وفاق خطرے میں

ملک میں یوں محسوس ہورہا ہے جیسے ہوا کا رخ بھانپنے کے لیے بعض مسائل پر ہوائیاں اڑائی جا رہی ہیںاور بعض حلقوں کی طرف سے باقاعدہ رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے بحث کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘دو نکات پر خاص طور سے زور دیا جا رہا ہے‘معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مہربان 73ء کے آئین میں 18ویں ترمیم سے خوش نہیں ہیں بلکہ بعض حلقوں کی طرف سے پارلیمانی جمہوریت کے خلاف مختلف دلائل دیے جا رہے ہیں اور صدارتی نظام کے حق میں دلائل کے انبار لگائے جا رہے ہیں‘حالانکہ اگر حساب لگایا جائے تو ملک کے قیام کے بعد زیادہ عرصہ ہم نے صدارتی نظام میں گزارا ہے۔گورنر جنرل کے بعد جنرل ایوب خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی مارشل لائی حکومتیں تو صدارتی نظام کی بہترین مثالیں ہیں‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان‘ سیاچن اور کارگل کے سانحات بھی صدارتی دور میں پیش آئے تھے‘اس مسئلے کی زیادہ فکر تحریک انصاف کو ہونی چاہیے کیونکہ صدارتی نظام میں ان کی جگہ نہیں ہوگی۔

پورے نظام کو مرکزیت پسند‘جنگ پسند اور غیر جمہوری قوتوں کی مرضی کے مطابق بدلنے کے لیے شاید تحریک انصاف کو لایا گیا ہے‘حالانکہ ان کو غیر جمہوری ارادوں کا مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ حکومت عارضی اور نظام مستقل ہوتا ہے۔آج کی صورتحال میںوفاق اور وفاقیت پھر نشانے پر ہے‘ مرکزیت پسند قوتیں اٹھارویں ترمیم کی جمہوری تشکیل‘منشاء اور وفاقی اکائیوں کی صوبائی خود مختاری پر حملہ آور ہو رہی ہیں۔اسی مقصد کے حصول کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کو پہلے ہی کمزور وزراء اعلیٰ کی شکل میں مرکزسے ریموٹ کنٹرول یا پراکسیوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور بلوچستان میں ایسی حکومت کو لایا گیا ہے جس کی نہ کوئی بنیاد ہے اور نہ کوئی پارٹی یا تنظیم ۔اسٹیبلشمنٹ تعریف کی مستحق ہے کہ بڑی بڑی جمہوریت پسند قوتوں کی موجودگی میں اس نے ایسا کھیل کھیلا جو کسی بھی بڑے سے بڑے جادوگر کے بس کی بات نہ ہوتی ‘سندھ ان کی دسترس سے باہر ہے جو آنکھوں میں کھٹک رہا ہے‘ہر وقت اس پر حملہ آور ہونے کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

وفاق اور وفاقی اکائیوں کے مابین اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے سوال پر جمہوری اورنوآبادیاتی دور کی آمرانہ قوتوں کے درمیان کشمکش کی ایک لمبی تاریخ ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو ہندوستان کی تقسیم کی بڑی وجہ بھی صوبائی حقوق کی جنگ بنی ۔مسلم لیگ نے متحدہ ہندوستان میں پہلی بار صوبائی خود مختاری کا سوال اٹھایا‘یہ بھی حقیقت ہے کہ صوبے قیام پاکستان سے قبل موجود تھے اور صوبوں نے ہی ووٹ دے کر پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا ۔

اشتہار


پاکستان میں گورنر جنرل‘مطلق العنان صدوراور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز کے جدید نوآبادیاتی نوکر شاہانہ مرکزیت پسند شکنجے سے آئینی طور پر جان چھڑانے میں 63برس لگے پھر کہیں جاکر 19اپریل 2010ء میں اٹھارویں ترمیم آئین کا حصہ بنی۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے آئین میں داخل کی گئی زیادہ تر ترامیم کو آئین سے خارج کردیا گیا‘حالانکہ جنرل ضیاء کی بہت سی رجعتی نشانیاں ابھی بھی منہ چھپاتی ہیں‘جن میں بدنام زمانہ آرٹیکل 62-63 بھی شامل ہیں۔اس ترمیم میںآئین کو توڑنے اور اس کے لیے آئینی جواز کو بھی غداری کے زمرے میں شامل کرکے آمرانہ قوتوں کے آگے بند باندھا گیا ہے‘اسمبلیوں کوتوڑنے کا صدارتی اختیار اگرچہ نواز شریف پہلے ختم کرچکے تھے لیکن یہاں پر گورنر راج نافذ کرنے اور صوبائی معاملات میں مداخلت ختم اور پارلیمنٹ کی بالادستی مضبوط کی گئی۔آئین میں مرکز سے دوطرفہ فہرست (Concurrent List)نکال کرصوبوں کواختیار و اقتدار کی منتقلی کی گئی۔وفاقی ادارے جیسے کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI)کو مضبوط کیا گیا‘قدرتی ذرایع پر صوبوںکا حق اور عوام کی بیشتر سماجی و معاشی ضروریات و خدمات کی ذمے داری صوبوں کو تفویض کر دی گئی‘عدلیہ کی خود مختاری‘ انصاف کے عمل کو یقینی بنانے اور حق اظہار سمیت سماجی حقوق کو تحفظ اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا گیا‘پختونوں کوان کی شناخت خیبر پختونخوا کے نام سے دی گئی۔

درحقیقت 1940ء کی قرارداد لاہور میں جو اساسی اصول پیش کیے گئے تھے‘اٹھارویں ترمیم نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا لیکن کچھ مسائل حل کیے۔1940ء کی قرارداد میںاکائیاں خود مختار اور اقتدار اعلیٰ کے مالک تک قرار دی گئیں تھیں‘جب تقسیم ہند ناگزیرہو گئی اور خونخوار فرقہ وارانہ فسادات کے جلو میں دو نئی ریاستیں وجود میں آگئیں‘پاکستان میں گورنر جنرل اور 1935ء کاگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ دس برس تک جاری رہا‘آئین سازی میں بڑا سوال ہی وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا تھا‘ایک ایوانی مقننہ ہو کہ دو ایوانی اور ان کے درمیان کیا نسبت ہو‘ قومی زبان ایک ہو کہ دو ‘مرکز کے پاس کتنے محکمے ہوں جب کہ بنگالیوں اور پختون‘بلوچ اور سندھی قوم پرستوں کا اصرار تھا کہ فقط دفاع‘خارجہ پالیسی‘مواصلات اور کرنسی مرکز کے پاس ہوں‘جداگانہ یا مخلوط انتخابات ہوں وغیرہ؟۔9برس تک آئین سازی ان سوالات کے باعث تعطل کا شکار رہی‘ جب کہ اصل راج گورنر جنرل کا تھا جو برطانوی وائسرائے کی طرح طاقتور ترین تھا۔

جمہوریت پر پہلا وار صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگار حکومت ختم کر کے کیا گیا، اگر غلام محمد کے ہاتھوں پہلی آئین ساز اسمبلی فارغ ہوئی تو سکندر مرزا کے ہاتھوں مشرقی پاکستان کی جگتو فرنٹ کی پہلی منتخب حکومت ختم ہوئی ‘اسکندر مرزا نے تو پانچ وزرائے اعظم فارغ کیے اور مشرقی پاکستان کی سات حکومتیں ختم کیں۔مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ختم کرنے لیے مغربی پاکستان کے صوبوں کو ختم کرکے ون یونٹ بناکرتاریخ میں پہلی بار مشرقی پاکستان کے 52 فی صد آبادی کو مغربی پاکستان کی 48فی صد آبادی کے برابر قرار دے کر اس کو پیریٹی(Parity) یعنی (مساوات؟)کا عجیب نام دیا گیا۔ آخری حربے میں جنرل ایوب خان نے اعلان کیا کہ عوام جاہل ہیں اور ووٹ کا حق صرف اسّی ہزار بی ڈی ممبران کو ہوگا اور اس طرح نہ صرف بالغ رائے دہی کو ختم کیا بلکہ صدارتی نظام مسلط کردیا‘ اس موقع پر حبیب جالبؔ نے کہا تھا کہ ؎

دس کروڑ یہ گدھے ۔۔نام جن کا ہے عوام

اس طرح انھوں نے جمہوریت و صوبائی خود مختاری کو ختم کردیا‘پھر بھی 1964ء کے صدارتی انتخاب میں وہ محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے ہی ہرا سکا۔یہ 1968-69ء کی پرزور عوامی تحریک تھی ‘جس نے حق بالغ رائے دہی اور پارلیمانی وفاقی جمہوریہ کی بحالی اور ون یونٹ کو ختم کرکے وفاقی اکائیوں کو بحال کرایا‘جنرل یحیی خان نے انتخابات تو کرا دیے لیکن اقتدار عوام کے منتخب نمایندوں کو منتقل کرنے کے بجائے فوج کشی کا راستہ اختیار کرکے ملک کو دو لخت کردیا‘ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد ہی آمرانہ قوتیں کمزور ہوئیں اور اس کے بعد ہی عوامی نمایندوں کو موقع ملا کہ وہ 1973ء کا وفاقی آئین بنا سکیںلیکن 1973ء کے آئین کو بھی تین بار معطل کیا گیا اور جتنی بار بھی اسمبلیاں توڑی گئیں یا آئین معطل کیا گیا‘اعلیٰ عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے تحت انھیں جلا بخشی اور خود بھی پی سی او زدہ ہوکر اپنی آزادی کھو بیٹھیں۔

1973ء کے آئین میں جو صوبائی خود مختاری طے کی گئی تھی‘اس پر دس برس کے بعد پھر غور کیا جانا تھا لیکن جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے طویل مارشل لاؤں کے باعث جمہوریت‘آئین کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ صوبائی خود مختاری کا بھی خاتمہ ہوگیا ۔گورنر جنرل‘ صدارتی اور چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر‘یہ سب ایک ہی طرح کی نوکر شاہانہ و آمرانہ ا ور وحدانی طرز حکمرانی کے غماز تھے۔پاکستان میں بدقسمتی سے حکمران طبقے کا بیانیہ‘مذہبی بالادستی‘ایک قومی زبان‘ مضبوط مرکز‘اور آمرانہ طرز حکمرانی سے عبارت رہا ہے ‘جب کہ جمہوری قوتیں عوام کی حکمرانی‘ایک مضبوط وفاقی نظام میں صوبوں کی حقوق کا تحفظ‘اور ان کی حکمرانی میں مساویانہ شراکت داری اور مستحکم جمہوریہ میں پارلیمان کی بالا دستی‘عدلیہ کی خودمختاری‘ انسانی اور شہری حقوق کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہیں۔آمرانہ‘وحدانی اور عدم شراکتی‘سیاسی و معاشی نظام کے ہاتھوں پاکستان ٹوٹااور اب بھی جو ارادے ظاہر ہو رہے ہیں‘ انھی نتائج کا خطرہ ہے ‘ مرکزی یا وفاقی نوکر شاہی ڈھانچے کو اختیارات صوبائی سطح پر منتقلی کے باعث اپنے خرچے کم کرنے چاہیے تھے‘اس کے بجائے اب صوبوں کے حقوق اور حصے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

چھ دہائیوں کے بعد خدا خدا کر کے اختیارات و ذرایع صوبوں کو منتقل ہوئے‘اب ضرورت ہے کہ یہ انتقال اقتدار ضلعوں اور نچلی سطح پر عوام کو منتقل ہو‘عوام کی حکمرانی‘اچھی حکومت اور لازوال جمہوری وفاق ہی پاکستان کی سلامتی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبرا ن کے بجائے سارا ترقیاتی فنڈبلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔اب کہا جا رہا ہے کہ چونکہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ کی اکثریت ہے۔

اس لیے صوبائی اسمبلی کے ممبران کو دس کروڑ روپے فنڈ دیے جائیں گے‘ ایک اور یو ٹرن ۔لیکن خیبر پختونخوا میں تو بلدیاتی اداروں میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہے لیکن وہ بھی رو رہے ہیں۔پاکستان کی ترقی اور جمہوری مستقبل کے لیے آئین کے آرٹیکل 6کی طرح اٹھارویں ترمیم بھی کافی نہیں‘اس کے لیے طاقت کے مرکز کو غیر منتخب اداروں سے پارلیمنٹ کی جانب منتقل کرنا ہوگا‘وگر نہ پھروہی پرانی تباہی ہی ہمارا مقدر ہوگا۔اب بھی ملک میں مکمل وفاقی نظام نافذ نہیں ہے‘چھوٹی قومیتوں سے نئے عمرانی معاہدے اورملک کو سیکیورٹی کے بجائے فلاحی ریاست بنانے کے مطالبے ہورہے ہیں‘اس کا مطلب ہے کہ چھوٹے صوبے اٹھارویں ترمیم سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ان حالات میں تھوڑی بہت حاصل صوبائی حقوق کو واپس لینے والوں کو آگ سے کھیلنے سے باز آنا چاہیے۔اس سلسلے میں مزید حقائق آیندہ۔

تحریر: جمیل مرغز

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں