احتساب کا شکنجہ

پاکستان کے سیاستدان رفتہ رفتہ نیب کے شکنجے میں جکڑے جا رہے ہیں، اگر آج ایک پکڑا گیا ہے تو کل دوسرے کا انتظار کر رہا ہے، لگتا یہی ہے کہ باری سب کی آنی ہے، کسی کی پہلے اور کسی کی بعد میں لیکن سب کو حساب دینا ہو گا اور جو اپنا کھاتہ درست کرتا جائے گا وہ آزاد ہوتا جائے گا۔

نیب کے علاوہ ایک عدالت اور بھی ہے اور وہ ہے عوامی عدالت اگر ان سیاستدانوں کو ان کے کرتوت بتا کر عوام کی عدالت میں پیش کر دیا جائے تو شاید ان کی سزا نیب کی سزائوں سے مختلف ہو گی۔ عوام اپنے لٹیروں کو کبھی معاف نہیں کریں گے ان کو سیاست سے آئوٹ کر دیں گے اور اپنا مال مسروقہ برآمد کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ عوام کو سیاستدانوں کی سزائوں سے کوئی دلچسپی نہیں وہ صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت کا حساب اور اس کی برآمدگی مانگتے ہیں ۔

پاکستان میں احتساب کی بات تو ایک طویل عرصے سے کی جا رہی ہے لیکن محسوس یوں ہو رہا ہے کہ باقاعدہ احتساب اب شروع ہوا ہے جب گیہوں کے ساتھ گھن بھی پسنا شروع ہو گیا ہے۔ یعنی پہلے تو ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ ایک حکمران جب حکمرانی سے اتر گیا تو نئے آنے والوں حکمرانوں نے گزشتہ حکمرانوں کو احتساب کی سولی پر لٹکا دیا اور یک طرفہ احتساب شروع کر دیا گیا۔
موجودہ حکومت نے بھی ابتدا اپنے سیاسی مخالفین سے ہی کی ہے۔ میاں صاحبان مختلف کیسوں میں سزا پانے کے بعد جیل میں بند ہیں لیکن ہمارے قانونی سقم اس قدر زیادہ ہیں کہ میاں شہباز شریف ایک طرف تو جیل میں بند ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام آباد کی سرکاری رہائش گاہ میں آرام سے رہ رہے ہیں اور ان کو قومی اسمبلی کی سب سے اہم پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، یعنی وہ ایک طرف تو کرپشن کے الزامات میں سزا بھگت رہے ہیں اور دوسری طرف کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔

حکومت کو اس تقرری پر مجبور کر دیا گیا ورنہ حکومت تو اس حق میں نہیں تھی کہ ایک سزا یافتہ شخص کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا جائے۔ اپوزیشن کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر حکومت نے یہ قدم اٹھایا اور اپوزیشن کے اصرار کی منطق عوام کو تو یہی سمجھ میں آئی کہ اپوزیشن لیڈر احتساب کے عمل سے بھاگ رہے ہیں اور سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سلسلے میں اگر کوئی آئینی مجبور ی بھی تھی تو اس کو دو ر کیا جا سکتا تھا لیکن ہمارے ہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔



بہرحال جب تک ہمارے ہاں جمہوریت قائم ہے اس کے فائدے سیاستدانوں کو پہنچتے رہیں گے اور سیاستدان جمہوریت کی چھتری تلے اور اس نام نہاد جمہوریت کو بچانے کے نعرے لگاتے ہوئے بہترین انتقام کے لیے جمہوریت کو اپنے حق میں استعمال بھی کرتے رہیں گے۔

احتساب کی موجودہ صورتحال کے متعلق اگر بات کی جائے تو اس بات پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ احتساب کے عمل کی بسم اللہ تو ہوئی ہے جس میں دشمنوں کے ساتھ دوستوں کا احتساب بھی شروع ہو گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور جو آج ہو رہا ہے وہ کل بھی ضرور ہو گا۔ ہمارے ملک میں سیاستدانوں کی غالب اکثریت ایسی ہے جو حکومتوں کا حصہ رہے ہیں یا اب بھی حکومت میں موجود ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو سیاسی عہدوں پر نہیں عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ ان کو احتساب کی چھلنی سے گزارنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے حال میں اپنے لاڈلے صوبائی وزیر علیم خان کی قربانی دے دی اور وہ اب نیب کی حراست میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گے۔ سب سے بڑی بات جو موجودہ حکومت میں دیکھنے میں آ رہی ہے کہ جب بھی کسی وزیر یا مشیر پر کوئی الزام لگا تو اس نے اپنے عہدے سے فوراً استعفٰی دے دیا اس طرح کی مثالیں پاکستان میں پہلے موجود نہیں تھیں۔ بلکہ اگر آپ کو یاد ہو تو جناب اسحٰق ڈار صاحب اپنے الزامات کا دفاع کرنے کی بجائے بیماری کا بہانہ بنا کر لندن میں بیٹھ کر پاکستان کی وزارت خزانہ چلانے کی کوشش کرتے رہے اور ابھی تک بھلے چنگے وہیں موجود ہیں۔

معلوم یوں ہوتا ہے کہ آج کے حکمران یا تو ملک سے وفاداری اور دیانت کے کسی اونچے مقام پر ہیں یا پھر وہ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ انھیں اس کا اندازہ ہی نہیں کہ وہ جو مثالیں بنا رہے ہیں اس کا پھندہ کسی کے گلے میں بھی پڑ سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اب جب بلا تفریق احتساب کا کام شروع ہو گیا ہے تو اس کا دائرہ کار مزید پھیلا دیا جائے تا کہ وہ زبانیں جو ابھی تک جانب داری کا الزام لگا رہی ہیں بند ہو جائیں۔ اس دائرے کو وسعت دینے کا آسان حل یہ ہے کہ نیب کے چیئر مین کی تحویل میں وہ فہرست ملاحظہ کر لی جائے جس میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی شامل ہیں اور انھیں یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں احتساب کے لیے بلا لیں۔

اس فہرست میں یقینا ایسے بہت سے نام ہوں گے جنھیں عدالتوں میں کھینچا گیا تو کسی جانبداری کا الزام خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا اور اپنے قریبی دوستوں کو صرف دکھاوے کے لیے احتساب کے عمل سے گزارنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تو پھر حالات مشکل ہو جائیں گے۔ یہ احتسابی سزائیں کوئی پھانسی تو نہیں ہیں کہ عمل ہو جائے تو واپسی ناممکن ہے ان کی واپسی بھی ممکن ہے اور یہ عمل ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔

حکومت نے اپنے لوگوں کو بھی احتسابی عمل سے گزارنے کا جو آغاز کیا ہے یہ خوش آئند عمل ہے یہ اس ملک کے عوام کی تمنا ہے کہ جس نے بھی اس ملک کے وسائل کو استعمال کیا ہے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس عمل کو اگر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو اس کے لیے شاید کرنا ایسا ممکن نہ ہو۔ اس عمل کے آغاز کا تمغہ عمران خان اور ان کی حکومت کے سینے پر سجا ہوا ہے اور پاکستان کے عوام ایسے لاتعداد تمغے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں