عمر بن عبدالعزیز

پاکستان میں ایک بار پھر ہمہ گیر اصلاحات اور کسی انقلاب کی خوشخبری سنائی جارہی ہے، اس متوقع انقلاب میں ملک کے تمام ادارے حکومت کے ساتھ ہیں صرف اپوزیشن کی ایک آدھ جماعت کوچھوڑ کر باقی اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کے متوقع انقلاب کے نتیجے میں پاکستان کے نئے خدو خال ظاہر ہو نے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ حکمران اپنی معینہ مدت میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ابتدا میں ہی حکومت نے اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے پہلے سو دنوں کی حکومتی کارکردگی کے ذریعے ملک کی ترقی کی سمت متعین کرنے کا اعلان کیا جس کے نتائج کچھ حوصلہ افزا نہیں رہے۔

اپوزیشن خوش ہے کہ اس کو طویل انتظار کی کوفت سے بچا لیا گیا ہے اور حکومتی کار کردگی کی شروعات پر ہی ان کا دال پانی چلنا شروع ہو گیا یعنی انھوں نے حکومت کو آغاز میں ناتجربہ کاری اور نالائقی کا خطاب دے دیا جس میں وہ کسی حد تک حق بجانب بھی ہیں ۔ بہرکیف حکمرانوں کے پاس کم وبیش پانچ برس بھی ہیں جس میں وہ کچھ نہ کچھ کر ہی جائیں گے کم از کم ریاست مدینہ کا خواب جو انھوں نے دیکھا ہے اس کی سمت تو متعین کی جا سکتی ہے۔

مجھے عمر بن عبدالعزیز کا دور یاد آرہا ہے۔ ان کا دور حکمرانی دو سال پانچ ماہ کے برابر ہے۔ میں اس حکمران کو اس لیے یاد کر رہا ہوں کہ اس نے ایسے ہی ناگفتہ بہہ حالات میں حکومت سنبھالی تھی جن حالات سے موجودہ حکمرانوںکا سامنا ہے ۔ اس حکمران کے خاندان نے بادشاہت قائم کر دی تھی اور اس بادشاہت میں وہ تمام خوبیاں اور خرابیاںموجود تھیں جو کسی بری بادشاہت میں ہوا کرتی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کا تو کوئی تصور نہ تھا لیکن اموی خاندان کی صورت میں ایک نہایت بااثر اور مقتدر گروہ موجود تھا جو اس نئے حکمران کے سامنے ایک کوہ گراں بن کر کھڑا تھا لیکن اس نئے حکمران نے ایک ماہ کم ڈھائی برس میںدنیا ہی بدل دی۔وجہ صرف یہ تھی کہ اس کے دل میں خدا کا خوف انسانوں سے محبت اور ذمے داری کا بے پناہ احساس تھا۔ اس کے سامنے زندگی کا ایک مقصد تھا صرف ایک حکومت کرنا نہیں تھا ۔ کئی مورخوں نے کہا ہے کہ یہ عمر بن خطاب سے زیادہ کامیاب حکمران تھا کیونکہ حضرت عمر ؓکو تو نبوت کابراہ راست تربیت یافتہ معاشرہ ملا تھا جب کہ عمر بن عبدالعزیز کو جو معاشرہ ملا تھا وہ بادشاہت زدہ تھا۔ ایسے معاشرے کو بدل دینا بہت زیادہ مشکل تھا۔
میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ اس حکمران کی شخصیت اور اس کے اندازحکومت کا ذکر کرتا ہوں ۔ ایک اخباری کالم میں یہ تاریخی تذکرہ بیان کرنے پر اس لیے مجبور ہوا ہوں کہ آج کے حکمرانوں کی خدمت میں عرض کر سکوں کہ کام سر انجام دینے کے لیے مدتوں کا تعین بے معنی ہوتا ہے ۔ قوت عمل کی طاقت اور عزم و ارادہ کی مضبوطی خود بخود مدتوں کو پھیلاتی اور سمیٹتی رہتی ہے ۔ وقت ایسے لوگوں کی بارگاہ میں دست بدستہ حاضر رہتا ہے۔
اشتہار



عمر بن عبدالعزیز جو اموی شاہی خاندان کے رکن تھے سات سو سترہ عیسوی مطابق 99 ہجری میں خلافت کے منصب پر فائز ہوئے ۔ انھیں نامزد کیا گیا تھا لیکن انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ خلافت عوام کو واپس کر دی اور اعلان کر دیا کہ وہ جسے چاہئیں خلیفہ منتخب کر لیں لیکن ووٹ ان کے حق میں آئے اور وہ اس منصب پر فائز ہو گئے لیکن چارو ناچار کہ آنے والے دنوں نے ثابت کر دیا کہ یہ شخص کس قدر کرب میں مبتلاہے ۔عربوں کا یہ شہزادہ جو فیشن اور شان و شوکت میں ایک مثال تھا فقیر بن گیا ۔

وقت کی کوئی مروجہ آسائش اور نعمت ایسی نہ تھی جو اس کو حاصل نہ تھی اور اسے مرغوب نہ تھی۔ جس گلی سے گزر جاتا خوشبوئیں وہاں بسیرا کر لیتیں اور جس لباس پر کسی کی نظر پڑ جاتی وہ دوبارہ زیب تن نہ کرتا کہ لباس دکھانے کے لیے ہوتا ہے جب ایک باردیکھ لیا گیا تو ختم ہو گیا ۔تروتازہ اور شاداب صحت مند جسم کا مالک یہ شہزادہ خلیفہ بن جانے کے بعد مورخوں کے مطابق پہچانا نہیں جاتا تھا۔ جسم لاغر ہو گیا تھا اور لباس کا صرف ایک جوڑا تھااور وہ بھی پیوندوں سے بھرا ہوا۔ خلافت کے بعد اپنی بیوی فاطمہ سے جو خود ایک شہزادی تھی اور جس سے محبت کی شادی کی تھی کہا کہ اب میری زندگی تو افلاس کی زندگی ہو گی اس فقر وفاقہ میں تم کیسے گزر بسر کرو گی اس لیے تم چاہو تو میں تمہیں آزاد کر دوں ۔ وہ روپڑی اور کہا کہ میں ساتھ دوں گی، اہل خانہ کی کسی بڑی شدید ضرورت کے تحت بیت المال سے پیشگی تنخواہ کا تقاضہ کیا تو جواب ملا کہ امیر المومنین کو اگر یقین ہے کہ وہ اپنی دوسری تنخواہ تک زندہ رہیں گے تو یہ پیشگی ادائیگی کی جا سکتی ہے چنانچہ بات ختم ہو گئی اور مسلمانوں کی خلافت شروع ہو گئی۔

وقایع نگاروں نے اس دور کو دستاویز بنا دیا ہے کیونکہ یہ اپنے دور کی سب سے بڑی خبر تھی کہ ایک ظالم شاہی خاندان میں ایک فقیر منش عادل حکمران پیدا ہو گیا ہے جو سفاک ماضی کو تہس نہس کر کے ایک نیا جہان پیدا کررہا ہے۔ اس نے اپنی خلافت کا آغاز اپنی ذات اور اپنے خاندان سے کیا۔ ان کے پا س بہت بڑی ذاتی جاگیر تھی۔ مشورہ دیا گیا کہ واپس کر دی تو اولاد کا کیا بنے گا ۔ جواب دیا خدا کے سپرد کرتا ہوں ۔ پھر اہل خانہ کو جمع کیا اور کہاکہ قوم کا نصف کے قریب مال تمہارے ناجائز قبضے میں ہے۔

جواب ملا جب تک ہمارے سر تن سے جدا نہ ہوجائیں یہ جاگیریں واپس نہیں کریں گے۔ ان کے بھائی حکمران نے کہا کہ اگر تم اس میں میری مدد نہ کرو گے تو میں تم کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑوں گا۔ پھر مسجد میں لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ ہمارے خاندان کے حکمرانوں نے تم لوگوں کی جائیدادیں ہمیں دے دی تھیں میں انھیں ان کے اصل حقداروں کو واپس کرتا ہوں اور آغاز اپنی ذات سے کرتا ہوں پھر اپنے اور خاندان کے متعلقہ کاغذات منگوائے اور ایک ایک کر کے سب کے سامنے کتر ڈالے یہ سلسلہ ظہر کی نماز تک جاری رہا ۔ بیوی کے پاس ایک قیمتی پتھر تھا جو اسے اس کے باپ خلیفہ عبدالملک نے دیا تھا کہا کہ یہ بیت المال میں جمع کرادو۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور اس طرح اپنی ذات کوپاک صاف کر کے اس حکمران نے اپنی حکومت کا آغاز کیا ۔

(جاری ہے)

اشتہار


عمر بن عبدالعزیز” ایک تبصرہ

  1. وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
    ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

اپنا تبصرہ بھیجیں