اخبارات کی بندش کی وجہ معیشت نہیں ٹیکنالوجی ہے، وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اخبارات کی بندش کی وجہ معیشت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی ہے اور میڈیا اداروں کو حکومت کے بجائے جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی پالیسی اپنانی چاہیے۔

اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ٹیکنالوجی آنے کے بعد اب اخبار، ٹی وی اور ویب سائٹ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا کیونکہ یہ سب کچھ آپ کو اپنے موبائل پر دستیاب ہوتا ہےاور ہمیں ریگولیٹری کی ضرورت تھی جو ان چیزوں پر نظر رکھ سکے۔

انہوں نے ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو کالم لکھنے اور خبر بنانے کے حوالے سے روایتی والے صحافت پڑھا رہے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بتا رہے کہ ویب سائٹ کیسے بنتی ہے اور ویب ڈیسک کیسے بناتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم اے پی پی پر سالانہ 85 کروڑ روپے صرف کر رہے ہیں اور یہ 85 کروڑ روپے ہم ضائع کر رہے ہیں، لہٰذا میں نے اس ادارے کو ڈیجیٹل سروس آف پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے پتہ چلا کہ وہاں موجود دو تہائی عملہ اپنی ای میل بھی چیک نہیں کر سکتا اس لیے ہم انہیں نہیں کھپا پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا میں خلا کم ہوتا جارہا ہے اور اخبارات کی بندش کی وجہ معیشت نہیں ٹیکنالوجی ہے کیونکہ ، ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ جدت آرہی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جن میڈیا ملازمین کو نکالا جا رہا ہے ان کی دادرسی کا بھی کوئی ادارہ نہیں، اس لیے ہمیں اس کی بھی ضرورت ہے تاکہ صحافیوں کی دادرسی کی جا سکے اور اس مقصد کے لیے ہم ایک ریگولیٹری باڈی بنا رہے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ تحقیق کر کے اس بات کا پتہ چلائیں کہ جدید ٹیکنالوجی ہماری میڈیا کی صنعت پر کس طرح اثرانداز ہو گی کیونکہ یہ تبدیلی بہت زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے اور آگے چل کر مزید اثرانداز ہو گی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت آپ کے لیے ایک کلائنٹ ہے لیکن مسیحا نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر میڈیا آزاد نہیں رہ سکے گا لہٰذا پہلا اصول یہ کہ میڈیا اپنے خرچے خود پورے کرے اور حکومت کے بجائے مارکیٹ کی قوتوں پر انحصار کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مغالطے سے نکلنا ہو گا کہ حکومت سبسڈی دے کر کاروباروں کو تحفظ فراہم کرے بلکہ اس کی جگہ ہمیں جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا ہو گا۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں