جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 26ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

اس سلسے میں ایوان صدر اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان، سپریم کورٹ کے ججز، وفاقی وزار، سینئر وکلا اور دیگر اہم شخصیات کی موجود تھیں۔

صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف لیا۔

اس تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رنجن گوگوئی، شمالی قبرص کے سپریم کورٹ آف ترک جمہوریہ کے صدر نرین فردی سیفک، نائیجیریا کی بورنو ریاست کے چیف جج کاشیم زنہ، سابق سینئر جج سپریم کورٹ آف انڈیا اور صدر گورننگ کمیٹی آف کامن ویلتھ جوڈیشل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ جسٹس مادان بھماراؤ لوکر، ان کی اہلیہ سویتہ لوکر اور کینیڈا کے کامن ویلتھ جوڈیشل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے بانی صدر اور سابق جج سندرا ای اوکسنر کو دعوت دی گئی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بات کی جائے تو ان کا کیریئر تقریباً 2 دہائیوں پر مشتمل ہیں، جس میں انہوں نے 55 ہزار کیسز کے قریب فیصلے دیے جبکہ 2014 سے ان کی سربراہی میں ایک خصوصی بینچ نے 10 ہزار سے زائد مجرمانہ نوعیت کے کیسز کا فیصلہ دیا۔

اس سے قبل سکدوش ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا تھا، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی مدت ملازمت کے لیے ایجنڈا کا تعارف کرایا تھا۔

انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ ’کامیاب حکومتیں مالی مسائل کے سبب ججز اور مجسٹریٹ کی تعداد میں مناسب اضافہ کرنے میں ناکام رہیں‘ اور پورے ملک کی تمام عدالتوں میں 3 ہزار ججز اور مجسٹریٹس کے مقبالے میں 19 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال کے باعث یہ وقت ہے کہ کچھ بڑے اور سخت فیصلے لیے جائیں‘ جیسا کہ ’قانونی جاری جوئی کو کم کرنے، غیر ضروری تاخیر ختم کرنے اور کام کے بوجھ کو تقسیم کرنے سمیت مجموعی طور پر عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے ساخت اور نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے‘۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تعارف
جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

انہیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے شہرت ملی جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔

انہوں نے 1969 میں میٹرک کے امتحان میں ملتان بورڈ سے پانچویں جبکہ 1971 میں انٹرمیڈیٹ میں لاہور بورڈ اور 1973 میں پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشنز حاصل کیں، اسی یونیورسٹی سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1975 میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، ان کی قابلیت کی وجہ سے انہیں 3 مرتبہ نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ سے نوازا گیا۔

ماسٹرز ڈگری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے برطانیہ کا رخ کیا، جہاں کیمبرج یونیورسٹی سے 1977 اور 1978 میں انہوں نے قانون کی 2 ڈگریاں حاصل کیں، برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1979 میں وطن واپس آئے اور لاہور ہائیکورٹ سے وکالت کا آغاز کیا اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل بن گئے۔

20 سال تک وکالت جاری رکھنے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 مئی 1998 میں لاہور ہائیکورٹ جبکہ 2010 میں سپریم کورٹ کے جج منتخب ہوئے۔

مئی 1998 میں آصف سعید کھوسہ لاہور ہائی کورٹ میں جج مقرر ہوئے اور جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 7 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین معطل کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے ‘پی سی او’ کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔

اگست 2008 میں وکلا کی تحریک کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے بحال ہوئے۔

علاوہ ازیں جسٹس آصف سعید کھوسہ 4 کتابوں کے خالق بھی ہیں جن میں، ہیڈنگ دی کانسٹیٹیوشن، کانسٹیٹیوشنل اپولوگس، ججنگ ود پیشن اور بریکنگ نیو گراونڈ شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں