طالبان، امریکہ مذاکرات

ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور خارجہ پالیسی کے کار پردازوں کو یہ امید تھی کہ دوحہ میں طالبان اور امریکہ کو میز پر لاکر واشنگٹن اوراسلام آباد میں ہنی مون کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا لیکن یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں۔ برادر شاہ محمود شاہ قریشی پہلی مرتبہ وزیر خارجہ نہیں بنے، وہ پیپلزپارٹی کے زرداری دور میں بھی کچھ عرصے تک اسی عہدے پر فائز تھے، اگرچہ ریمنڈ ڈیوس کا کیس مس ہینڈل کرنے کے بعد یہ قلمدان محترمہ حنا ربانی کھر کے حوالے کردیا گیا لیکن جب ان جیسا گھاک آدمی یہ کہہ کہ اب امریکہ اور افغانستان کے تعلقات میں نئی جہت شروع ہو گئی ہے اور سٹرٹیجک تعلقات بحال ہو گئے ہیں تو خاصی حیرانگی ہوتی ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ہی اس رویہ پر نکتہ چینی کی کیونکہ میری رائے یہ تھی کہ پاکستان سے ڈومورکے مطالبے کالا متنا ہی سلسلہ جاری رہے گا۔ امریکہ کے نیشنل انٹیلی جنس ادارے کے ڈائریکٹر ڈینئل کوٹس کی سال 2019ء کی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو درپیش خطرات کے بارے میں خاصی چونکا دینے والی باتیں کہی گئی ہیں۔ چونکہ یہ امریکہ کا نقطہ نگاہ پراناہے اس لئے پاکستان کے لیے قطعاً حیران کن نہیں ہونا چاہیے لیکن اسلام آباد اور راولپنڈی کی طالبان اور امریکہ کو ملانے اور اس کے نتیجے میں اصولی اتفاق ہونے کے باوجود اس کی اہمیت خاصی بڑھ چکی ہے۔ ڈینئل کوٹس نے سینیٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں انہوں نے رواں سال افغانستان اور بھارت میں انتخابات اور وسیع پیمانے پر طالبان حملوں سے جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز میں اضافے کا امکان ظاہر کیا اور یہ پیش گوئی کہ پاکستان میں موجود مسلح گروہ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسی ممالک اور ان سے آگے حملے جاری رکھیں گے۔ گویا کہ کوٹس کے مطابق پاکستان میں پناہ لئے ہوئے عناصر پورے خطے کے لئے بلکہ بین الاقوامی خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی تعاون میں پاکستان کا تنگ نقطہ نظر طالبان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی امریکی کوششوں پر پانی پھیر دے گا۔ڈائریکٹر برائے نیشنل انٹیلی جنس نے رپورٹ میں مزید الزام لگایا کہ اسلام آباد چند دہشت گرد گروپوں کو اپنی پالیسیوں کو آگے بڑ ھانے کے لیے استعمال کرتا ہے اور صرف انہی گروپوں کے خلاف کام کرتا ہے جو پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اسی لیے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنے کے معاملے میں حکمت عملی امریکہ کے مفادات کے خلاف ہے۔ رپورٹ میں اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے بعض شہروں اور حکومتی تنصیبات پر اپنا قبضہ مضبوط کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میںرواں سال مئی میںعام انتخابات تک مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری وساری رہیں گی۔رپورٹ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے اور اسے امریکی مفادات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ متذکرہ رپورٹ سے یہ بات توواضح ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کو بھارتی عینکوں کے ذریعے پر کھتی ہے لہٰذاا یہ ہماری بڑی کج فہمی ہو گی کہ پاکستان اورامریکہ کے درمیان تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ یہ کتاب تو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں ہی بند ہو چکی تھی، ان کے بعد صدر اوباما نے اپنے ادوار میں بھارت کا دو مرتبہ دورہ کیا جن سے بھارت نواز امریکی پالیسیوں کے خدوخال پوری طرح واضح ہو گئے تھے۔ ایرانی نژاد مسلمان امریکی سکالر اورماہر تعلیم ولی نصر جو جان ہو پکنزسکول آف ایڈوانسڈانٹر نیشنل سٹیڈیز کے ڈین ہیں، آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وہ پاکستان کے علاوہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بھی ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان سے گزشتہ روز لاہور میں ملاقات ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے تحت پاکستان میں دلچسپی محض افغانستان کے حوالے سے ہے۔گویا کہ اس وقت امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات سودے بازی Transactional کی بنیاد پر ہیں نہ کہ سٹرٹیجک ہیں۔ سکیورٹی اور سٹرٹیجی کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اب چین کا حلیف ہے نہ کہ امریکہ کا۔ بھارت تو کب سے امریکہ کاسٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے۔ نہ جانے ہماری لیڈر شپ نو شتہ دیوار پڑھنے سے مسلسل عاری کیوں ہے ،ہمارے کار پردازوں کے ذہن میں کئی دہائیوں سے یہ خوش فہمی سرایت کر چکی ہے کہ جغرافیائی اہمیت کی بنا پر ہماری سٹرٹیجک اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا گویا کہ امریکہ ،روس، چین، ایران ،افغانستان اور بھارت سب کو ہماری زلف کا اسیرہونا چاہیے۔ شاید کئی دہائیاں پہلے ایسا ہی ہو جب ہم آمر ایوب خان کے تحت سیٹو اور سینٹو کے ممبر تھے اور جنرل ضیاء الحق کے ہوتے ہوئے ہم نے افغان جنگ میں امریکہ کا سہولت کا ربن کر اربوں ڈالر اینٹھے اور نائن الیون کے فوری بعد جنرل مشرف کے دورمیں ہم امریکہ کے نان نیٹو اتحادی بن بیٹھے۔ لیکن ان تمام ادوار میں یہی قدر مشترک تھی کہ ہم امریکہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنا الو سیدھا کررہے تھے۔ سیٹو اورسینٹو سے ملنے والی امداد بھی ہمیں کمیونزم کے خلاف ملی تھی لیکن ہم اسے بھارت کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ضیاء الحق کے دور میں ہم نے افغان جہاد کو اپنی پالیسی کامحور بنالیا،مشرف کے دور میں بھی ہر ملک سے آئے ہوئے جنگجو پاکستان کو بیس کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یعنی کہ ہر دور میں ہم امریکہ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے اور امریکہ اپنے مفادات کے لیے ہمیں۔ جیسا کہ گزشتہ کالم میں لکھا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کا تعلق امریکی اسٹیبلشمنٹ سے نہیںہے، وہ دنیاکو اپنی مخصوص کاروباری عینک سے دیکھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ خارجہ پالیسی کے بعض گنجلک معاملات کو بڑے سیدھے سادے انداز میں ڈیل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طرف تو وہ ایران کے ساتھ ہونے والے نیو کلیئر معاہدے کو ترک چکے ہیں حالانکہ ایران نے ابھی ایٹم بم نہیں بنایا لیکن دوسری طرف شمالی کوریا جیسا ملک جو ایٹمی میزائلوں سے لیس ہے کے ڈکٹیٹر کم جان سے مذاکرات کاایک دور کر چکے ہیںاور دوسرا کرنے جا رہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل اور ان کے عرب حواریوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے ولی عہد محمدبن سلمان جو کہ عملی طور پر وہاں کے حکمران بھی ہیں، ان کی تمام تر بوالعجبیوں جن میں سعودی صحافی عدنان خشوگی کا قتل اور یمن میں ظالمانہ فوج کشی خاص طورپر قابل ذکر ہیںکے باوجوددنیا بھر میں ان کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ لہٰذا امریکہ سے افغان طالبان کی بات چیت کروا کرہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے، یہ ایں خیال است و محال است و جنوں کے مترادف ہے۔
تحریر: عارف نظامی، بشکریہ 92 نیوز
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں