Orya-Maqbool-Jan

مسلمانوں کی کثرت کا خوف

جس دن سے رنگ‘ نسل ‘ زبان اور علاقے کی بنیاد پر قومی ریاستوں کو عالمی سطح پر قانونی حیثیت عطا کی گئی ہے‘ اسلام تو دور کی بات ہے‘ عیسائیت کا ذکر بھی کسی قومی سلطنت کے نام سے خارج کر دیا گیا۔ وہ جو کبھی تاریخ کی کتابوں میں مسیحی یورپ کہلاتا تھا اب فقط یورپ رہ گیا ہے اور اس کی عظیم رومن سلطنت سے بکھرنے والے ممالک فرانس‘ جرمنی‘ انگلینڈ‘ بلجیم یا تو اپنے علاقوں سے پہچانے جانے لگے یا پھر نسلی حوالے سے انہیں پکارا جاتا تھا۔ دنیا بھر میں جتنے سروے ہوئے‘ تحقیقاتی رپورٹیں شائع ہوئیں کہیں اگر مذہب کا ذکر ان یورپی ممالک میں ہوتا تو اقلیتوں کے حوالے سے ہوتا اور وہ بھی ایسی اقلیتیں جو نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہو گئیں تھیں‘ جیسے مسلمان‘ سکھ وغیرہ۔ ہندوئوں کو بھی انڈین کہا جاتا اور بدھ مت کے ماننے والوں کا تو تذکرہ ہی چینی‘ جاپانی‘ تھائی یا ویت نامی کے نام سے کیا جاتا۔ ایک طویل عرصے تک تو مسلمانوں کو بھی ان کی قومی ریاستوں کے حوالے سے پہچانا جانے لگا جیسے‘ عراقی‘ ایرانی‘ لبنانی‘ شامی یا پاکستانی وغیرہ۔ مگر بحیثیت مجموعی جب کوئی منفی حوالہ دینا ہوتا تو مسلم ممالک یا مسلم ورلڈ کی بات کی جاتی لیکن اگر کسی کامیاب فرد کا تذکرہ ہوتا تو اسے لبنانی‘ مراکشی‘ ایرانی یا پاکستانی کہہ کر پکارا جاتا۔ کسی بڑے سائنسدان‘ تاجر‘ صنعت کار‘ ادیب یا فنکار کو جو عالمی سطح پر مقبول ہو جاتا اسے اس کے مذہب سے نہیں بلکہ قومیت سے پکارا جاتا‘ یہاں تک کہ دیگر قوموں کے منفی کرداروں کو بھی ان کے ملک کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے‘ لیکن مدتوں سے یہ دستور رہا ہے کہ مسلمان منفی کرداروں کا رنگ‘ نسل‘ زبان یا علاقہ معدوم کر دیا جاتا ہے اور اس کی اسلامی شناخت کو ابھارا جاتا ہے۔ آپ پوری مغربی دنیا میں کسی بھی باشعور شہری سے اسامہ بن لادن‘ ایمن الظواہری ‘ گیارہ ستمبر کے ہائی جیکروں یا خالد شیخ محمد کا ملک‘ علاقہ یا نسل دریافت کریں۔ شاید ہی کوئی آپ کو بتا سکے‘ لیکن ہر کوئی یہ ضرور بتا دے گا کہ وہ مسلمان تھے۔ لیکن جدید تاریخ کے سب سے منفی کردار ہٹلر کو عیسائی نہیں بلکہ جرمن کی حیثیت سے پکارا جاتا ہے۔ گزشتہ بیس سالوں سے اس عالمی منظر نامے پر جو تیز رفتار تعصباتی تبدیلیاں آئی ہیں‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ستاون ملکوں میں بٹے ہوئے مسلمان خواہ اپنے آپ کو ایک امت تسلیم کریں یا نہ کریں‘ پوری مغربی دنیا انہیں اپنا ایک متحدہ دشمن اور ایک امت ضرور تسلیم کرتی ہے۔ گزشتہ تین سو سالوں سے یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والا سوشل سائنسز کا رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے کی فطری تقسیم کا علم ان برسوں میں ناکام ہو گیا ہے۔
اشتہار



سیدالانبیاؐ نے کہا تھا کہ ’’کفر ایک ملتِ واحدہ ہے‘‘ اور اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود کینیڈا سے لے کر آسٹریلیا تک وہ متحد تو مسلمان کے خلاف تھے ہی‘ لیکن گزشتہ چند برسوں سے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی اکثریت کا خوف سا بیٹھ گیا۔ سوشل میڈیا اور اکا دکا مضامین تو اس موضوع پر مل جاتے تھے کہ مسلمانوں کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ایک دن وہ اس دنیا کی غالب اکثریت بن جائیں گے‘ لیکن کبھی کسی سنجیدہ ادارے یا تعلیمی و تحقیقی مرکز نے خالصتاً مذہب کی بنیاد پر دنیا کی آبادی کے بارے میں کوئی رپورٹ مرتب نہیں کی تھی۔ عموماً ایشیا ‘یورپ‘ جنوبی امریکہ و شمالی امریکہ‘ مشرقی وسطیٰ یا مشرق بعید جیسے دائروں اور علاقائی لکیروں میں آبادی کو تقسیم کر کے بنایا جاتا اور رپورٹوں میں ذیلی سطح پر مذہب کا بھی ذکر کر دیا جاتا۔ لیکن اس خوف کا کیا کریں جو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ دنیا کے سب سے معتبر تحقیقی (Reserch) کا ادارہ PEWایک بالکل مختلف نوعیت کی ریسرچ لے کر آیا ہے جس کا ٹائٹل ہے۔ ”The Changing Global Religious Land Scape” دنیا کا بدلتا ہوا مذہبی منظر نامہ‘ یہ پینتالیس صفحات پر مشتمل رپورٹ ہے جس میں پوری دنیا میں مذاہب کے اعتبار سے بڑھتی اور گھٹتی آبادیوں کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔ یہ ادارہ PEWعالمی سطح پر ایک بااعتبار ساکھ رکھتا ہے۔1990ء میں Times Mirror Companyنے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو امریکہ اور دنیا بھر میں سروے اور ریسرچ کر کے مستند معلومات اکٹھی کرے اور مشہور زمانہ صحافی اینڈریو کوہوٹ”Andrew Kohut”کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا جو اپنے انتخابی جائزوں کی وجہ سے اتنا مشہور تھا کہ اسے امریکہ میں ”Pollstar”یعنی انتخابی جائزوں کا ہیرو کہا جاتا تھا لیکن اس وقت یہ ادارہ اپنے سروے اور جائزوںسے سالانہ پانچ کروڑ ڈالر کماتا ہے لیکن اس کے اخراجات کے لئے ایک ٹرسٹ ہے جو اس کے تمام اخراجات کے لئے فنڈ مہیا کرتا ہے۔ اس ادارے کی رپورٹیں دنیا بھر کی حکومتیں‘ پالیسی ساز ادارے اور سیاسی جماعتیں اپنی آئندہ پالیسی بنانے اور لائحہ عمل طے کرنے میں استعمال کرتی ہیں۔ یہ تازہ رپورٹ دراصل مغربی دنیا کو خواب سے بیدار کرنے کے نقطہ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ کا آغاز ان جملوں سے ہوتا’’اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بچے عیسائی گھرانوں میں پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے عیسائیت ابھی تک دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ لیکن یہ صورت حال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی اور صرف بیس سال سے بھی کم عرصے میں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ اسلام دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ اموات عیسائیوں میں ہو رہی ہیں۔ صرف جرمنی میں 2010ء سے 2015ء تک چودہ لاکھ عیسائی بوڑھے نئے پیدا ہوئے بچوں کی تعداد سے زیادہ مرے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً16فیصد لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے لیکن ان میں ازدواجی زندگی اور بچوں کا رجحان کم ہے اس لئے ان کی آبادی بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مذہب کی تبدیلی بھی عیسائی آبادی کو کم کر رہی ہے۔2010ء سے 2015ء تک تقریباً نوے لاکھ عیسائیوں نے مذہب تبدیل کیا جبکہ ان کی آبادی میں اضافہ ایک سو سولہ لاکھ تھا۔ گویا اضافے میں سے اسی فیصد سے زیادہ مذہب چھوڑ گئے جبکہ مسلمانوں میں مذہب کی تبدیلی کا رجحان بالکل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق عیسائیت افریقہ میں بڑھتی رہے گی جبکہ یورپ میں اسلام سب سے بڑا مذہب اور مسلمان سب سے بڑی آبادی ہوں گے۔ دنیا میں مذہب نہ مانے والوں کا 75فیصد ایشیا خصوصاً چین میں رہتا ہے اور وہاں پر آبادی نے کنٹرول کا پروگرام اور رجحانات ان کی آبادی کو کم کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بہت کچھ ہے جو مغرب اور امریکہ کو خوفزدہ کر چکا ہے اور یہ خوف ہی ہے کہ تیس سال بعد پاکستان سمیت مسلمانوں کے ملکوں میں برتھ کنٹرول کے سوئے ہوئے محکمے زندہ ہو رہے ہیں۔ یہ تمام تدبیریں اور مہمات ناکامی کا منہ دیکھیں گی۔ اس لئے کہ یہ مغرب کے اس خوف سے پیدا ہوئی ہیں اور میرے آقا ﷺ کا دعویٰ ہے کہ روز حشر مجھے اپنی امت کی کثرت پر فخر ہو گا۔ کون ہے جو اس کثرت کو کم کر سکے۔ کوئی ہے۔ نہیں کوئی نہیں ہے۔
اشتہار


مسلمانوں کی کثرت کا خوف” ایک تبصرہ

  1. میرے آقا ﷺ کا دعویٰ عین حقیقت ہے۔حکمرانوں کی بہت لمبی چوڑی فہرست ہے لیکن نام نہاد مسلمانوں جن کو آج کل لبرل کہا جاتا وہ تو کسی کو آج بھی یاد نہیں ۔۔۔اسلئے عبرت کے ساتھ تاریخ کو بھی یاد رکھیں ۔دنیاوی زندگی میں اپنی آخرت برباد مت کریں۔۔
    آج کل لبرل لوگ پاکستان میں بھی ڈالر کے لالچ میں اسلام کو نظرانداز کر کے عوام کو آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔
    اللہ ان لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں