ایک عام غذائی جزو کی کمی ڈپریشن کی بڑی وجہ قرار

آئرلینڈ: ماہرین نے کہا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ایک انتہائی عام جزو ’وٹامن ڈی‘ کی کمی ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے اور 75 فیصد کیسز میں وٹامن ڈی جیسے اہم جزو کی کمی ہی ڈپریشن کا مرض پیدا کرتی ہے۔

چارسالہ تحقیق اور سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کس طرح معمولی سی احتیاط کرکے ذہنی تناؤ سے محفوظ رہ سکتے ہیں, اگر نوجوان بھی وٹامن ڈی کی مناسب مقدار کو یقینی بنائیں تو آگے چل کر ڈپریشن کے شکار نہیں بنتے۔

درمیانی عمر یا ضعیفی میں ڈپریشن معیار زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے اور یہاں تک وقت سے قبل موت سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں وٹامن ڈی کا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے جو ضعیف افراد کو اس خوفناک کیفیت سے باہر نکال سکتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرین بزرگوں کے لیے باقاعدہ طور پر وٹامن ڈی سپلیمنٹ تجویز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
ٹرینٹی کالج ڈبلن کے ماہرین نے یہ اہم تحقیق کی ہے جو اپنی نوعیت کا اہم مطالعہ ہے جس میں وٹامن ڈی اور ڈپریشن میں کمی کا واضح تعلق دکھایا گیا ہے۔ اس سروے میں 50 سے زائد عمر کے 4 ہزار کے قریب لوگ شامل تھے اور ان کا دو سال اور چار سال بعد دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

اس عرصے میں 400 افراد ڈپریشن کے شکار ہوئے اور ان کی اکثریت میں وٹامن ڈی کی کمی نوٹ کی گئی تھی جس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ بوڑھے افراد میں ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ روزانہ صبح 10 سے 12 بجے کی دھوپ میں کم سے کم نصف گھنٹہ گزارا جائے تاکہ جسم کو وٹامن ڈی سازی کے اجزا مہیا ہوسکیں۔

اشتہار


کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں