نائن الیون حملوں میں بچ جانے والا امریکی نیروبی حملے میں ہلاک

کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے لگژری ہوٹل میں دہشت گرد حملے کے دوران ہلاک ہونے والے 21افراد میں ایک امریکی بزنس مین بھی ہے جو نائن الیون کے حملوں میں بچ جانے والے افراد میں شامل تھا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق حکام نے باضابطہ طور پر جیسن اسپنڈلر کا نام ہلاک شدگان میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اُس کی والد سارہ اور بھائی جوناتھن نے فیس بک اور متعدد امریکی چینلز کو موت کی تصدیق کی ہے۔

جوناتھن نے فیس بک اکاؤنٹ پر پیغام میں کہا ہے کہ ’’ میں افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ میرے بھائی جیسن اسپنڈلر کی نیروبی میں دہشت گرد حملے کے دوران موت ہوگئی ہے‘‘ پیغام میں مزید تحریر ہے کہ ’’جیسن 11ستمبر حملوں میں بچ جانے والوں میں شامل تھا‘‘

نیروبی حملوں کی ذمہ داری القاعدہ سے تعلق رکھنے والے صومالی گروپ الشباب نے قبول کی تھی، جو اکتوبر 2011ء میں فوج صومالیہ بھیجنے کے بعد سے کینیا کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں