fawad-chaudhry

پی پی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ 2016 سے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کے درمیان تھا، یہ کیسز تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں بنائے، جے آئی ٹی نے بتایا کہ کس طرح لوگوں کا پیسہ لندن میں خرچ ہوتا رہا، جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پر (ن) لیگ کیوں خاموش رہی تاہم اب کچھ لو اور کچھ دو کی سیاست کا زمانہ ختم ہوگیا، نواز شریف اور زرداری کی سیاست دفن ہوچکی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزرا میں سے کسی نے نہیں کہا کہ گورنر راج لگایا جارہا ہے، کچھ دنوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کا تختہ الٹنے جا رہی ہے، سندھ میں گورنر راج کی میڈیا پر خبریں چلتی آ رہی ہیں تاہم یہ خبریں بے بنیاد تھیں، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم سندھ حکومت بدلنے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کا پیسہ لندن اور دبئی میں خرچ ہوتا رہا، غریبوں اور کسانوں کا پیسہ آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں آتا رہا، پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک دوسروں کی کرپشن پر پردہ ڈالتے رہے تھے، دونوں جماعتوں نے باریاں لگائی ہوئی تھیں، عمران خان کے آنے سے ان کی باریاں ختم ہوگئیں اور ان کی کرپشن بھی سامنے آگئی۔

فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ استعفی دیں اور پیپلز پارٹی سے کوئی اور وزیراعلیٰ بن جائے، 2 وفاقی وزرا نے الزامات کی روشنی میں اپنے استعفے وزیراعظم کو پیش کیے، ہم نے جو اصول اپنے لیے طے کیے انہی اصولوں پر دوسروں سے بات کر رہے ہیں لہذا مراد علی شاہ کو اصولی طور پر اپنے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آپ کے ابو حکومت نہیں گرا سکے آپ کیا گرائیں گے، پی پی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں، مجھے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے خود فون کیا ہے لہذا مرادعلی شاہ عہدے سے ہٹ جائیں ورنہ اسمبلی انہیں ہٹاسکتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جی آئی ٹی نے 16 ریفرنسز دائر کرنے کی درخواست کی ہے، اب جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سپریم کورٹ کی روشنی میں ہوگا، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر بنی اب جو سپریم کورٹ حکم دے گی ادارے اس کے پابند ہوں گے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں