پانی میں مدھانی

کچھ ہوتے ہیں خواب اور کچھ ہوتے ہیں حقائق، ذاتی زندگی ہو یا قومی، لاکھوں خواب دیکھے جاتے ہیں لیکن صرف ایسے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں جو حقائق اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ قومی یا سیاسی زندگی کے’’ خوابی‘‘ بیانات کو میں اس لئے کوئی اہمیت نہیں دیتا کہ ہوائیاں چھوڑنا ہمارے سیاستدانوں کی عادت ہے۔ سیاست ایک ایسا کھلا میدان ہے جس میں ہر کسی کو داخل ہونے اور اپنے خیالات کے اظہار کی پوری آزادی ہے۔ اس آزادی سے فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ ایسے بیانات بھی دے ڈالتے ہیں جو حقائق کے خلاف ہوتے ہیں۔ خود انہیں بھی اس حقیقت کا پورا ادراک ہوتا ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں اسی لئے اٹھارہویں ترمیم اور صدارتی نظام کے بارے خدشات کو غیر حقیقی قرار دیا تھا۔ میرے نزدیک موجودہ سیاسی تناظر اور زمینی حقائق کے پیش نظر ان موضوعات پر بحث محض پانی میں ’’مدھانی‘‘ چلانے والی بات ہے جس سے کچھ’’برآمد‘‘ نہیں ہوگا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے بعض کرم فرمائوں کو میری گزارشات ناکافی لگیں، اس لئے خیال آیا کہ میں اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر کھل کر بیان کردوں۔

پہلے صدارتی نظام بارے بات کرلیتے ہیں۔ ہزاروں لکھاریوں، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں میں سے بمشکل دو تین ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے صدارتی نظام کا ڈول ڈالا ہے اور وہ اپنے خواب کی تکمیل کے لئے قائد اعظم کے تین الفاظ کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ ان کا جمہوری حق ہے کہ وہ اپنے خوابوں کو الفاظ کا لبادہ پہنائیں اور قائد اعظم کو بحیثیت بابائے قوم اپنی حمایت میں ’’کوٹ‘‘ کریں اگرچہ میری ذاتی رائے میں یہ مشق پانی میں’’مدھانی‘‘ چلانے کے مترادف ہے اور کبھی بارآور نہیں ہوگی۔ تاریخی تناظر سے آپ واقف ہیں کہ جب جون 1947میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا اعلان ہوچکا تو جولائی میں قائد اعظم کو پاکستان کا گورنر جنرل نامزد کیا گیا تھا۔ قائد اعظم کے لئے اب اہم ترین مسئلہ پاکستان کا مستقبل تھا جس پر وہ غور و خوض کرتے رہتے تھے۔ ہماری تاریخ میں پہلی بار جنرل ضیاء الحق قائد اعظم پیپرز سے قائد اعظم کی ڈائری کا ایک ورق نکال کر لائے جس پر پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام لکھ کر قائد اعظم نے تحریر کیا ہے کہ صدارتی نظام پاکستان کے لئے موزوں ہے۔ کسی لمحے قائد اعظم کے ذہن میں یہ خیال ابھرا ضرور لیکن یہ وہیں ڈوب کر رہ گیا کیونکہ انہوں نے کبھی کسی صورت بھی اس کا اظہار نہیں کیا جبکہ بابائے قوم کی حیثیت سے وہ نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے بلکہ آئینی حوالے سے قوم کی رہنمائی بھی کرسکتے تھے، اگر یہ ان کی حتمی رائے ہوتی تو وہ گیارہ اگست 1947کی تقریر میں اس کا ذکر کرسکتے تھے یا اس جانب اشارہ کرسکتے تھے لیکن آئینی حوالے سے قائد اعظم بار بار اور مسلسل یہی کہتے رہے کہ’’اس کا فیصلہ دستور ساز اسمبلی کرے گی لیکن ایک بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔‘‘ ان کے الفاظ دہرانے شروع کروں تو کتاب بن جائے گی۔ اتنا لکھنا کافی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل اور بعدازاں انہوں نے ایک سو سے زیادہ بار کہا کہ پاکستان کے ریاستی، سیاسی اور آئینی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اور قرآنی اصولوں پر استوار کی جائے گی۔ فروری 1948میں امریکی قوم کے نام براڈکاسٹ پیغام میں بانی پاکستان قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرل کہا’’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی آئین بنانا ہے اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کی شکل و صورت کیا ہوگی البتہ مجھے یقین ہے کہ یہ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا جمہوری آئین ہوگا۔ اسلامی اصول عملی زندگی میں آج بھی اس قدر قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے۔‘‘

اس تقریر میں انہوں نے پاکستان کو پریمئر اسلامی ریاست قرار دیا جس کا ہمارے سیکولر دوست ذکر کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ چند روز قبل ایک مہربان نے اسی تسلسل میں اقلیتوں کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ قائد اعظم نے گیارہ اگست کی تقریر میں سیکولر جمہوری پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جو سراسر قائد اعظم سے ناانصافی ہے کیونکہ وہ عمر بھر اسلامی جمہوری فلاحی پاکستان کا تصور پیش کرتے رہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ انسانی برابری اسلامی ریاست کا سنہرا اصول ہے جسے ہمارے سیکولر دوست اسلامی کہنا پسند نہیں کرتے حالانکہ خلفائے راشدین کے دور حکومت میں اس کی انگنت مثالیں ملتی ہیں۔ یہ ابھی ابتداء ہے یہ بھی پانی میں مدھانی پھیرنے والی بات ہے کیونکہ اسلامی جمہوری فلاحی ریاست ہی پاکستان کا تصور، بنیاد، قیام اور مستقبل ہے۔مختصر یہ کہ قائد اعظم نے صدارتی نظام کی جانب کبھی اشارہ تک نہیں کیا اس لئے ان کی پرائیویٹ ڈائری سے تین الفاظ چرا کر اسے اپنی خواہش کا لباس پہنادینا مناسب نہیں۔ اب اسے حقائق کی کسوٹی پر پرکھیے۔ صدارتی نظام لانے کے لئے 1973کے آئین اور پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹنا پڑے گی یا موجودہ آئین میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا اسمبلی میں موجود پارٹیاں متحد ہو کر اس منصوبے کی حمایت کریں گی؟ اس صورتحال کے نتیجے کے طور پر ملک میں جو کنفیوژن، انتشار اور بحران جنم لے گا کیا ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے؟ کیا ایوبی صدارتی نظام کا تجربہ اس موضوع کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کافی نہیں تھا؟۔ امریکی صدارتی نظام کے ماڈل پر کیا پاکستان وفاقی اکائیوں یا صوبوں کو ریاست سے علیحدگی کا حق دے سکتا ہے؟ کیا ہمارے عوام ایک طرح کی آمریت کی حمایت کریں گے؟ میں نے آج تک بعض دوستوں کی صدارتی نظام کی خواہش پر اس لئے کبھی تبصرہ نہیں کیا کہ میرے نزدیک یہ لاحاصل بحث ہے۔

رہا اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا واویلا؟ اگر کسی غیر ذمہ دار حکومتی عہدے دار نے ایسی بات کی بھی ہے تو ذرا سنجیدگی سے سوچیے کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا چند ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی حکومت اٹھارویں ترمیم کا کچھ بگاڑ سکتی ہے؟ یہ درست کہ اٹھارہویں ترمیم میں مزید کچھ ترامیم کی ضرورت ہے اور سابق چیف جسٹس کا یہ تبصرہ کہ اس ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں کھلی بحث نہیں ہوئی تھی کیا مسائل میں پھنسی حکومت کو ایک نیا محاذ کھولنے کی اجازت دے سکتا ہے؟ کم سے کم اس حکومت کے ہوتے ہوئے۔ اس لئے اس حوالے سے سیاسی مہم جوئی کو میں محض پانی میں مدھانی چلانے کے مترادف سمجھتا ہوں، اللہ اللہ خیر سّلا۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں