ارمان لونی کی ہلاکت پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں احتجاجی مظاہرے

پشتون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے اپنے رہنما ابراہیم ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف منگل کو پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ابراہیم ارمان رواں ماہ کے آغاز میں لورالائی میں پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کے خلاف ان احتجاجی مظاہروں کی کال پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے دے رکھی ہے جس کے تحت منگل کو دنیا کے 32 شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

منظور پشتین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ابراہیم ارمان لونی کے قتل کے خلاف منعقد اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔ یہ احتجاجی مظاہرے مختلف شہروں میں اپنے مقامی اوقات کے مطابق ہو رہے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں جاری رہیں گے۔

اسلام آباد پریس کلب کے باہر پی ٹی ایم کے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے کے لیے آنے والے افراد کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران اسلام آباد پریس کلب کے باہر ہی پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے چند قریبی ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں میں عبداللہ ننگیال، ادریس محسود اور گلالئی اسمعیل شامل ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین، اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ بھی ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ محسن داوڑ شمالی وزیرستان اور علی وزیر بنوں مظاہروں میں شریک ہوئے۔

پی ٹی ایم کی کال پر ابراہیم ارمان لونی کے آبائی شہر قلعہ سیف اللہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، زیارت اور مسلم باغ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں