روس کا ماسکو سے امریکی جاسوس کی گرفتاری کا دعویٰ

روس کی سیکیورٹی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ماسکو سے جاسوسی کے الزام میں ایک امریکی شخص کو گرفتار کرلیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس کی سیکیورٹی ایجسنی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کا کہنا ہے کہ امریکی شخص کو رنگے ہاتھوں روس مخالف سرگرمیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

ایف ایس بی کا اپنے ایک بیانیے میں کہنا تھا کہ مذکورہ شخص کے خلاف جاسوسی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس کی سزا 20 سال قید تک کی ہے۔

بیانیے میں بتایا گیا کہ مذکورہ امریکی جاسوس نے روس میں جو نام اختیار کیا ہوا تھا اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ پال وہیلم ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ ماسکو میں امریکی جاسوس کی گرفتاری کا معاملہ ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب خود روس مغرب کے ساتھ ان معاملات میں الجھا ہوا ہے۔

روس کے صدر ویلادی میر پیوٹن نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ ممالک جاسوسی کے الزامات لگا کر ماسکو کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور روس ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں اور دونوں ممالک کے حلیف بھی ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔

دونوں ممالک وقتاً فوقتاً ایک دوسرے پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے مقامی میڈیا میں ایک دوسرے کے جاسوسوں کو گرفتار کرنے کی خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

دونوں ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کا سب سے بڑا الزام امریکا میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد سامنے آیا۔

امریکی حکام کی جانب سے ماسکو پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2016 کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے روسی ہیکرز نے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کر لیے تھے جس کا براہ راست اثر اس کے نتائج پر پڑا۔

تاہم روس کی جانب سے ہمیشہ ہی اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ماسکو نے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں