاس پچاس فیصد کے پارنٹر بن گئے ۔اور خواجہ سعد اور سلمان نے اپنے آپ کو کاغذی کاروائی باہر نکال لیا ہے ۔

اس کمپنی کا نام سال دوہزار تین میں تبدیل کر کے پیراگون سٹی رکھا گیا مالکان میں میں اور ندیم رہ گئے تھے جب کہ میرے خیال میں ندیم کاپچاس فیصد حصہ سعد اور سلمان کا تھا برقی روڈ کے فرنٹ پر شاہد بٹ کی اراضی تھی ہمارے زمین اس کے عقب میں تھی ۔

ہم نے پیراگون کے راستے کےلئے شاہد بٹ سے معاہدہ کرلیا اور اس زمین کو اپنی سوسائٹی کا حصہ بنالیا ایک بلاک ایمپریل بلاک بنالیا اور معاہدہ کے تحت شاہد بٹ کو بھی اس بلاک کی زمین کی فروخت کا اختیار دے دیا ۔

ندیم ضیا نے سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ایما پر اس بلا ک کے پلاٹوں کو کمرشل بن کر بیچ دیا جس کی مالیت چار ارب روپے بنتی ہے وہ جگہ اب بھی شاہد بٹ کے نام پر ہے ۔

دوہزار پانچ میں ٹی ایم اے عزیز بھٹی ٹاون سے پیراگون سٹی کی منظوری کےلئے خواجہ سعد اور سلمان نے مدد کی چونکہ سعد رفیق سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے اسی طرح جب بھی سوسائٹی کو ضرورت سعد رفیق نے ہماری مدد کی ۔

ہم نے دوہزار پانچ سے سوسائٹی میں فروخت شروع کی اور آج تک کررہےہیں ۔دو ہزار چھ میں سعد رفیق اور سلمان رفیق نے مجھے یہ کہا کہ ہم یہ معاملات خود دیکھیں گے اس لئے اس میں میرے شیئر کم کردئیے اور ندیم ضیا کے شیئر بانوے فیصد کر دئیے اس طرح خواجہ سعد وغیرہ تمام پیرا گون سٹی کے مالک بن گئے ۔

میں ندیم ضیا پیراگون سوسائٹی کے مالک ہیں لیکن ہمارے علاوہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق بھی مالک ہیں ۔ندیم ضیا سوسائٹی کے اکاونٹس چلاتا ہے ۔دونوں بھائی اس سوسائٹی کے اصل مالک ہیں ۔قیصر امین بٹ کی شناخت بھی سیاست تھی۔

وہ لاہور سے ایم پی اے بھی رہے ،اُن کے والد محمد امین بھی لاہور کی ایک معروف سیاسی شخصیت تھے پیراگون سٹی کے متعلق ہمیشہ یہی سمجھا جاتا تھا کہ اس سوسائٹی کے مالک قیصر امین بٹ ہیں ۔

قیصر امین بٹ نے اپنے اآپ کو رفاحی کاموں کے حوالے سے سامنے لائے اوربےشمار لوگوں کی مدد کی ۔ عینی شایدین کے مطابق قیصر امین بٹ نے سعد رفیق اور ندیم ضیا کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جس کام میں کسی انسان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہو ،میں اس کام میں تمہارا پارٹنر نہیں ہوں گا ،سو اآشیانہ سکیم کے کے معاملات میں قیصر امین بٹ نے شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا ۔اس لیے سعد رفیق اینڈ کمپنی کو پیراگان ایکسٹینشن کے نام سے ایک نئی کمپنی بنانی پڑی ۔جس کے ساتھ ایک لمبا فراڈ کیا گیا۔

ندیم ضیا کو پاکستان سے باہر بھیجنے میں خواجہ برادران نے اہم کردار ادا کیا ۔ذرائع کے مطابق وہ اس لندن میں ہے اور اسے کسی وقت بھی گرفتار کر کےلایا جاسکتا ہے ۔

خواجہ برادران نے پوری کوشش کی کہ قیصر امین بٹ ملک سے فرار ہوجائیں مگر قیصر امین بٹ نے ملک چھوڑنے سے انکار کردیا تھا ۔وہ خواجہ برداران کے دبائو پر ہی مفرور رہے ۔وہ چاہتے تھے کہ گرفتاری دے دیں مگر انہیں مفرور رہنے پر مجبور کیا گیا ۔اس بات کے ثبوت نیب حاصل کر چکی ہے کہ پیراگون سٹی سے خواجہ برادارن لمبی رقوم حاصل کرتے رہتے ۔

نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق کے بہنوئی بھی اس فراڈ میں شریک ہیں ۔ شاہد بٹ نے بیان دیا کہ ہر میٹنگ میں خواجہ سعد رفیق میں شریک ہوتے تھے اور الاٹمنٹ لیٹر لوگوں کو خود دیتے تھے ۔قیصر امین بٹ کا بیان حلفی ناصرف نیب کی جانب سے تیار کردہ ریفرنس پر فیصلہ کن اثرات ڈالے گا بلکہ خواجہ برادران کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہوگا ۔

تحریک نظام مصطفیِ کے دوران ایک فقیر منش لیڈر خواجہ محمد رفیق کے بیٹوں کا معیار اور انداز زندگی جس تیزی سے بدلہ اس نے بہت کچھ واضح کررکھا ہے ۔

سعد رفیق کی گرفتاری کے بعد اس بات کا واضح امکان پیدا ہوچلا ہے کہ اآشیانہ سکیم میں سابق وزیراعلی شہباز شریف کے ملوث ہونے کے تمام ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تحریر: منصور آفاق

اشتہار


سعد رفیق کی گرفتاری کی اصل کہانی” ایک تبصرہ

  1. اللہ تعالی کا خوف جب دل سے نکل جائے تو دن رات بندہ دولت کے چکر میں قبر تک پہنچ جاتا ہے تب انسان کو اپنا خسارہ نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    عبرت ناک سزا ان لوگوں کے لیے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں