ansar-abbasi

میت کو ہتھکڑی پہنا دی

ذرائع کے مطابق درسگاہ بنانے کے الزام میں نیب کی طرف سے گرفتار کیے گئے پروفیسر میاں جاوید تین دن لاہور کیمپ جیل کی نیب کے ملزمان کے لیے مختص بیرک میں سینے کی تکلیف کی شکایت کرتے رہے لیکن اُنہیں اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ دو روز قبل کیمپ جیل کی اسی بیرک میں اُن کا انتقال ہو گیا جس پر جیل کے عملے میں کھلبلی مچ گئی۔ اُنہیں فوری اسپتال بھیجنے کا بندوبست کیا گیا لیکن ذرائع کے مطابق اُس وقت اُن کی موت واقع ہو چکی تھی۔ جیل سے اسپتال منتقل کرتے وقت یا اسپتال پہنچ کر کس وقت انہیں ہتھکڑی پہنائی گئی، اس کا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا لیکن یہ حقیقت ہے کہ میاں جاوید نہیں بلکہ اُن کی میت کو ہتھکڑی پہنائی گئی جو انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت عمل تھا۔ اساتذہ کو اُن کی زندگیوں میں ہتھکڑی پہنا کر ساری دنیا کے سامنے مارچ کروانے کا ذلت آمیز انداز تو پہلے ہی نیب یہاں اپنا چکی تھی جس پر نہ کسی کو سزا ملی، نہ ہی کسی کو نوکری سے نکالا گیا بلکہ معافی مانگنے پر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے متعلقہ نیب افسران کو معاف کر دیا۔ اب تو حد ہی ہو گئی کہ ایک پروفیسر کے مرنے کے بعد اُس کی میت کو ہتھکڑی پہنا ئی گئی اور ابھی تک نہ کسی کو معطل کیا گیا نہ ہی کوئی سوموٹو ایکشن لیا گیا۔ متعلقہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں اور سب سے زیادہ لاتعلقی اور بے حسی کا اظہار اُس ادارہ نیب کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو مرحوم پروفیسر اور ان جیسے لاتعداد افراد کو محض الزام کی بنیاد پر لمبے عرصے کے لیے جیلوں میں ڈالنے کا سبب بن رہا ہے۔ نیب ترجمان کے مطابق‘ مرنے والے میاں جاوید جیل میں تھے نہ کہ نیب کے پاس۔ کوئی نیب سے پوچھنے والا ہے کہ کس کی وجہ سے مرحوم جیل میں پہنچے؟ نہ کوئی ریفرنس بنا، نہ کسی کرپشن کا ثبوت عدالت میں پیش کیا گیا۔ بیچارے میاں جاوید کو نیب نے عادی مجرموں کی طرح پکڑا، اُنہیں ہتھکڑی لگا کر عدالت کے سامنے پیش کرتے رہے، پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعے بدنام کیا گیا اور اب کہا جا رہا ہے کہ نیب کا تو کوئی قصور ہی نہیں۔

اشتہار


یہ عجیب طریقۂ احتساب ہے کہ بغیر ثبوت جس کو چاہو، الزام لگا کر پکڑ لو اور پھر مہینوں، سالوں تک جیل میں ڈال دو۔ جیل تو جرم ثابت ہونے پر دی جانی چاہئے لیکن پاکستان کا نظام بھی خوب ہے کہ ملزمان کو کرپشن جیسے مقدمات میں بھی مہینوں بلکہ سالوں جیل میں ڈالنے کے بعد باعزت برّی کر دیا جاتا ہے۔ ویسے نیب کا سارا زور میڈیا کے ذریعے دوسروں کی عزت کو تار تار کرنے تک محدود رہتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ نیب کا اپنے تمام ملزمان کے ساتھ ایک سا سلوک ہے۔ میاں جاوید کو تو انکوائری اسٹیج پر ہی گرفتار کر لیا گیا لیکن کتنے ایسے افراد ہیں جنہیں انویسٹی گیشن بلکہ ریفرنس دائر ہونے پر بھی گرفتار نہیں کیا جاتا۔ نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ جسے چاہے گرفتار کرے اور جسے چاہے کھلا چھوڑ دے، جس کے متعلق چاہے کیس کھولے اور اُسے تیزی سے چلائے، جسے چاہے رعایت دے اور اُس کے کیس کی تحقیقات کو سست اور فائل کو دبا دے۔ یہی وہ اختیار ہے جس کا ہمیشہ نیب نے غلط استعمال کیا۔ اسی اختیار کی وجہ سے نیب کو ہمیشہ کبھی ایک سیاسی پارٹی اور کبھی دوسری سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جو احتساب کے نام پر پاکستان میں ہو رہا ہے اس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کئی بار نیب سے متعلق اپنے اعتراضات کے باوجود ابھی تک اس ادارے کی زیادتیوں پر قابو پانے کے لیے کوئی حتمی اقدام نہیں کیا۔ پاکستان کے سیاستدان بھی چاہے اُن کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے، نیب سے خوش نہیں لیکن اس ادارے کو ٹھیک کرنے کے لیے اُن میں اتفاق نہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف نیب کو استعمال کیے جانے پر خوش ہوتے یا خاموش رہتے ہیں مگر جب ان کی اپنی باری آتی ہے تو پھر انہیں خیال آتا ہے کہ اب دیر ہو گئی ہے۔ یہی حال آج کل ن لیگ کا ہے، وہ وقت دور نہیں جب تحریک انصاف والے بھی یہی کہیں گے کہ غلطی ہو گئی، کاش نیب کو ٹھیک کر دیا ہوتا۔

اشتہار


آپ سوچ رہے ہونگے یہ کون سی تصویر ہے جس کا ذکر میں عمران خان کی زبان سے سننا چاہتا تھا۔ تو جناب یہ تصویر اُس لاش کی تھی جس کے ہاتھوں میں زنجیریں تھیں۔ یہ لاش کسی چور، ڈاکو یا قاتل کی نہیں بلکہ سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کے سربراہ میاں محمد جاوید کی تھی۔ میاں محمد جاوید نے اپنی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے کہنے پر لاہور میں ایک کیمپس قائم کیا۔ نیب کو اس میں بدعنوانی نظر آئی تو وائس چانسلر سمیت میاں محمد جاوید کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ جیل میں سخت سردی کے باعث میاں محمد جاوید کی طبیعت خراب ہوئی لیکن جیل حکام نے توجہ نہ دی۔ جب اُنکی حالت خراب ہو گئی تو اُنہیں اسپتال بھجوایا گیا۔ اُنہیں جیل سے نکالا گیا تو وہ ہتھکڑی کے بغیر تھے لیکن جب اسپتال میں ڈاکٹروں نے اُنہیں مردہ قرار دیا تو اُن کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے اور پھر جب اس زنجیر زدہ لاش کی تصویر نے سوشل میڈیا پر کہرام مچایا تو جیل حکام، پولیس اور اسپتال والوں نے صفائیاں دینا شروع کر دیں۔ ابھی کچھ دن پہلے جب نیب والوں نے کیمپس بنانے کے جرم میں ملوث اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا تو سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ناانصافی اور ظلم کیخلاف اعلانِ جنگ کرنیوالا عمران خان میاں محمد جاوید کیساتھ بعد از موت ہونے والے ظلم کا ضرور ذکر کریگا کیونکہ موت کے بعد بھی اُن کی لاش کو ہتھکڑیوں سے آزاد نہ کیا گیا تھا۔ اس ظلم کو دیکھ کر مجھ سمیت کئی پاکستانیوں کو نیند نہیں آئی، عمران خان کو کیسے آئی ہو گی؟ میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویدار عمران خان کو بھی نیند نہیں آئی ہو گی۔ وہ یہ کہہ کر اس تصویر کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ میاں محمد جاوید کے خلاف مقدمہ ہمارے دورِ حکومت میں قائم نہیں ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ جس دن عمران خان اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے عین اُسی دن لاہور کی کیمپ جیل میں میاں محمد جاوید سردی سے ٹھٹھر کر مر رہا تھا۔ عمران خان کی تقریر پر بار بار تالیاں بج رہی تھیں۔ جب اُنہوں نے پاکستان میں غیر مسلموں کو تحفظ دینے پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں نریندر مودی کو بتانا ہے کہ پاکستان کی اقلیتیں بھارت کی اقلیتوں سے زیادہ محفوظ ہیں تو میں نے بھی تالی بجائی۔ابھی پچھلے ہی ہفتے میں نے مشہور ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہتھکڑیوں میں تصویر دیکھی تو سوچنے لگا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنیوالے کسی سیاستدان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش نہیں کیا جاتا لیکن چند کروڑ کی کرپشن کے الزام میں ملوث ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا کیوں ضروری تھا؟ میں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے بلا لیا۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ آپ کو پتا ہے جب ڈاکٹر شاہد مسعود نے سرکاری ٹی وی کی سربراہی قبول کی تو میرا موقف تھا کہ صحافیوں اور اینکرز کو سرکاری عہدے نہیں لینا چاہئیں جسکے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود نے میرے بارے میں بڑی نامناسب باتیں کیں۔ کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اُنہوں نے اسے ڈرامہ قرار دیا یہاں تک کہا کہ حامد میر کو گولیاں نہیں لگیں حالانکہ دو گولیاں ابھی تک میرے جسم کے اندر ہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ موصوف پر کیا الزام ہے، معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، فیصلہ بھی عدالت کو کرنا ہے۔ مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر شہباز شریف، سعد رفیق، شرجیل میمن اور دیگر سیاستدانوں کو ہتھکڑیوں کے بغیر عدالتوں میں لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑی کیوں لگائی گئی؟ وہاں موجود نعیم الحق صاحب نے میرے موقف کی تائید کی اور وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرینگے۔ کچھ دن پہلے میں ایک زندہ انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا معاملہ لے کر عمران خان کے پاس گیا تھا، اب ایک لاش کی عزتِ نفس مجروح ہونے پر مجھے توقع تھی کہ عمران خان کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے کیونکہ مدینہ کی ریاست میں یہ ظلم ناقابل برداشت ہے۔ مجھے انتظار ہی رہا اور عمران خان اپنی تقریر ختم کر کے واپس چل دیئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر قائداعظم کے پاکستان میں انصاف ہار گیا تو تحریک انصاف کیسے جیتے گی؟ میاں محمد جاوید نے پاکستان توڑا نہ آئین توڑا لیکن اُسے سزا مل گئی۔ یہاں آئین توڑنے والے کو سزا نہیں ملتی تو پھر یہ مدینہ کی ریاست کیسے بنے گی؟ ہتھکڑی والی لاش کی تصویر انصاف کا نوحہ ہے، انصاف کی موت پر مجھے نیند نہیں آئی تو حکمرانوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں