Orya-Maqbool-Jan

ریاست مدینہ: مقصد اولیٰ کیا ہے

جمہوریت اور جمہوری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس کی معراج اور کامیابی کی منزل مادی خوش حالی سے زیادہ نہیں۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک کی سیاسی پارٹی کے منشور کو اٹھا کر دیکھ لیں اس کے اندر دنیا میں کامیابیوں کی ایک طویل فہرست دی گئی ہوگی۔ بہت سے بلند بانگ دعوے کئے گئے ہوں گے کہ اگر ہم برسراقتدار آ گئے تو صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، شاندار مواصلاتی نظام، بہترین شاہراہیں، تجارتی منڈیاں اور کاروباری سہولیات میسر کریں گے۔ یوں ہمارے برسراقتدار آنے سے خوشحالی راج کرے گی۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس ہو یا بھارت تمام سیاسی پارٹیاں ایسے ہی دعوے کرتی ہیں اور اپنے ان دعوئوں کی تکمیل کے لیے اپنے زمانہ اقتدار میں کوشش بھی کرتی ہیں تاکہ آئندہ بھی ان کا بھرم قائم رہے اور وہ اگلا الیکشن بھی جیت جائیں۔ دنیا بھر کے سیکولر، لبرل جمہوری نظام میں کسی سیاسی پارٹی کو فرد کے ذاتی دکھوں، خاندانی بکھیڑوں، نفسیاتی الجھنوں اور اخلاقی پستیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ کوئی سیکولر لبرل جمہوری پارٹی یہ دعویٰ لے کر کبھی نہیں اٹھے گی کہ وہ ایک ایسا نظام لے کر آئیں گے جس میں والدین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کی دیکھ بھال ان کے بچوں کے ذمہ ہوگی۔ وہ یہ دعویٰ تو کریں گی کہ ہم اتنے شاندار اولڈ ایج ہوم بنائیں گے کہ گھر سے بے گھر کئے گئے والدین کو کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہو سکے لیکن وہ اولاد کو گھر سے نکالنے پر کٹہرے میں نہیں کھڑا کرے گی کہ تم نے ان والدین کو کیوں بے آسرا کردیا جنہوں نے تمہیں انتہائی مصیبت، محنت اور محبت سے پالا تھا۔ جمہوری سیاست کے ریڈار پر گھروں کے ٹوٹنے، طلاق کی شرح کے بڑھنے، اولاد کے بے راہ رو ہونے کے علاج کا بھی کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ وہ ایک مطلقہ کے لیے الائونس تو لگا سکتے ہیں، ایک ٹوٹے خاندان کے تنہا رہ جانے والے بچے کے لیے ہوسٹل اور تعلیمی سہولت تو فراہم کرسکتے ہیں لیکن ان کے پاس گھروں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ اسی طرح معاشرے میں روزبروز خاندانی بے وفائیوں اور اخلاقی زوال کے نتیجے میں جو خاندانی نظام تباہ ہورہا ہے، کسی الیکشن میں اس خاندانی نظام کی بحالی کے لیے بھی کوئی نعرہ شامل نہیں ہوتا۔ البتہ گھریلو تشدد سے لے کر زبردستی ازدواجی تعلقات قائم کرنے پر قانونی تحفظ اور عدالتوں کے دروازے ضرور کھولے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی کسی سیکولر، جمہوری اور لبرل معاشرے کی ترقی ناپی جاتی ہے تو اس کی پیمائش میں شرح نمو، برآمدات اور درآمدات کا توازن، فاریکس ریزرو، سڑکوں کی حالت، ہسپتالوں میں فی ڈاکٹر مریضوں کی تعداد، سکولوں میں بچوں کے داخلے کی تعداد، شرح خواندگی، لیٹیرین کی سہولت، سیوریج سسٹم یا صاف پانی کی سہولت کا تو ذکر ہوتا ہے لیکن بڑے سے بڑے کامیاب جمہوری معاشرے میں بھی ترقی ناپنے کا یہ پیمانہ کبھی نہیں ہوا کہ اس سال کتنے بوڑھے اولڈ ایج گھروں سے کم ہوئے، کتنی طلاقیں کم ہوئیں، بغیرشادی کم سن بچیوں میں ماں بننے کے رجحان میں کس قدر کمی واقع ہوئی۔ کتنے بچے اس گزشتہ سال میں سنگل والدین، یعنی صرف ماں یا صرف باپ کی کفالت کی بجائے دونوں کی بیک وقت محبت کے مضبوط حصار میں رہے۔ یہ پیمانے انہوں نے انسان کی ذات پر چھوڑ دیئے ہیں اور یہ جدید جمہوری سیکولر لبرل ریاست کا موضوع ہی نہیں ہیں۔
اشتہار



ان کے نزدیک انصاف یہ ہے کہ عورت کس طرح عدالت سے اپنے بچے کو خاوند سے چھینتی ہے یا اولاد کیسے بوڑھے والدین کو فاترالعقل قرار دے کر ان کی جائیداد پر عیش کرتی ہے۔ یہ موضوع سیکولر، لبرل یا جمہوری معاشرے کا کیوں نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام نظام ایک بہت بڑی کاروباری اسٹیبلشمنٹ ہے، جس میں ہر فرد اس کے کاروبار کو بڑھانے کے لیے کارآمد پرزہ ہے اور اسے مسلسل اس بہت بڑی فیکٹری، جسے ریاست کہتے ہیں، میں کام کرتے رہنا چاہیے۔ اسی لیے گھر کے ہر فرد کو ایک کردار یا رول دیا جاتا ہے جو اسے ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایک عورت کے گلے میں کبھی بھی اس بات پر میڈل نہیں پہنایا جائے گا کہ اس نے دو بچوں کی ایسی پرورش کی کہ ان میں نہ کوئی اخلاقی برائی ہے اور نہ نفسیاتی بیماری، بلکہ وہ کامیاب ترین علمی اور پیشہ وارانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر اس کو بہترین پائلٹ، شاندار نرس، بزنس ایگزیکٹو یا پیشے کے اعتبار سے کامیاب ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی سے لے کر اعلیٰ ترین اعزازوں سے نوازا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی خدمت گزار بیٹے کے لیے ان معاشروں میں کوئی ایوارڈ نہیں، لیکن باپ کو دھکے دے کر گھر سے نکالنے والے کامیاب ادیب، شاعر، سول سرونٹ اور بزنس مین کو میڈل دیئے جاتے ہیں، ان کی یادگاریں قائم ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سیکولر، لبرل جمہوری معاشروں میں کامیابی کے ذاتی معیار بھی دنیا کی مادی زندگی کی ترقی کے گرد گھومتے ہیں لیکن ریاست مدینہ کا مقصدِ اولیٰ تو بالکل مختلف تھا۔ انبیاء دنیا میں کبھی بھی اس لیے نازل نہیں کیے گئے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہوئے یہ ترغیب دیں کہ آئو اگر تم اللہ کی جانب آئو گے تو تم مادی طور پر ترقی کرو گے۔ ہرگز نہیں بلکہ اللہ تو اس کے بالکل الٹ بتاتا ہے۔ سورہ الانعام کی یہ چار آئتیں ریاست مدینہ کا مقصد اولیٰ متعین کرتی ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں:’’اور ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کے ہاں رسول بھیجے تھے، پھر ہم نے انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں گرفتار کیا تاکہ وہ عجز و نیاز کو شیوہ بنائیں۔ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آتی تھی تو اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہو گئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے شیطان انہیں سمجھاتا رہا کہ وہ بڑے شاندار کام ہیں۔ پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، جس کے نتیجے میں وہ بالکل ناامید ہو کر رہ گئے۔ پھر ان ظالموں کی جڑکاٹ دی گئی اور اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔(الانعام42-45) اس وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ریاست مدینہ کا مقصد اولیٰ خوشحالی اور مادی ترقی ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ اللہ نے اسے اپنی پکڑ کی علامت بنایا ہے لیکن کمال ہے جمہوری نظام کی برکات کا کہ مسجد کے منبرومحراب پر درس دینے والا، مدارس کا فارغ التحصیل عالمِ دین یا اسلام کے احیاء کا نعرہ بلند کرنے والا بھی جب جمہوری سیاست میں آتا ہے تو اس کے نزدیک بھی ریاستِ مدینہ کا تصور مادی ترقی کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔
اشتہار


ریاست مدینہ: مقصد اولیٰ کیا ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں