آپ کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟

ایک تصویر نے میری نیند اُڑا دی۔ تمام رات بستر پر پہلو بدلتا رہا۔ صبح بوجھل آنکھوں کے ساتھ اُٹھا تو یہ تصویر پھر میرے سامنے کھڑی تھی۔ جس کسی سے ملا وہ اسی تصویر کا ذکر کر رہا تھا۔ کوئی غمزدہ تھا اور کوئی خوفزدہ۔ پھر مجھے وزیراعلیٰ پنجاب کے ایک معاون کا فون آیا۔ اُنہوں نے یاد دہانی کرائی کہ آج حکومت پنجاب کے سو دن کی کارکردگی کے بارے میں خصوصی تقریب ایوانِ اقبال لاہور میں ہو رہی ہے اور آپ کو دعوت نامہ بھیجا جا چکا ہے، ضرور آیئے گا۔ فون بند ہوا تو وہ تصویر پھر سے آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی جس نے رات سونے نہیں دیا تھا۔ سوچا کہ آج وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان اس تصویر کا ذکر ضرور کریں گے کیونکہ یہ تصویر پورے پاکستان میں زیر بحث ہے۔ حکومت پنجاب کی کارکردگی کے بارے میں تقریب میں شرکت کیلئے ایوانِ اقبال کی طرف روانہ ہوا تو کئی سڑکیں بند تھیں۔ جگہ جگہ پولیس نے ناکے لگا رکھے تھے۔ بہرحال یہ ناچیز کچھ دیر کے بعد ایوانِ اقبال کے اندر پہنچ چکا تھا۔ وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے اگلی نشستوں پر بٹھا کر تاکید کی اب اُٹھئے گا مت، ورنہ نشست واپس نہیں ملے گی۔ کچھ ہی دیر میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تشریف لے آئے اور تقریب شروع ہو گئی۔ وزیر خزانہ مخدوم ہاشم نے اعداد و شمار کی مدد سے پچھلے دس سال کے دوران جنوبی پنجاب کیساتھ ہونیوالی ناانصافیوں کا ذکر کیا تو مظہر برلاس نے وزیراعلیٰ کے ایک اور معاون خصوصی عون چوہدری سے کہا کہ یہ نوجوان صوبائی وزیر خزانہ وفاق کے وزیر خزانہ کے مقابلے میں کہیں بہتر انداز میں اپنا موقف پیش کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار آئے۔ انہوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ ایک لکھی ہوئی تقریر پڑھنا شروع کی۔ وہ اپنی حکومت کے پہلے سو دن کی کارکردگی بیان کر رہے تھے اور میں نجانے کیوں اس انتظار میں تھا کہ عثمان بزدار بھی اس تصویر کا ذکر کریں گے جس نے رات مجھے سونے نہیں دیا۔ اُنہوں نے بھرپور تالیوں کی گونج میں اپنی تقریر ختم کی اور تصویر کا ذکر کئے بغیر واپس اپنی نشست پر جا بیٹھے۔ اب وزیراعظم عمران خان کا خطاب شروع ہو چکا تھا۔ جب اُنہوں نے مشرقی پاکستان کیساتھ ہونیوالی ناانصافی کا ذکر کیا تو میرے دل کو کچھ اطمینان ہوا۔ عمران خان وہی کہہ رہے تھے جو میں بھی کہتا اور لکھتا رہتا ہوں اور اکثر ان باتوں کی وجہ سے غداری کے الزامات کا سامنا کرتا ہوں۔ عمران خان کہہ رہے تھے کہ بنگالیوں نے تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا لیکن ہم نے اُن کیساتھ انصاف نہیں کیا اسلئے وہ ہم سے علیحدہ ہو گئے لہٰذا ہم جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ناانصافی ختم نہ ہوئی تو مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ اب عمران خان اُس تصویر کا بھی ذکر کریں گے جس نے میری نیند اُڑا دی اس تصویر کا تعلق بھی ناانصافی کے ساتھ تھا۔
اشتہار



آپ سوچ رہے ہونگے یہ کون سی تصویر ہے جس کا ذکر میں عمران خان کی زبان سے سننا چاہتا تھا۔ تو جناب یہ تصویر اُس لاش کی تھی جس کے ہاتھوں میں زنجیریں تھیں۔ یہ لاش کسی چور، ڈاکو یا قاتل کی نہیں بلکہ سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کے سربراہ میاں محمد جاوید کی تھی۔ میاں محمد جاوید نے اپنی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے کہنے پر لاہور میں ایک کیمپس قائم کیا۔ نیب کو اس میں بدعنوانی نظر آئی تو وائس چانسلر سمیت میاں محمد جاوید کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ جیل میں سخت سردی کے باعث میاں محمد جاوید کی طبیعت خراب ہوئی لیکن جیل حکام نے توجہ نہ دی۔ جب اُنکی حالت خراب ہو گئی تو اُنہیں اسپتال بھجوایا گیا۔ اُنہیں جیل سے نکالا گیا تو وہ ہتھکڑی کے بغیر تھے لیکن جب اسپتال میں ڈاکٹروں نے اُنہیں مردہ قرار دیا تو اُن کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے اور پھر جب اس زنجیر زدہ لاش کی تصویر نے سوشل میڈیا پر کہرام مچایا تو جیل حکام، پولیس اور اسپتال والوں نے صفائیاں دینا شروع کر دیں۔ ابھی کچھ دن پہلے جب نیب والوں نے کیمپس بنانے کے جرم میں ملوث اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا تو سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ناانصافی اور ظلم کیخلاف اعلانِ جنگ کرنیوالا عمران خان میاں محمد جاوید کیساتھ بعد از موت ہونے والے ظلم کا ضرور ذکر کریگا کیونکہ موت کے بعد بھی اُن کی لاش کو ہتھکڑیوں سے آزاد نہ کیا گیا تھا۔ اس ظلم کو دیکھ کر مجھ سمیت کئی پاکستانیوں کو نیند نہیں آئی، عمران خان کو کیسے آئی ہو گی؟ میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویدار عمران خان کو بھی نیند نہیں آئی ہو گی۔ وہ یہ کہہ کر اس تصویر کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ میاں محمد جاوید کے خلاف مقدمہ ہمارے دورِ حکومت میں قائم نہیں ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ جس دن عمران خان اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے عین اُسی دن لاہور کی کیمپ جیل میں میاں محمد جاوید سردی سے ٹھٹھر کر مر رہا تھا۔ عمران خان کی تقریر پر بار بار تالیاں بج رہی تھیں۔ جب اُنہوں نے پاکستان میں غیر مسلموں کو تحفظ دینے پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں نریندر مودی کو بتانا ہے کہ پاکستان کی اقلیتیں بھارت کی اقلیتوں سے زیادہ محفوظ ہیں تو میں نے بھی تالی بجائی۔ابھی پچھلے ہی ہفتے میں نے مشہور ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہتھکڑیوں میں تصویر دیکھی تو سوچنے لگا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنیوالے کسی سیاستدان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش نہیں کیا جاتا لیکن چند کروڑ کی کرپشن کے الزام میں ملوث ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا کیوں ضروری تھا؟ میں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے بلا لیا۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ آپ کو پتا ہے جب ڈاکٹر شاہد مسعود نے سرکاری ٹی وی کی سربراہی قبول کی تو میرا موقف تھا کہ صحافیوں اور اینکرز کو سرکاری عہدے نہیں لینا چاہئیں جسکے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود نے میرے بارے میں بڑی نامناسب باتیں کیں۔ کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اُنہوں نے اسے ڈرامہ قرار دیا یہاں تک کہا کہ حامد میر کو گولیاں نہیں لگیں حالانکہ دو گولیاں ابھی تک میرے جسم کے اندر ہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ موصوف پر کیا الزام ہے، معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، فیصلہ بھی عدالت کو کرنا ہے۔ مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر شہباز شریف، سعد رفیق، شرجیل میمن اور دیگر سیاستدانوں کو ہتھکڑیوں کے بغیر عدالتوں میں لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑی کیوں لگائی گئی؟ وہاں موجود نعیم الحق صاحب نے میرے موقف کی تائید کی اور وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرینگے۔ کچھ دن پہلے میں ایک زندہ انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا معاملہ لے کر عمران خان کے پاس گیا تھا، اب ایک لاش کی عزتِ نفس مجروح ہونے پر مجھے توقع تھی کہ عمران خان کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے کیونکہ مدینہ کی ریاست میں یہ ظلم ناقابل برداشت ہے۔ مجھے انتظار ہی رہا اور عمران خان اپنی تقریر ختم کر کے واپس چل دیئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر قائداعظم کے پاکستان میں انصاف ہار گیا تو تحریک انصاف کیسے جیتے گی؟ میاں محمد جاوید نے پاکستان توڑا نہ آئین توڑا لیکن اُسے سزا مل گئی۔ یہاں آئین توڑنے والے کو سزا نہیں ملتی تو پھر یہ مدینہ کی ریاست کیسے بنے گی؟ ہتھکڑی والی لاش کی تصویر انصاف کا نوحہ ہے، انصاف کی موت پر مجھے نیند نہیں آئی تو حکمرانوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں