سپریم کورٹ کے ایک اورجج کا چیف جسٹس کے حکم سے اختلاف

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ایک اور جج نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے پشاور رجسٹری کے بینچ کے دوبارہ قیام سے متعلق حکم پر قانونی اعتراض اٹھاتے ہوئے اختلافی نوٹ تحریر کردیا۔

6 صفحات پر مشتمل اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریر کیا کہ بینچ کے کسی ممبر سے اختلاف پر ازخود نوٹس کے اختیارات پر سوالات اٹھانے والے جج (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو ہٹا کر چھوٹا بینچ تشکیل دینا جج کی آزاد رائے کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے اور یہ آزاد اور غیر جانبدار عدالتی نظام کی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے۔

اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا، جنہوں نے مارچ 2018 میں کیس کی سماعت کے دوران چھوٹے بینچ کو دوبارہ بنانے پر اعتراض اٹھائے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ہسپتال کے فضلہ سے متعلق کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ کو دوبارہ بنایا گیا تھا۔

جس کے بعد نئے بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نکال دیا گیا تھا اور چیف جسٹس اور جسٹس منظور علی شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔

بعد ازاں جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے علیحدہ اختلافی نوٹ میں اس بات کو تسلیم کیا کہ دوبارہ قائم کیے گئے بینچ میں بیٹھنا ان کی غلطی تھی اور قانونی پوزیشن کی جانچ کے بعد انہیں یہ احساس ہوا، جس پر انہوں نے دو رکنی بینچ کی جانب سے دیے گئے حکم پر دستخط نہیں کیے، تاہم وہ بینچ کے جونیئر ممبر کے طور پر چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ردعمل کے جواب میں ایک مناسب حکم کا انتظار کرتے رہے۔

اختلافی نوٹ میں انہوں نے تحریر کیا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے نوٹ پر چیف جسٹس کے حکم کا انتظار کرتے رہے کہ وہ اس روز چھوٹے بینچ کے قیام کی وجوہات بتائیں گے لیکن اب تک کوئی حکم سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں، لہٰذا بطور ممبر رکن میں نے آئینی ذمہ داری محسوس کی اور بھائی (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کے حکم سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور 19 مئی 2018 کے کیس میں اپنا حکم پاس کیا‘۔

جسٹس منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے قواعد چیف جسٹس کو بینچ تشکیل کرنے کا اختیار دیتے ہیں، بینچ کی تشکیل کے بعد معاملہ چیف جسٹس کے انتظامی اختیار سے باہر چلا جاتا ہے۔

اختلافی نوٹ کے مطابق بینچ تشکیل کے بعد جج ذاتی وجوہات پر کیس سننے سے انکار کریں تو نیا بینچ بنایا جاسکتا ہے لیکن بینچ کے کسی جج کے اختلاف پر بینچ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے لکھا کہ جج کے اختلاف کی بنیاد پر بینچ تبدیل کرنا آئین اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے، عدالتی نظام میں ہر جج غیر جانبدار، ایماندار ہونے کے ساتھ اپنی رائے دینے میں آزاد ہے۔

نوٹ کے مطابق اختلاف کو دبانا یا دفن کرنا آزاد انصاف کے نظام کی بنیادیں ہلا دے گا اور ایسے اقدام سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ہوگا، لوگوں کا اعتماد نظام انصاف کا اہم ترین اثاثہ ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعتراض پر چیف جسٹس کو تجویز دی کہ سماعت میں وقفہ کرکے معاملے پرچیمبر پر بحث کی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کھلی عدالت میں نئے بینچ کی تشکیل کا کہہ دیا۔

خیال رہے کہ سال 2018 میں سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مقدمات کی سماعت کرنا تھی۔

اس بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل تھی، تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئینی اور انسانی حقوق کے مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے پر سوالات اٹھائے تھے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں