کسی وزیر کی خواہش پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا، نیب

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ کسی وزیر کی خواہش پر سابق صدر آصف علی زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور رکن صوبائی اسمبلی فریال تالپور کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

نیب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیورو کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقول تاحال موصول نہیں ہوئیں، مصدقہ فیصلے کی روشنی میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

نیب نے اس ضمن میں سست روی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ، آئین و قانون کے مطابق کام کرنے پر یقین رکھتا ہے جبکہ قانونی موشگافیوں کو حل کرنے میں وقت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک وفاقی وزیر کی جانب سے نیب میں زیر تحقیقات ایک کیس کے سلسلے میں میڈیا کو دیئے گئے مختلف بیانات اور انٹرویوز کا متن پیمرا سے طلب کیا گیا ہے، تاکہ ان کا ہر پہلو سے گہرائی سے جائزہ لیا جائے۔

نیب نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ دیکھنا بھی مقصود ہے کہ کہیں یہ بیانات اور انٹرویوز نیب پر بلاواسطہ یا بالواسطہ اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں یا نیب کی شفاف تفتیش کی راہ میں حائل تو نہیں ہو رہے۔

بیان کے مطابق نیب ہر دباؤ کو مسترد کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ تمام تحقیقات آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام کو پہنچائی جاتی ہیں، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکے۔

فواد چوہدری کا ردعمل

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نیب کے بیان پر شاعری کی زبان میں ردعمل کا اظہار کیا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ پر اپنے ردعمل میں غالب کا یہ شعر لکھا ‘ہر اک بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے، تمہیں کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے۔’

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کو جعلی اکاؤنٹس کیس کے اہم کرداروں آصف زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ کو فوری طور پر گرفتار کرکے تفتیش کو آگے بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ نے نیب کو جعلی اکاؤنٹس کیس سےمتعلق تفتیش کو مکمل کرنے کے لیے 2 ماہ دیئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں نیب کی کارروائی سست روی کا شکار ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں