javed-chaudhry-columns

خیرپور کا فیض محل

خیرپور کے فیض محل میں گئے وقتوں کی دھوپ ابھی باقی تھی‘ خادم نے دربار ہال کا دروازہ کھولا اور تاریخ کے مرتبان کا ڈھکن کھل گیا‘سرخ قالین پر آخری دیوار سے ذرا سے فاصلے پر رائل چیئرز کی قطار تھی‘ کرسیوں کے پیچھے دو شاہی سنگھار میزیں پڑی تھیں‘ چھت بلند تھی اور اس پر ریشمی کپڑے کی ’’سیلنگ‘‘ تھی‘ سیلنگ وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر مدہم پڑ چکی تھی۔

دیواروں پر ماضی کے میروں کی پینٹنگز تھیںاورہر پینٹنگ وقت کا نوحہ تھی‘ دائیں ہاتھ ہال کی آخری دیوار کے ساتھ ساتھ میروں کی بندوقوں کا رزق بننے والے چیتوں اور شیروں کی باقیات تھیں ‘ ہاتھی دانت کی میز اورشو پیسز بھی تھے جب کہ بائیں ہاتھ صدارتی کمرے کے ساتھ الماریوں میں ریاست کے آرکائیو پڑے تھے۔

ریاست کے چاندی کے سکے‘ ٹکٹ‘ اسٹام پیپرز اور انگریزوں‘ قائداعظم اور آخر میں 1955ء میں حکومت پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدے‘ ریاست کے قانون کی کتاب اور میروں کی تاج پوشی کی تصاویر یہ سب قطار میں لگی کھڑی تھیں‘ پچھلی دیوار پر ریاست کے بانی اور پہلے میر سہراب خان تالپور کی پینٹنگ تھی اور ان سب کے ساتھ صدارتی کمرہ تھا‘ صدارتی کمرے میں قائداعظم سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک ملک کے زیادہ تر حکمران قیام کر چکے ہیں۔
محل کی بالائی منزل کے تمام کمروں کے برآمدے اور کھڑکیاں ہال میں کھلتی ہیں‘ کھڑکیوں کے میلے شیشوں اور ان شیشوں سے چھن کر آنے والی روشنی زبان سے بہت کچھ کہہ رہی تھی اور یہ کہا ہوا ہم سب کے دل میں اداسی بن کر اتر رہا تھا‘ دنیا میں وقت سے بڑاکوئی ظالم نہیں‘ وقت بالآخر ہر حکومت اور ہر حکمران کے سر پر خاک ڈال کر رہتا ہے اور ہم کھلی آنکھوں سے وہ خاک‘ وہ شاہی سر اور بے مہر وقت کا ظلم یہ تینوں دیکھ رہے تھے۔

خیرپور سکھر سے 35 منٹ کی ڈرائیو پررکھا ہے‘ یہ شہر ماضی کی مشہور ریاست خیر پور کا دارالحکومت تھا‘ اس پر تالپور حکومت کیا کرتے تھے‘ سندھ 1783ء تک میانوالی کے کلہوڑوں کے قبضے میں تھا لیکن پھر ہلانی کی جنگ ہوئی اور بلوچ تالپور میر سہراب خان نے کلہوڑوں سے سندھ چھین لیا‘ سہراب خان نے اپنے نام پر سہراب پور شہر آباد کیا اور نئی ریاست نے جنم لے لیا‘ میر سہراب نے خیرپور سے 25کلو میٹر کے فاصلے پر کوٹ ڈیجی میں ہندوستان کا مضبوط اور شاندار ترین قلعہ بھی تعمیر کرایا۔

قلعے میں میروں کی فوجیں قیام کرتی تھیں‘فصیل کے دائیں بائیں میروں کے محلات تھے‘ یہ قلعہ بذات خود دیکھنے اور متاثر ہونے کا مقام ہے‘میں وہاں بھی گیا اور متاثربھی ہوا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1830ء میں سندھ کی طرف بڑھنا شروع کیا‘ کمپنی کابل تک پہنچنا چاہتی تھی‘ پنجاب میں اس وقت راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی‘ یہ فوجی لحاظ سے ہندوستان کی مضبوط ترین ریاست تھی‘ انگریز اس سے ٹکرانے کی جرات نہیں کر رہے تھے چنانچہ کمپنی نے 1838ء میں خیر پور کے میر سے معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ خیر پور سے گزر کر افغانستان جانے کا اجازت نامہ تھا لیکن یہ کاغذ کا ٹکڑا بعد ازاں ریاست کے زوال کی وجہ بن گیا‘ ہم زوال کی اس داستان کی طرف آئیں گے لیکن آپ پہلے اس زمانے کی ریاست کے بارے میں سنتے جائیں‘ خیر پور انیسویں صدی میں ہندوستان کی خوشحال ترین ریاستوں میں شمار ہوتا تھا‘ شہر میں 80 بڑے کارخانے تھے‘ کپڑا‘ نیل اور برتن بڑی صنعتیں تھیں‘ شہر میں بنارسی بستی تھی (یہ لوگ آج بھی موجود ہیں)‘ اس بستی میں بنارسی ساڑھیاں بنتی تھیں اور پورے ملک میں فروخت ہوتی تھیں‘ نیل کے پچاس پچاس اونٹ کراچی‘ پھر ممبئی اور پھر وہاں سے یورپ جاتے تھے‘ خیر پور کے تعلیمی ادارے پورے ہندوستان میں مشہور تھے۔

شکار پور علاقے کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا‘ ہندوستان کے تمام تجارتی قافلے شکار پور سے ہو کر افغانستان‘ ایران‘ ازبکستان اور روس جاتے تھے‘ شکار پوری بنیوں نے اس زمانے میں ہنڈی کا کاروبار شروع کیا اور یہ کاروباردیکھتے ہی دیکھتے پورے ایشیا میں پھیل گیا‘ یہ بنیے مغل دربار اور انگریزوں تک کو سود پر رقم دیتے تھے لیکن پھر انگریز آیا اور ہر چیز بدل گئی‘ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1838ء میں میر رستم خان کے ساتھ معاہدہ کیا۔

میر کے بھائی اور وزیر سمجھاتے رہ گئے لیکن میر رستم خان انگریزوں کے جھانسے میں آ گئے‘ کاغذات پر دستخط ہوئے اور انگریز نے اگلے ہی دن بھکر کی فوجی چھائونی مانگ لی (یہ پنجاب کا بھکر نہیں‘ خیر پور میں دریائے سندھ کے درمیان ایک جزیرہ ہے‘ یہ جزیرہ بھی بھکر کہلاتا ہے) اور پھر یہ چھائونی ملنے کی دیر تھی اور انگریزنے عملاً پوری ریاست پر قبضہ کر لیا‘ میررستم خان کو معزول اور ریاست بدر کر دیا گیا اور اس کے کمزور بھائی کو تخت پر بٹھا دیاگیا۔
اشتہار


چارلس نیپئر نے 1843ء میں میرآف سندھ میرناصر خان تالپور کو میانی کے مقام پر شکست دے دی‘ میرناصر خان نے تاریخ میں پہلی بار ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن جنگیں وسائل اور حوصلے سے لڑی جاتی ہیں صرف نعروں سے نہیں‘ میر ناصر خان یہ جنگ ہار گیا‘ سندھ پر انگریز کا قبضہ ہو گیا تاہم انگریز نے وفاداری کا حلف لے کر خیرپور کی ریاست برقرار رہنے دی‘ میر جیسے تیسے انگریز کے دور میں بھی ریاست چلاتے رہے۔

1947ء میں پاکستان بنا تو میرآف خیرپور نے قائداعظم کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے‘ قائداعظم نے لکھ کر دے دیا ریاست کی ہیئت میں تبدیلی نہیں ہو گی اور ڈیڑھ ہزار مربع میل پر مشتمل یہ ریاست بدستور میروں کے پاس رہے گی لیکن پھر 1956ء میں یہ معاہدہ توڑ دیا گیا اور ریاست کو ون یونٹ میں شامل کر دیا گیا‘ خیر پور کے آخری میر علی مراد دوم ہیں‘ میر نے خان لیاقت علی خان کے دور میں 14 سال کی عمر میں تخت سنبھالاتھا۔

یہ بدقسمت بادشاہ ثابت ہوئے‘ نواب آف بہاولپور کی صاحبزادی سے شادی کی‘ یہ شادی نہ چل سکی‘ حکومت نے 1956ء میں ریاست پر قبضہ کر لیا‘ 80 ہزار روپے ماہانہ پنشن طے ہوئی‘ یہ انتہائی کم تھی‘ لوگوں نے میر کی زمین جائیداد‘ محلات اور نوادرات پر قبضہ کر لیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ میر جو ذاتی فوج اور ہاتھی گھوڑوں کے مالک تھے‘ جو حکومتوں کو قرض دیا کرتے تھے وہ خود محتاج ہوتے چلے گئے۔

یہ حالات میرعلی مراد دوم کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے‘وہ کراچی شفٹ ہوئے اور تارک الدنیا ہو گئے‘ وہ پچھلے چالیس سال سے کسی سے نہیں ملے‘ عبادات‘ وظائف اور زیارتوں تک محدود ہو چکے ہیں‘ میں پچھلے سال دمشق گیا تو مجھے تاریخی قبرستان باب الصغیر میں حضرت فاطمہؓ کی ذاتی خادمہ کی قبر پر حاضری کی توفیق ہوئی‘ میں نے دیکھا مزار پر اردو میں طالب دعا علی مراد لکھا تھا‘ میں ہفتہ 16 فروری کی دوپہر فیض محل گیا اور میں نے آخر میں میر علی مراد دوم کی کہانی سنی تو مجھے وہ عبارت یاد آ گئی اور پتہ چلا وہ پچھلے پچاس برس سے مقدس مزارات تلاش کرتے ہیں‘ ان کی تعمیر کراتے ہیں اور پھر وہاں اپنے ہاتھ سے صفائی کرتے ہیں۔

یہ اس وقت بھی حیات ہیں لیکن علیل ہیں‘ ان کے دو صاحبزادے ہیں‘عباس خان تالپور اور مہدی رضا‘ یہ دونوں بھائی بچی کھچی زمینوں اور سرکاری اور غیرسرکاری قبضے سے محفوظ مکانات اور محلات کی حفاظت کرتے ہیں‘ کھجوروں کی فصل اور معمولی کاروبار خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھا رہا ہے‘ یہ خاندانی رئیس اور حکمران تھے چنانچہ یہ کسی سے مطالبہ کرتے ہیں اور نہ کوئی درخواست بس زمانے کی نیرنگی کا مشاہدہ کرتے ہیں اور سینے پر ہاتھ رکھ کر چپ چاپ آگے نکل جاتے ہیں۔

میں فیض محل کے برآمدے میں آ گیا‘یہ محل میر فیض محمد تالپور نے 1894ء میں شروع کیا اور یہ 1907ء میں مکمل ہوا‘یہ سندھی‘ جودھ پوری اور سکھ آرکی ٹیکچر کا خوبصورت امتزاج ہے‘ آرکی ٹیکٹ گلاب سنگھ تھا‘ گلاب سنگھ نے دیواریں سندھی اسٹائل میں بنائیں‘ مینار جودھ پوری اور کرائون میں سکھ تہذیب پرودی‘ برآمدہ کمال تھا‘ یہ ایک کچا شاہی برآمدہ ہے‘ فرش پر قرمزی رنگ کی چکور ٹائلیں ہیں‘ چھت پر آبنوسی لکڑی کی کڑیاں ہیں‘ چونے کی دیواروں کے اندر سے پرانی شاہی اینٹیں جھانک رہی ہیں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ کھڑکیوں اور دروازوں سے لکڑی کی الماریاں لگ کر کھڑی ہیں۔

پورا برآمدہ آرچز اور ستونوں پر ایستادہ ہے اور کھڑکیوں اور دروازوں کے اوپر پتھر کی جالیاں ہیں‘ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا برآمدے کے آخری سرے پر سفید رنگ کا ایک اداس صوفہ پڑا تھا‘ یہ صوفہ بھی گئے وقتوں کی نشانی ہے‘ چھت سے دودھیا شیشوں اور سیاہ لوہے کے لیمپوں سے وقت جھانک رہا تھا‘برآمدے کی ہرچیزسے گئے وقت کی سرگوشیاں ابل رہی تھیں‘ماحول پر برائون اور اورنج رنگ کاغلبہ تھا ‘ یہ تمام سرگوشیاں‘ یہ سارے رنگ اور اداس الماریاں ماحول کو گھمبیر بنا رہی تھیں۔

میں برآمدے سے نکل کر باہرآ گیا‘ محل کے سامنے ایک وسیع لان ہے‘ لان کے دونوں اطراف گزر گاہ ہے اور گزرگاہ کا فرش خوبصورت سرخ اینٹوں سے بناہے‘ دونوں سائیڈوں پر دو دو توپوں کے دو جوڑے ایستادہ ہیں‘ آپ اگر لان میں کھڑے ہو کر محل کی طرف دیکھیں تو آپ کوچاروں توپیں محل کی حفاظت کرتی محسوس ہوں گی‘ محل باہرسے سرخ‘ پیلے اور سفید تین رنگوں کا ملاپ دکھائی دیتا ہے‘ دائیں بائیں دو چوکیاں ہیں‘ پھر دو مینار اوپر اٹھتے ہیں اور درمیان میں سکھ تاج ہے۔

فیض محل دھوپ میں ہندوستان کے قدیم محلوں کا نمایندہ محسوس ہورہا تھا‘ میں نے توپوں کی طرف دیکھا تو وہ یہ کہتی ہوئی پائی گئیں ریاستیں جب ختم ہوتی ہیں تو پھر توپیں خواہ کتنی ہی بڑی اور مضبوط کیوں نہ ہوں وہ صرف دھوپ سینکتی رہ جاتی ہیں‘ وہ ریاست کی حفاظت نہیں کر پاتیں‘ صرف اللہ کے نام کو زوال نہیں باقی سب فانی ہے‘ میر بھی اور غلام بھی اور اگر کسی کو یہ حقیقت سمجھ نہ آئے تو وہ ایک بار‘ صرف ایک بار فیض محل ہو آئے۔

لاہور کی طوائف بالی اور میرعلی نواز کی محبت بھی اسی محل میں پروان چڑھی تھی‘ آ پ اس داستان کا مطالعہ کل کریں گے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں