یہ وہ لاہور تو نہیں!

کبھی کبھار ان دنوں کو یاد کرتا ہوں جب پرنٹ جرنلزم کرتا تھا ۔ انگریزی اخبار کے لیے روزانہ ایک آدھ سکینڈل یا ایکس کلوسیو سٹوری فائل کر کے زندگی کے مزے لیتے تھے۔ رات نو بجے دفتر جا کر گھنٹہ دو گھنٹہ گپ شپ کر کے گیارہ بجے کے قریب سٹوری لکھنا شروع کرتے اور بارہ بجے کے قریب فائل کر کے گھر لوٹتے۔

سارا دن کوئی ٹینشن نہیں ۔ ہاں ٹینشن ہوتی تھی کہ تگڑا سا سکینڈل ہاتھ لگے تو شام کو فائل کریں۔ سرکاری دفاتر میں سارا دن پھرتے رہنا۔ شکل کوئی نہیں پہچانتا تھا لہٰذا کہیں بھی جا پہنچتے اور خبریں نکال لاتے۔ جنرل مشرف کا دور تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف سیکرٹری زراعت تھے۔ میری خبروں کی وجہ سے ان کی دو دفعہ جنرل مشرف نے انکوائری آرڈر کی۔

ان کے وزیر جاموٹ صاحب تھے۔ ہم اکثر ڈاکٹر صاحب کے دفتر میں پائے جاتے اور وہیں سے خبروں کی سن گن لیا کرتے۔ کئی افسران نے انہیں ہمارے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی کہ صحافیوں نے اچھا تماشا شروع کیا ہوا ہے‘سارا دن دفاتر میں پھرتے ہیں ‘ چائے پانی بھی یہیں سے پیتے ہیں اور شام کو ہمارے خلاف ہی خبریں فائل کرتے ہیں۔

ان کی مہمان نوازی کا صلہ انکوائریز کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف اپنی ٹیم کی شکایتوں کو ایک ہی فقرے میں بھگتا دیتے کہ نہ کرو وہ کام جن کی خبریں بنتی ہیں‘یہ ان کا کام ہے ‘ وہ نہیں کریں گے تو بھوکے مریں گے۔ وہ خبریں فائل نہ کریں کیونکہ تم لوگ انہیں چائے پلا دیتے ہو؟

پھر ٹی وی جرنلزم نے زندگی مشکل کر دی ۔ اب پہلے کی طرح کسی دفتر سے خبر نہیں لے سکتے ۔ ذرائع نے بھی دفتر میں ملنے سے انکار کر دیا‘ یوں خبریں نکالنے کے کچھ اور طریقے ایجاد کرنے پڑگئے۔

ٹی وی شوز نے زندگی کے معمولات ڈسٹرب کر دیے۔ ٹی وی نے آپ کی معاشی زندگی تو آسان کر دی‘ لیکن سماجی زندگی کا حشر نشر کر دیا۔ اب آپ کہیں آزادی سے آجانہیں سکتے۔ آپ کو اپنے شوز کو دیکھ کر ہی اپنا پلان بنانا پڑتا ہے۔ اعجاز بھائی جارجیا‘ امریکہ سے آرہے تھے۔ بولے: لاہور آجائو پھر وہیں سے اسلام آباد چلے جائیں گے۔

میں نے کہا: خالد مسعود خان کو ملتان سے بلوا لیں اور ساتھ میں خالد جاوید کو بھی۔ دو دن لاہور گزارتے ہیں ‘ گپ شپ کرتے ہیں۔ ہمارے ملتانی کالم نگار دوست خالد مسعود خان ایک عدد نشہ ہیں ۔ ان کی کمپنی کی وہی لوگ قدر جانتے ہیں‘ جنہوں نے خالد مسعود خان کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ خالد یاروں کے یار‘ لیکن اب وہ دشمنیاں چھوڑ چکے ہیں ۔

دوستوں کے حوالے سے ان کا دل بڑا ہے۔ میں کئی ایسی حرکتیں کر چکا ہوں ‘کوئی اور ہوتا تو شاید ہمیشہ کے لیے تین حرف بھیج کر آگے بڑھ جاتا‘لیکن لگتا ہے خالد مسعود بھی میجر عامر کے والد صاحب کے اس قول پر چلتے ہیں کہ جو دوستی تیس سال میں پروان چڑھی ہے وہ تیس سال میں ہی ٹوٹنی چاہیے۔

اگر میری اور خالد کی دوستی برقرار ہے تو اس کا کریڈٹ خالد کو جاتا ہے۔ میں نے تو تعلقات خراب کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ خالد سے بڑے عرصے بعد ملاقات ہورہی تھی‘ اس لیے مجھے وہ کھوئے کھوئے اور تنہا لگے ۔ میں نے کہا :یہ اپنا کیا حال کر لیا ہے؟ کچھ اپنا خیال رکھا کریں۔ بولے: کیا کرناچاہیے؟

خالد کی بیگم صاحبہ کی وفات نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ لگ رہا تھا زندگی اب اس موڑ پر آن پہنچی ہے جہاں بچے اپنی اپنی زندگیوں میں گم ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور دھیرے دھیرے انسان اکیلا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اکیلا گھر آپ کو کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ جن بچوں کو بڑے ہوتے دیکھ کر آپ خوش ہوتے ہیں ‘وہی جب بڑے ہو کر پرندوں کی طرح گھونسلہ چھوڑ جاتے ہیں ‘تو پھر اداس شام کی تنہائی ایک عذاب بن کر ابھرتی ہے۔
خالد مسعود کی کمپنی میں اتنے بڑے عرصے بعد مسلسل ہنسا ہوں گا کہ لیہ کالج ہوسٹل اور ملتان یونیورسٹی کے ہوسٹل کا دور اور دوست یاد آگئے ۔ لاہور کی سڑکوں پر رات گئے نکلے ‘تاکہ کہیں سے کچھ لاہوری کھانا کھائیں تو سب کے پاس لاہور کی اپنی اپنی یادیں تھیں ۔

خالد 1970ء سے شروع ہوئے‘ جب وہ یہاں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور بعد میں والد کے حکم پر انہیں ملتان یونیورسٹی واپس جانا پڑا ۔ وہ پرانے لاہور میں کھوئے رہے۔ مال روڈ اور چند مہنگے علاقوں کو چھوڑ دیں تو باقی پورے لاہور کی حالت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجائے۔ آپ ذرا پنجاب اسمبلی کی بیک سائیڈ‘ داتا دربار‘ پرانی انار کلی جیسے علاقوں کی طرف جائیں تو ایسا گند اور گندگی آپ کو ملے گی کہ آپ عمر بھر دوبارہ وہاں کا رخ نہ کریں۔

میٹرو اور اورنج ٹرین کے نام پر جو اس تاریخی شہر کا حشر کر دیا گیا ہے وہ ایسا جرم ہے جو اربوں روپوں کی کرپشن سے بھی سنگین ہے۔ لاہور اس سلوک کا ہرگز مستحق نہیں تھا جو اس کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ مجھے اسی کی دہائی کا لاہور یاد آیا جب گائوں سے گرمیوں کی چھٹیاں اپنی خالہ سارہ کے گھر گزارنے آتا تھا ۔

اگر روز نہیں تو ہر تیسرے چوتھے روز بارش ضرور ہوتی تھی۔ لاہور میں ہر طرف درخت اور پھول ہوتے تھے۔ بارش کے بعد جو لاہور کا منظر ہوتا تھا وہ ابھی بھی محسوس کرسکتا ہوں ۔ سڑکیں خالی خالی اور آپ گلبرگ یا لبرٹی کو انجوائے کرتے تھے۔ میں گلبرگ سے پیدل منی مارکیٹ آتا تھا جہاں پرانی کتابوں کی دکان تھی۔ وہیں چائے پی لی۔
اشتہار


لاہور میں جیل روڈ پر مین بلیوارڈ چوک پر رنگین فوارہ لگا تو سب دیکھنے گئے۔ اب کی دفعہ نہ وہ فوارہ تھا اور نہ وہ پرانا لاہور ۔ لاہور پر لوہے‘ سیمنٹ اور سریے کی چھت ڈال دی گئی ہے۔ لگتا ہے پورا پنجاب اب لاہور میں آن بسا ہے۔ آپ کا سانس گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔

پنجاب کے دیگر شہروں کو پس ماندہ رکھ کر اپنے تئیں جو لاہور کی ترقی کی گئی وہ اب اس شہر کی دشمن بن چکی ہے۔ رات گئے کشمیری چائے پینے بیٹھے تو میں نے لڑکے سے پوچھا :کہاں سے ہو؟ بتانے لگا کہ وہ جھنگ سے آیا ہے۔ دوپہر ایک بجے سے لے کر اگلی صبح چار بجے تک وہ کام کرتا ہے اور تین سو روپے ملتے ہیں۔ لاہور میں اب دیہاتوں سے آئے نوجوان ملتے ہیں‘ جو روزی کی تلاش میں اس شہر آتے ہیں‘ کیونکہ ان کے اپنے علاقوں میں ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔

لاہور کی سڑکوں پر اتنی گاڑیاں اور اوپر سے موٹر سائیکل سوار دوست جو ٹریفک قوانین سے واقف تک نہیں ہیں۔ آسمان تلاش کرنے کی کوشش کریں تو آپ کی آنکھیں سریے سیمنٹ سے ٹکرا کر واپس زمین پر آن ٹکراتی ہیں۔ ہر طرف سریا اور سیمنٹ ٹھونک دیا گیا ہے۔

رات گئے خالد مسعود‘ خالد جاوید اور اعجاز بھائی کے ساتھ لاہور کا نوحہ پڑھتے اور ہر طرف پھیلے گندگی اورسریا سیمنٹ کے مینار دیکھ کر میں نے کہا:میرے بس میں ہوتا تو ان تمام ڈھانچوں کو گرا کر لاہوریوں کو وہی پرانا لاہور لوٹا دیتا‘ جو صاف ستھرا ‘ پھولوں سے ہرا بھرا ا ور بارش کے بعد خوشبو سے مہکتا تھا ۔

میں نے کہا: داد دینا پڑتی ہے لاہوریوں کو جنہوں نے اپنے اس خوبصورت شہر کو برباد ہوتے اپنی نظروں سے دیکھا اور دیکھتے رہے اور الٹا اس شہر کے قاتلوں سے ہی رومانس پالتے رہے۔

دنیا بھر میں کہیں بھی شہروں کو اس طرح ترقی کے نام پر تباہ نہیں کیا جاتا جس طرح لاہور کو چند برسوں میں کر دیا گیا ہے۔ خالد مسعود نے جی او آر ون میں شادی پر جانا تھا۔ میں اسے ڈراپ کرنے گیا اور پارکنگ میں بیٹھ کر واپسی کا انتظار کرتا رہا ۔ لاہور میں وہ واحد جگہ‘ لگی جہاں ابھی آپ کو اچھی زندگی نظر آتی ہے۔

میں نے کہا: خالد ان سرکاری بابوز نے جی او آر ون کے علاوہ پورے لاہور کو شہباز شریف کے حکم پر تباہ کر دیا لیکن اپنے ماحول کو اچھا رکھا ہوا ہے۔ وہ بولا :دل نہ جلائیں ایک اور جی او آر لے جاتا ہوں‘ تمہاری تسلی ہوجائے گی کہ بربادی اب ہرجگہ ہورہی ہے۔

خالد مسعود نے کہا کہ لاہوریوں کو کچھ نہ کہیں ۔ لاہوری نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ اس ترقی پر بے پناہ خوش بھی ہیں ۔ آپ لاہور سے رومانس اور نسٹیلجیا اپنے پاس رکھیں ۔ دو دن گزاریں اور واپس تشریف لے جائیں۔ میاں بیوی راضی ہیں تو قاضی کون ہوتا ہے رولا ڈالنے والا!

بشکریہ دنیا

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں