واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ بکواس، روسی صدر سے ملاقات کی تفصیلات خفیہ نہیں رکھی: ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ویلادی میر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کی تفصیلات پوشیدہ رکھنے سے متعلق ’واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ‘ کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکی صدر نے ملاقات کے دوران موجود مترجم کو ہدایت کی کہ وہ ان کی پیوٹن کی ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘۔

اخبار کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ویلادی میر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات جولائی 2017 میں جرمنی کے ایک شہر ہمبرگ میں ہوئی تھی جس میں ان کے ہمراہ اس وقت کے سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹرلسن بھی موجود تھے۔

فوکس نیوز کو دیئے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو ’بکواس‘ قرار دیا۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ ’دو گھنٹے کی ملاقات کی تفصیلات کیوں جاری نہیں کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میری ملاقات بالکل ایسی ہی تھی جس طرح ہر صدر کی ہوتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک صدر کئی ممالک کے صدور کے ساتھ ملاقات کرتا ہے، ہم نے اسرائیل اور تل ابیب کو محفوظ بنانے کی باتیں کی اور بہت ساری باتیں بھی تھی، میں کچھ نہیں چھپا رہا‘۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ’گزشتہ دو برس کے دوران امریکا اور روسی صدر کی 5 ملاقاتیں ہوئیں جس کے بارے میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کی گئی‘۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے موجودہ اور سابقہ حکام کا حوالے دے کر انکشاف کیا گیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے درمیان ’خفیہ تعلقات‘ کی تحقیقات شروع کردی۔

امریکی اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسی وجہ نے ایف بی آئی نے سابق ڈائریکٹر جیمز کومے کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

2016 میں ہونے والے امریکی انتخابات جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے، کے بارے میں گمان ظاہر کیا جاتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے روس نے مداخلت کی تھی۔

علاوہ ازیں 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی اور انتخابی مہم میں روسی مداخلت پر بھی تفتیش شروع کی گئی تھی اور کئی عہدیداروں کو باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور متحدہ عرب امارات میں ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے معاونین کے درمیان ملاقات کا بھی انکشاف ہوا تھا۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں