javed-chaudhry-columns

آندھی میں اخبار کا کاغذ

ہم واپس 2014ء میں جاتے ہیں‘ عمران خان دس لاکھ لوگوں اور ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اسلام آباد تشریف لائے اور تاریخ کا طویل ترین دھرنا دے دیا‘ میں اس وقت اس دھرنے کے خلاف تھا‘اس گستاخی سے پہلے میرے عمران خان کے ساتھ آئیڈیل تعلقات تھے‘ میں نے 1996ء میں ان کی پہلی پریس کانفرنس سے لے کر2014ء تک ان کا بھرپور ساتھ دیا‘ یہ مجھ سے ستارہ مارکیٹ میں اپنے کارکنوں کو لیکچر بھی دلاتے تھے اور میں بازار روڈ پر بھی ان کے دفتر جاتا رہتا تھا‘ جنرل مجیب الرحمن اس وقت ان کے جنرل سیکریٹری اور اکبر ایس بابرسینٹرل وائس پریذیڈنٹ تھے لیکن عمران خان نے جب اسلام آباد پر یلغار کی تو میں نے ان کے طرز عمل کی مخالفت کی‘ اس مخالفت کی دو وجوہات تھیں۔

پہلی وجہ‘ میں یلغار کی پوری بیک گراؤنڈ سے واقف تھا‘ میں جانتا تھا اس کا مقصد حکومت تبدیل کرنا نہیں‘ حکومت کو دباؤ میں لانا اور اس دباؤ کے ذریعے حکومت سے کچھ حاصل کرنا ہے اور دوسری وجہ‘ یہ ملک دھرنے جیسے ٹرینڈز افورڈ نہیں کر سکتا‘ پاکستان پولرائزیشن کا شکار ملک ہے‘ یہاں تگڑے مذہبی گروپس بھی ہیں‘ مافیاز بھی‘ نسلی اور لسانی گروہ بھی اور باہر کی طاقتیں بھی‘ مجھے خطرہ تھا عمران خان کا دھرنا ریاست کی کمزوری پوری دنیا کے سامنے کھول دے گا اور یوں ملک کی چولیں ہل جائیں گی‘ یہ دونوں نقطے بعد ازاں سچ ثابت ہوئے‘ عمران خان کے دھرنے سے حکومت نہیں گری اور ریاست کی کمزوریاں بھی پوری دنیا کے سامنے آ گئیں‘ آپ علامہ خادم حسین رضوی کے دونوں دھرنوں کا تجزیہ کر لیجیے‘ آپ کو میرا نقطہ سمجھ آ جائے گا‘ میں 2014ء کے بعد مسلسل عرض کرتا رہا ہم نواز شریف کو نکال کر غلطی کر رہے ہیں‘ ملک کو اس کا نقصان ہو گا‘ میں یہ بھی کہتا رہا ہم نواز شریف کا احتساب نہیں کرنا چاہتے ‘ ہم بس ان کی انا اور عزت نفس پامال کرنا چاہتے ہیں۔

میرے یہ خدشات بھی درست نکلے‘ ہم نے نواز شریف کو نکالا اور ملک نے ڈھلوان کی طرف لڑھکنا شروع کر دیا‘ ہم احتساب میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے‘ احتساب اگر کسی شخص کو ڈیڑھ دو ماہ کے لیے جیل میں ڈالنا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں ہم کامیاب ہیں لیکن اگر مال مسروقہ برآمد کرنا بھی احتساب میں شامل ہے تو پھر ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں‘ ہم نے ایون فیلڈ میں نواز شریف کو سزا دی‘ ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کے فیصلے کو کمزور ڈکلیئر کر کے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا‘ شریف فیملی کے تینوں فلیٹس آج بھی ان کی ملکیت ہیں‘ یہ ہمیں کبھی نہیں ملیں گے‘ ہم نے العزیزیہ ملز میں بھی انھیں سزا دی‘ یہ فیصلہ بھی کمزور ہے‘ میاں نواز شریف جلد یا بدیر اس سے بھی نکل جائیں گے چنانچہ پھر ہم نے کیا کمایا‘ کیا حاصل کیا؟
میں بار بار یہ بھی عرض کرتا تھا عمران خان کا موقف اور نیت ٹھیک ہے لیکن ان کا طریقہ کاراور ٹیم دونوں اچھے نہیں‘یہ اپروچ اور یہ ٹیم ملک نہیں چلا سکے گی‘ میری یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی چنانچہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے پانچ ماہ نے عوام سمیت ہارون الرشید اور حسن نثار جیسے صحافیوں کے چھکے بھی چھڑا دیے‘ آج ملک کے اندر اور باہر پاکستان تحریک انصاف کے نوے فیصد چاہنے والے پریشانی میں دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں‘ میں انھیں تسلی دیتا ہوں لیکن یہ میری تسلی کو طنز سمجھتے ہیں چنانچہ میں ایک عجیب کنفیوژن‘ ایک عجیب المیے کا شکار ہوگیا ہوں‘ میں عمران خان کی مخالفت کرتا تھا مجھے اس وقت بھی گالی پڑتی تھی اور میں آج ان کی حمایت کرتا ہوں تو بھی لوگ مجھے گالی دیتے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں؟۔

آپ یقین کیجیے ہم نے نواز شریف کو نکال کر غلطی کی تھی‘ ہم نے اگراب عمران خان کو کام نہ کرنے دیا تو ہم پہلی سے زیادہ بڑی غلطی کریں گے‘ہمیں مان لینا چاہیے ہم نانی کی شادی کر چکے ہیں‘ ہمیں اب اسے طلاق دلانے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے‘ ہمیں اب حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے‘ملک کے دو اڑھائی سال مشکل ہیں لیکن پھر ملک ٹریک پر آ جائے گا‘ یہ لوگ ملک کو ٹھیک کر لیں گے‘ مجھے یقین ہے آپ کو میری بات پر یقین نہیںآئے گا لیکن میں آپ کو اس آبزرویشن کی فلاسفی سمجھاتا ہوں‘ ملکوں کی ترقی کے دو طریقے ہوتے ہیں‘ ہم پہلے طریقے کو نواز شریف میتھڈ کہہ سکتے ہیں‘ یہ میتھڈ امداد‘ قرضوں اور سپورٹ پر بیس کرتا ہے‘ ملک دھڑا دھڑ قرضے‘ امداد اور بڑی قوموں کی سپورٹ لیتے ہیں‘سڑکیں‘ پل‘ ڈیم‘ ائیرپورٹس اور بندرگاہیں بناتے ہیں اور بجلی اور گیس پوری کرتے ہیں‘ ملک میں صنعتکاروں اور تاجروں کی نئی کلاسز پیدا کرتے ہیں اور ملک ترقی کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں‘ یہ بعد ازاں کما کر اپنے قرضے بھی اتار دیتے ہیں۔
اشتہار



لاطینی امریکا ہو‘ آدھا یورپ ہو‘ مشرق بعید کے ترقی یافتہ ملک ہوں یا پھر سینٹرل ایشیا ہو آدھی دنیا نے اس طریقے سے ترقی کی‘ نواز شریف بھی یہ کر رہے تھے‘ یہ مانگ تانگ کر ملک کو ٹریک پر لا رہے تھے لیکن ہمیں یہ طریقہ پسند نہ آیا اور ہم نے انھیں بھی نکال دیا اور ان کے طریقے کو بھی‘ دوسرا طریقہ عمران خان میتھڈ ہے‘ بھارت اور چین سمیت دنیا کے بے شمار ملکوں نے غربت‘ افلاس‘ افراط زر‘ بیماری اور بے ہنگم آبادی کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا‘ یہ بھی غریبی میں ہنر اور نام پیدا کرتے کرتے بالآخر اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ بھی ترقی یافتہ کہلانے لگے‘ عمران خان میتھڈ کا دوسرا نام خود انحصاری ہے‘ یہ راستہ مشکل ضرور ہے‘ اس میں بے روزگاری‘ مہنگائی‘ بیماری‘ لوڈ شیڈنگ‘ افلاس‘ افراط زر اور قلت کے بے شمار کانٹے بھی آتے ہیں لیکن برازیل ہو‘ چلی ہو یا پھر اٹلی‘ جرمنی‘ چین اور بھارت ہوں دنیا کے بے شمار ملکوں نے اس کے ذریعے بھی ترقی کی‘ ہم نے بھی اب اس پر پاؤں رکھ دیا ہے‘ ہمیں اب یہ پاؤں واپس نہیں اٹھانا چاہیے۔

ہمارے لیے دو اڑھائی سال بہت مشکل ہوں گے‘ روپیہ مزید ڈی ویلیو ہو جائے گا‘ یہ 180 روپے فی ڈالر تک پہنچ جائے گا‘ ٹیکس کولیکشن میں بھی کمی آئے گی‘ اشیاء خورونوش کی قلت بھی پیدا ہو گی‘ گیس اور بجلی کی خوفناک لوڈشیڈنگ بھی ہو گی اور ملک میں بے روزگاری کا سونامی بھی آئے گا لیکن ہم اگر یہ تکلیفیں سہہ گئے تو ملک بہت جلد ٹریک پر آ جائے گا‘ ہم بھی برازیل‘ میکسیکو‘ یونان‘ چین اور بھارت کی طرح ٹیک آف شروع کر دیں گے مگر اس کا انحصار صرف اور صرف ہماری قوت برداشت پر ہے‘ ہم اگر تکلیف کا یہ دور برداشت نہ کر سکے اور ہم نے اگر عمران خان کو بھی نکال دیا تو پھر ہمارا بدترین دور شروع ہو جائے گا‘ ہم دلدل کا رزق بن کر رہ جائیں گے چنانچہ ہمارے پاس اب عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ ہمیں اسے حقیقت تسلیم کرلینا چاہیے ورنہ ہم بیچ راستے میں مارے جائیں گے تاہم میری عمران خان سے بھی درخواست ہے‘ یہ بھی اب کڑوا گھونٹ سمجھ کر ایک حقیقت مان لیں‘یہ تسلیم کر لیں یہ اپنی اس ٹیم کے ساتھ ملک بچا سکیں گے اور نہ چلا سکیں گے‘ حکومتی ٹیم میں کیا خرابی ہے‘ ہم اب اس طرف آتے ہیں۔

دنیا میں تین چیزیں ناتجربہ کاری‘ بے ہنری اورتکبر جہاں بھی اکٹھی ہو تی ہیں وہاں تباہی آ جاتی ہے اور عمران خان کی ٹیم کے نوے فیصد کھلاڑیوں میں یہ تینوں خامیاں موجود ہیں‘ پوری قوم روز وزراء کے تکبر کے مظاہرے دیکھتی ہے‘ پوری بیورو کریسی ان کی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں ذلیل ہو چکی ہے اور پورا سسٹم ان کی بے ہنری (کیپسٹی) دیکھ کر جام ہو گیا ہے‘ مجھے وزیراعظم آفس کے ایک صاحب نے بتایا‘ ہم نے آج تک سی سی آئی کے اجلاسوں میں عثمان بزدار اور محمود خان کی آواز نہیں سنی‘ یہ لوگ فائل تک نہیں پڑھ سکتے‘عثمان بزدار کتنے بڑے آئن اسٹائن ہیں آپ ایک مثال ملاحظہ کیجیے‘ سیہون شریف میں بزدار قبیلے کے لوگ رہتے ہیں‘ یہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سیہون شریف بلانا چاہتے ہیں‘ عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے خود کہا‘ میں کراچی اور سیہون شریف آنا چاہتا ہوں‘ میں نے آج تک کراچی نہیں دیکھا‘ آپ اندازہ کیجیے ہم نے ملک کا سب سے بڑا صوبہ اس آئن اسٹائن کے حوالے کر دیا۔

میں دل سے سمجھتا ہوں اگر جہانگیر ترین یا علیم خان بھی وزیراعلیٰ ہوتے تو آج یہ صوبہ مختلف ہوتا‘ آپ چوہدری پرویز الٰہی کو ہی وزیراعلیٰ بنا دیں لیکن صوبے کو چلنے دیں ورنہ بیڑہ غرق ہو جائے گا‘ آپ پرویز خٹک کو دوبارہ کے پی کے میں لے آئیں‘ وہاں بھی تباہی ہو رہی ہے‘ دوسراہماری وفاقی کابینہ سیلفیوں اور سوشل میڈیا پر چل رہی ہے‘ صرف چار لوگ شاہ محمود قریشی‘ اسد عمر‘ محمدمیاں سومرو اور عمر ایوب کابینہ کے اجلاس میں خاموش بیٹھتے ہیں یا پھر کام کی بات کرتے ہیں‘ باقی تمام وزراء کی اچیومنٹ یہ ہوتی ہے ہم نے فلاں بیان دے کر‘ ہم نے فلاں پریس کانفرنس کر کے اور ہم نے فلاں ٹاک شو میں فلاں کی بولتی بند کر کے کمال کر دیا‘ یہ لوگ سارا دن ٹویٹس بھی کرتے رہتے ہیں‘ آپ یقین کر لیجیے اس سے ملک نہیں چل سکے گا‘ حکومت بار بار دعویٰ کر رہی ہے ہم نے امپورٹس کم کر دی ہیں‘ یہ لوگ یہ تک سوچنے کے لیے تیار نہیں اس کی وجہ حکومت کی اچھی پالیسیاں نہیں ہیں‘یہ کارنامہ ترقیاتی کاموں کی بندش اور ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام نے سرانجام دیا‘ ملک میں جب ترقیاتی کام ہی نہیں ہوں گے اور صنعت کاروں کو ڈالر کی قیمت پر اعتماد نہیں ہوگا تو ملک میں امپورٹس خود بخود کم ہو جائیں گی چنانچہ حکومت کو اب جاگنا ہوگا۔

یہ اگر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو پھر انھیں قائداعظم‘ لیاقت علی خان اور ایوب خان بننا ہوگا اور یہ تینوں انتہائی سنجیدہ تھے‘ یہ سر پیچھے گرا کر کرسیوں پر نہیں جھولتے تھے‘ یہ روز سیلفیاں نہیں بناتے تھے‘ یہ روز پریس ٹاک نہیں کرتے تھے اور یہ ہروقت ٹویٹر پربھی نہیں ہوتے تھے‘ یہ خاموشی سے کام کرتے تھے اور دنیا کا کوئی شخص انھیں متکبر یا غیرسنجیدہ نہیں کہتا تھا لہٰذا حکومت کو اب سنجیدہ بھی ہونا پڑے گا اور عاجزی بھی اختیارکرنی پڑے گی ورنہ دوسری صورت میں جس دن عوام یا بیورو کریسی کسی ایک وزیر کے سامنے کھڑی ہو گئی اس دن یہ سارا سسٹم آندھی میں اخبار کا کاغذ بن جائے گا‘ یہ حکومت بری طرح بکھر جائے گی چنانچہ خان صاحب آپ جاگ جائیں‘ آپ آنکھیں کھول لیں‘ سیلاب گھر کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

اشتہار


آندھی میں اخبار کا کاغذ” ایک تبصرہ

  1. شکریہ چوہدری صاحب..ایسی تنقید جس میں اصلاح ھو اور وس میں مسئلے کے حل کی طرف اشارہ ہو اچھی لگتی ھے

اپنا تبصرہ بھیجیں