امریکا میں تاریخ کی شدید ترین سردی سے 8 افراد ہلاک

واشنگٹن: امریکا میں انتہائی شدید سردی کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے اور درجنوں افراد کی حالت غیر ہونے کے باعث اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔

امریکا کے وسطی اور مغربی علاقے غیر معمولی طور پر شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جس کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہوگیا ہے۔ سردی کی وجہ ’پولر ورٹیکس‘ کو قرار دیا جارہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں قطب شمالی سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔

ملک کے تیسرے بڑے شہر شکاگو میں درجہ حرارت منفی 30 تک اور شمالی ڈاکوٹا میں منفی 37 تک گر چکا ہے۔ سردی اتنی زیادہ ہے کہ صرف دس منٹ باہر سردی میں کھڑے رہنے سے فراسٹ بائٹ ہوسکتا ہے اور اعضا گل سکتے ہیں۔

انتظامیہ نے وسکونسن، الینوائے اور مشی گن سمیت 5 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ کئی ائیر پورٹس پر سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

ریاست آیووا میں حکام نے لوگوں کو گہرا سانس نہ لینے اور کم بات چیت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں حفاظتی اقدامات کے بغیر سخت ٹھنڈ میں باہر نکلنے سے ہوئیں۔

آئندہ دنوں میں سردی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جس کے باعث ملک بھر میں کم سے کم دو کروڑ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں بے گھر افراد کے لیے عارضی مراکز قائم کردیے گئے ہیں۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں