Let’s Kill Gandhi

30 جنوری 2019ء کو بھارت کے شہر علی گڑھ میں ایک خاتون پوجا شوکن کو ہاتھ میں پستول پکڑے گاندھی جی کی برسی کے موقع پر ان کے پتلے پر گولی چلاتے اور آگ لگاتے دیکھ کر 30 جنوری 1948ء کے دن والی نتھورام کی بیوی یاد آئی‘ جو اپنے خاوند کو پونے ریلوے سٹیشن پر اپنی چار ماہ کی بیٹی کے ساتھ الوداع کرنے آئی تھی۔ ستر سال بعد بھی گاندھی کو دوبارہ قتل کرنے کی خواہش ایک خاتون میں ابھری‘ جس کی اس نے ویڈیو بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دی۔

پورے ہندوستان میں صرف اسے پتہ تھا کہ اس کا خاوند دلی کیوں جا رہا ہے۔ جب ٹرین روانہ ہونے لگی تو اسے احساس ہوا کہ خاوند کے حوصلے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بیوی اور چار ماہ کی بیٹی کو دیکھ کر کمزور نہ پڑ جائے اور اسے یہ خیال نہ آئے کہ اس کے بعد ان کا کیا بنے گا؟

جونہی سیٹی کی گونج ابھری اور ٹرین پلیٹ فارم پر کھسکنے لگی تو اپنے خاوند کی آنکھوں میں دیکھ کر نتھورام کی بیوی نے کہا: وہ ہرگز اپنی بیٹی کے لیے پریشان نہ ہو‘ وہ اپنا اور بیٹی کا خیال رکھے گی۔ یہ کہہ کر اس نے وہ روٹیاں‘ جو گھر سے پکا کر لائی تھی تاکہ وہ سفر میں کھاتا جائے‘ ایک رومال میں لپیٹ کر خاوند کے حوالے کر دیں۔

وہ اپنے خاوندکے خیالات سے متفق تھی کہ گاندھی نے پہلے مسلمانوں کی حمایت اور اب پاکستان کو پچپن کروڑ روپے دلوانے کا جو جرم کیا‘ اس کی سزا موت ہے۔ انہوں نے پستول خریدا۔ اس پستول کو جنگل میں جا کر تین چار گولیاں چلا کر بھی دیکھا‘ اور اب وہ مطمئن تھا کہ وہ گاندھی جی کو گولیاں مار سکتا ہے۔

نتھورام کے ذہن پر بوجھ تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ گاندھی کو قتل کرے گا۔ کبھی یہ نتھورام گاندھی جی کے لیے جیل گیا تھا‘ اور آج انہیں قتل کرنے دہلی جا رہا تھا۔

گوپال سے یہ بات ہضم نہیں ہوپارہی تھی کہ گاندھی کیسے نہرو اور پٹیل کو مجبور کرنے کیلئے مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرسکتے ہیں ‘تاکہ وہ دونوں پاکستان کو اس کے حصے کے پچپن کروڑ روپے ادا کریں جو نہرو نے کشمیر میں جنگ کے بعد روک لیے تھے۔ تقسیم کے وقت بھارت کے پاس کل چار ارب کی نقدی تھی جس میں سے پاکستان کا حصہ پچھتر کروڑ بنتا تھا ۔ نہرو اور سردار پٹیل نے پہلے بیس کروڑ روپے ادا کر دیے تھے‘ باقی کا حصہ روک لیا تھا۔اس خبر کا پاکستان میں بہت برا اثر ہوا۔

قائداعظمؒ اور گاندھی کے تعلقات کبھی اچھے نہ تھے۔ قائداعظمؒ نے گاندھی کو مکار لومڑی کا لقب دیا ہوا تھا ۔ قائداعظمؒ پاکستان بننے کی راہ میں رکاوٹ گاندھی کو سمجھتے تھے۔ گاندھی نے ہندوستان کی تقسیم روکنے کے لیے لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ پیشکش کی تھی وہ قائداعظم ؒ کو ہندوستان کا وزیراعظم بنانے کو تیار ہیں۔

وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے گاندھی کو کہا تھا کہ وہ نہرو اور سردار پٹیل کو منا لیں۔ یہی بات ہے کہ سابق بھارتی وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے قائداعظمؒ پر اپنی کتاب میں ان تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار انگریزوں اور قائداعظم ؒسے زیادہ نہرو اور پٹیل تھے ۔

گاندھی کو اس بات کا علم تھا کہ قائداعظمؒ انہیں پسند نہیں کرتے۔ پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان کے پیسے روکے گئے اور پاکستان کا ایک ایسے جہاز کو دیا گیا چیک باؤنس ہوگیا ‘ جس نے بھارت سے مہاجرین کو لانا تھا تو گاندھی کو احساس ہوا کہ یہ بہت غلط ہورہا ہے۔

گاندھی کے خیال میں یہ اچھا موقع تھا کہ وہ قائداعظمؒ اور ان کی نئی ریاست کو یہ پیغام بھیجیں کہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے خلاف ضرور تھے‘ لیکن وہ پاکستان کو دیوالیہ کرنے کی بھارتی لیڈروں کی کوشش کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ان کے خیال میں یہ بہترین موقع تھا کہ وہ اپنے پرانے ناراض ساتھی کا دل جیتیں اور ساتھ ہی مسلمانوں کو پیغام دیں کہ وہ سچ اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ پاکستان کو ناکام بنانے کی کوششوں میں شریک نہیں ہوں گے۔
اس دوران گاندھی کے ذہن میں خیال آیا کہ انہیں پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے‘ لیکن قائداعظمؒ کو کیسے راضی کیا جائے کہ وہ کراچی آنا چاہتے ہیں؟

گاندھی کے ذہن میںیہ بھی تھا کہ جس پیمانے پر پاکستان اور ہندوستان میں لہو بہایا جارہا ہے اس کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان جائیں۔ ان دونوں کی ملاقات سے ہندوئوں اور مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر جاری خون خرابے اور دشمنی میں کمی آ سکتی ہے ۔ دوسری طرف دلی کے مسلمان کسی قیمت پر نہیں چاہتے تھے کہ گاندھی جی شہر چھوڑ کر کہیں جائیں ‘کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اگر وہ شہر سے باہر گئے تو ہندوئوں نے حملہ کردینا ہے۔

گاندھی نے بھارتی حکومت کو مسلمانوں کے گھر پاکستان سے آئے ہندو مہاجرین کو الاٹ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک دفعہ خون خرابہ رک جائے تو وہ خود جا کر ان مسلمانوں کو واپس لا کر ان گھروں کی چابیاں دیں گے۔ کئی مسجدوں پر سے قبضہ بھی چھڑا گیا تھا۔

گاندھی کے عدم تشدد پر اعتراضات آنا شروع ہوگئے تھے کہ پاکستان میں ہندو مارے جارہے ہیں اور وہ یہاں دلی میں مسلمانوں کے گھروں پر پہرہ دینے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ گاندھی نے جواب میں کہا: پاکستان میں سب ہندوئوں اور سکھوں کو بھی قتل کر دیا جائے تو پھر بھی ہندوستان میں ایک چھوٹے سے مسلمان بچے کی زندگی کی حفاظت کی جائے گی۔

ہندوستان میں فسادات میں گھرے مسلمانوں کی آخری امید گاندھی تھے۔

اب گاندھی جی نے خفیہ پلان بنایا کہ انہیں پاکستان جانا چاہیے۔ سوال یہ تھا کہ قائداعظم کو کیسے راضی کیا جائے۔ گاندھی نے ایک دن برلہ ہاؤس میں بمبئی کے ایک کاٹن بروکر کو بلایا کہ وہ خفیہ مشن پر کراچی جائے ‘جس کاوزیراعظم نہرو اور سردار پٹیل تک کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔

وہ کراچی جا کر پاکستان کے دورے کی راہ ہموار کرے۔ بروکر نے باپو سے یہ سنا تو آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ یہ پا گل پن تھا ۔ بروکر بولا: باپو آپ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔ گاندھی بولے: میری زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے‘ اسے کوئی لمبا یا مختصر نہیں کرسکتا۔

پاکستان سے جانے سے پہلے وہ کیا اپنے ساتھ لے کر جاسکتے تھے ‘جس سے دونوں ملکوں کے درمیان پھیلی دشمنی میں کچھ کمی ہو؟

قائداعظمؒ شروع میں اس حق میں نہ تھے‘ لیکن پھر وہ بھی تیار ہوگئے تھے‘ تاہم قائداعظمؒ کا خیال تھا کہ گاندھی کو بمبئی سے کراچی سمندری راستے سے آنا چاہیے جبکہ گاندھی چاہتے تھے کہ وہ ننگے پائوں چلتے ہوئے ہندوستان سے پاکستان آئیں ۔ لیکن گاندھی خالی ہاتھ پاکستان نہیں آ نا چاہتے تھے۔

دوسری طرف وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو جب یہ پتہ چلا کہ نہرو نے پاکستان کے حصے کے پچپن کروڑ روپے روک لیے ہیں تو انہیں دکھ ہوا ۔ پہلے انہوں نے کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی جنگ کو بڑھنے سے روکا اور نہرو پر دبائو ڈالا کہ وہ معاملہ اقوام متحدہ لے جا کر جنگ بندی کرائیں۔

ساتھ میں وائسرائے نے برطانوی وزیراعظم کو تجویز دی کہ وہ فوراً ہندوستان پہنچ کر‘ دونوں ملکوں میں کشمیر سمیت سب مسائل حل کرائیں ۔ مائونٹ بیٹن کو خطرہ تھا کہ اگر پاکستان کے پچپن کروڑ روپے روکے گئے تو دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جائے گی ۔ نہرو اور پٹیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی پر لارڈ مائونٹ بیٹن بہت ناخوش تھے ۔

یہ پیسے روک کر ہندوستان نہ صرف غیراخلاقی حرکت کررہا تھا بلکہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے نزدیک تو عالمی ڈاکہ تھا جو پاکستان کے حق پر ہندوستان مار رہا تھا۔

گاندھی یہ سوچ کر ڈسٹرب تھے کہ ہندوستان اپنی تاریخ کا آغاز ایک فراڈ اور غیراخلاقی کام سے کررہا ہے ۔ ایک دن گاندھی نے لارڈ مائونٹ بیٹن سے اپنا راز شیئر کیا کہ وہ نہرو اور پٹیل کو پاکستان کے حق پر ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے۔ وہ مرتے دم تک بھوک ہڑتال کریں گے۔ دوسری طرف گاندھی کے کراچی دورے کے خفیہ معاملات ابھی طے ہورہے تھے۔

گاندھی جی بھوک ہڑتال پر بیٹھے تو نہرو لال قلعے پر دس ہزار کے مجمع کو خبردار کرنے دوڑے دوڑے گئے کہ اگر باپو کو کچھ ہوگیا تو ہندوستان پر کیا بھیانک اثرات ہوں گے۔ نتھورام ان سب باتوں سے بے پروا پندرہ سو کلو میٹر دور پونے ریلوے سٹیشن پر ٹرین میں بیٹھ کر دلی کی طرف نکل پڑا تھا ۔

(اس کالم کو لکھنے کے لیے جن کتابوں سے مدد لی گئی ہے ان میں دلی کے سابق کمشنرکنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کی یادداشتیں اور Freedom at Midnightشامل ہیں)

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں