مینڈکوں کی سات نئی اورانتہائی چھوٹی اقسام دریافت

نئی دہلی: بھارتی سائنسدانوں نے جنوبی بھارت میں مغربی گھاٹ کے علاقے سے مینڈکوں کی 7 نئی اقسام دریافت کی ہیں جن میں سے 4 اتنی چھوٹی ہیں کہ ایک روپے کے سکّے پر بھی آسانی سے سما جائیں۔

ان تمام مینڈکوں کا تعلق ’’نکٹی بیٹریکس‘‘ جنس سے ہے جنہیں مقامی طور پر ’’رات کے مینڈک‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ انہیں یونیورسٹی آف دہلی کی پی ایچ ڈی طالبہ اور دیگر ماہرین نے 5 سالہ تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے۔

ان مینڈکوں کی چار اقسام کی جسامت 12.2 ملی میٹر سے 15.4 ملی میٹر تک ہے جو ایک روپے کے سکّے یا انگوٹھے کے ناخن پر بڑے آرام سے براجمان ہوسکتے ہیں۔ یہ جنوبی بھارت میں مغربی گھاٹ کے گھنے جنگلات اور دلدلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت کیچڑ میں گزارتے ہیں۔

مینڈکوں کے اب تک دریافت نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے طالبہ کا کہنا تھا کہ یہ جسامت میں بہت ہی چھوٹے ہیں جب کہ ان کی آواز بھی ٹڈوں اور جھینگروں جیسی ہوتی ہے جس کی بناء پر اب تک انہیں مینڈکوں کی علیحدہ اقسام کے طور پر شناخت نہیں کیا جاسکا تھا۔

اس دریافت کے ساتھ ہی نکٹی بیٹریکس مینڈکوں کی معلومہ انواع کی تعداد 35 ہوگئی ہے جن میں سے 7 کی جسامت 18 ملی میٹر یا اس سے بھی کم ہے۔ خیال ہے کہ یہ مینڈک آج سے تقریباً 7 کروڑ سے 8 کروڑ سال پہلے وجود پذیر ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ جل تھلیوں (ایمفی بیئنز) کے حوالے سے بھارت کے مغربی گھاٹ کا علاقہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2006 سے 2015 کے دوران یہاں سے جل تھلیوں کی 103 انواع دریافت ہوئیں جب کہ اسی عرصے میں دنیا بھر سے 1581 نئے جل تھلئے دریافت ہوئے تھے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی ماحول میں انسانی دخل اندازیوں کی وجہ سے ان مینڈکوں کی ایک تہائی اقسام پہلے ہی معدومیت کے خطرے میں مبتلا ہیں اور اگر توجہ نہ دی گئی تو شاید یہ علاقہ جلد ہی نہ صرف مینڈکوں سے بلکہ زندگی کی دوسری کئی اقسام سے بھی محروم ہوجائے گا۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں