Orya-Maqbool-Jan

پولیو ویکسین :ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے

1985ء میں اس کی عمر صرف اڑتالیس سال تھی جب وہ ایک عالمی سطح کا کنسلٹنٹ مشہور تھا۔ دنیا کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک “ایم آئی ٹی” سے اس نے ڈاکٹر آف سائنس (D.Sc) اور ماسٹر آف سائنس (M.Sc) کی ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔ وہ دنیا میں بائیو کیمسٹری کا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسی سال ایک دن اچانک وہ ایک ناقابل علاج مرض کا شکار ہو گیا۔ اس کا آغاز تو الرجی سے ہوا لیکن مسلسل تھکن (Chronic Fatigue) تمام جسم میں مسلسل درد (Fibromyalgia)، جسم کے مدافعتی نظام کی ناکامی (Lumps)، جسم میں غیر ضروری ہارمونز کی افزائش (Hashimotors thyroidits) کے ساتھ ساتھ لاتعداد بیماریوں کا شکار ہوا ،جس کے نتیجے میں اس کے جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ڈاکٹروں نے اسے مکمل مایوس کر دیا اور اس کی جانب تیزی سے بڑھتی ہوئی موت کی تصدیق کردی۔ ڈاکٹروں سے مایوسی کے بعد وہ اپنے کیمسٹری اور بائیو کیمسٹری کے علم کی جانب لوٹ گیا۔ اس نے اپنے علم کی بنیاد پر کثیر تعداد میں “وٹامن سی” لینا شروع کی اور اپنا علاج اپنے ہی علم کے مطابق شروع کر دیا۔ اسے اپنی اس لاعلاج بیماری کو ختم کرنے میں 2 سال لگ گئے۔ لیکن اس دوران وہ اس جدید میڈیکل سسٹم کا شدید ناقد بن چکا تھا۔ اس نے ایک تنظیم بنائی جس کا نام “Beyond Health”ہے اور اب تک لاتعداد ایسی کتابوں کامصنف بن چکا ہے جو دنیا کی بیسٹ سیلر ہیں۔ جن میں “Never be fat again ” (آئندہ موٹا نہ ہوں)، “Never fear cancer again” (اب کینسر سے خوفزدہ نہ ہوں)، “Never feel old again”(آئندہ بوڑھا محسوس نہ کریں) وغیرہ وغیرہ۔ اس نے صحت مندی کا ایک آسان اور انقلابی طریقہ پیش کیا جسے بچوں تک کو سمجھانا آسان ہے اور جو لاعلاج و مایوس مریضوں کو ٹھیک کردیتا ہے۔ ڈاکٹروں کی پیش گوئیوں کے برعکس وہ 1985ء سے لے کر آج تک یعنی 2018 ء تک 33 سال سے زندہ اور صحت مند ہے اور ان کے 33سالوں میں اس نے کبھی کوئی دوا نہیں لی، کبھی اس کا کوئی آپریشن نہیں ہوا اور اسے صرف دو دفعہ نزلہ ہوا۔ اپنے اس علم کی ترویج کے لئے وہ تقریبا دو ہزار دفعہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر گفتگو کر چکا ہے۔ امریکہ نے اسے ایک بہت بڑے صحت کے منصوبے “The project to end disease”کا چیئرمین لگایا۔ وہ دنیا بھر میں منعقد ہونے والی ہیلتھ کانفرنسوں میں ایک اہم مقرر کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ شخص ‘‘ریمنڈ فرانسس’’(Raymond Francis) ہے۔ دنیا بھر میں ویکسین کی ہلاکت خیزی کا پرچارک۔ یہ دنیا بھر کے میڈیا اور میڈیکل سائنس کے میگزینوں میں ویکسین سے متعلق بولے گئے جھوٹ اور ان کے انسانوں کی صحت پر خطرناک اثرات سے متعلق سائنسی اور تحقیقی دلیلیں پیش کر رہا ہے اور وہ خاص طور پر پولیو ویکسین کو بذات خود پولیو کے پھیلاؤ کی وجہ اور کینسر جیسی امراض کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک برطانیہ میں 1950ء میں پولیو اپنے عروج پر تھی۔ لیکن پولیو ویکسین 1956ء میں ایجاد ہوئی۔ اس ایجاد سے پہلے ہی 82 فیصد پولیو کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر امراض کے بارے میں بھی جو ویکسین دریافت ہوئی ہیں جن میں خسرہ، خناق، کالی کھانسی وغیرہ شامل ہیں یہ سب کی سب 1965ء سے پہلے ہی 90 فیصد سے زیادہ ختم ہو چکی تھیں اور ان سے متعلق بچوں کی اموات بھی صرف آٹھ فیصد رہ گئی تھیں، جبکہ ان سب سے بچاؤ کی ویکسین بعد میں ایجاد ہوئیں۔ وہ کہتا ہے کہ سائنس اور جدید تحقیق اس مسئلے میں بہت واضح ہیں کہ ویکسینز بے حد خطرناک ہیں۔ یہ ایک Toxic محلول ہیں جن میں ایسی اشیا شامل ہے جو ایک عقل رکھنے والا کبھی بھی انسانی جسم میں داخل نہیں کرے گا اگر وہ واقعی میڈیکل سائنس جانتا ہے۔ ان میں” Foreign proteins” ، “ForeignDNA”، “Nenobacteria”، “Viruses”، “Formaldehyde”، “mono-sodium- glumate”، “lead”، “Aluminum”، “Mercury”اور ‘‘Detergent’’ شامل ہیں۔ یہ تمام ملکر آپ کے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتی ہیں۔ وہ وائرس جو ان کے ذریعے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں وہ وہاں اپنا مستقل گھر بنا لیتے ہیں اور ساری عمر نہیں نکلتے۔ انکی وجہ سے بچے ایک نفسیاتی مرض (Autism) کا شکار ہوتے ہیں یا وہ بوڑھے جو یاداشت کھو جاتے ہیں ان کے دماغوں میں ان وائرس کی موجودگی صاف نظر آتی ہے۔ 2011ء میں ایک تحقیق کی گئی جس کا عنوان تھا ” Human experimental toxicology” اس کے مطابق ویکسین اور بچوں کی شرح اموات میں براہ راست تعلق پایا گیا۔ اس وقت دنیا کے بڑے بڑے سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ بچے جو بچپن میں ویکسین لیتے ہیں، بڑے ہوکر ان میں دمہ (Asthma)، مدافعتی نظام کا خاتمہ(Autoimmune disease)، ذہنی معذوری (cerebral Plassey)اور بچوں میں اچانک موت اور کینسر جیسی امراض پیدا ہوتی ہیں۔ آج دنیا بھر میں یہ تمام امراض ویکسین کی ایجاد کے بعد انتہائی تیزی سے پھیلی ہیں۔ ایک بچہ 6 سال کی عمر تک 16 ویکسینوں کی 46خوراکیں لیتا ہے اور 18 سال کی عمر تک 16 ویکسینوں کی 69 خوراکیں لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں بہت سے پڑھے لکھے والدین نے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا۔ اس کے فورا بعد 2015ء میں “USA today” کا ایڈیٹر “ایلکس بریزو ” (Alex Barezo)میدان میں کودا اور بولا “جو والدین بچوں کو ویکسین نہیں لگاتے وہ جیل جائیں گے” اسی رات سی این این پر صحت کے ماہرین کو بلاکر ایک پروگرام کروایا گیا اور کہا گیا کہ ویکسین نے کروڑوں بچوں کی جان بچائی ہیں اور یہ جو بچوں کی ذہنی بیماری (Autism) کا ان سے تعلق جوڑا جاتا ہے،یہ بالکل غلط ہے۔ ریمنڈ فرانسس کہتا ہے کہ امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (CDC) کے پاس گزشتہ دس سالہ ڈیٹا اور سائنسی ثبوت موجود ہے کہ یہی ویکسین Autism پیدا کرتی ہیں۔ یہ ایسی بیماری ہے جس میں بچہ نہ بولتا ہے، نہ سنتا ہے، نہ کسی بات پر ردعمل کا اظہار کرتا ہے، بس ایک دائرے میں قید ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس نے بہت بڑے ماہر متعدی امراض”Dr William Thompson” ولیم تھامسن کا 2014ء کا یہ اعترافی بیان درج کیا جس میں اس نے کہا تھا کہ میں اور میرے ساتھی ڈاکٹروں نے اپنے 2004ء کے ایک مضمون میں بہت سے ایسے حقائق چھپائے جو بچوں کے علاج کے سائنسی رسالے “Journal Pediatrics” میں شائع ہوئے تھے۔ اصل حقائق یہ تھے کہ جو بچے ویکسین لیتے ہیں ان میں Autism کی بیماری ہونے کی شرح 236% فیصد زیادہ ہے۔ پولیو ویکسین کے بارے میں تو ریمنڈ نے بہت حیرت انگیز بات کی ہے۔ وہ کہتا ہے یہ ویکسین بذات خود پولیو کا مرض پیدا کرتی ہے۔ اس نے بتایا کہ Dr Jones Salk نے 1976ء میں تحقیق کے بعد بتایا کہ امریکہ میں پولیو کی بیماری کی سب سے بڑی وجہ پولیو ویکسین ہے۔ بھارت جہاں پاکستان کی طرح بل گیٹس کے پیسوں سے پولیو ویکسین پلائی جاتی ہے وہاں کا بل گیٹس ہی کا پولیو کا نیشنل سرویلنس ڈیٹا بتاتا ہے، پولیو ویکسین کی وجہ سے سینتالیس ہزار پانچ سو (47,500) افراد فالج کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے اور اس کی اصل وجہ اس وائرس کی دماغ میں موجودگی ہے جو پولیو ویکسین کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ ویکسین کی سب سے اہم کتاب ’’ vaccination” کے مصنف ڈاکٹر ویرا شبنر (Dr Viera Seheibner) نے کہا ہے کہ دوائیوں کی تاریخ میں کوئی دوائی اتنی مہلک نہیں جتنی ویکسینیں ہیں ، سب سے زیادہ اموات ویکسین کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں خناق (Diphtheria) کی ویکسین لازمی قرار دی گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد خناق کے مرض میں 17 فیصد اضافہ ہوا اور اموات میں چھ سو فیصد۔ ریمنڈ کی تمام تحقیقات کئی سو صفحات پر مشتمل ہیں اور صرف ایک ہی نتیجہ نکالتی ہیں کہ یہ تمام ویکسین ان چند امراض کو فوری طور پر روک تو لیتی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں نے جو موذی امراض پیدا ہوتی ہیں جیسے کینسر، فا لج، دمہ، ذہنی امراض، بچوں میں ذہنی معذوری جیسی امراض ، یہ عمر بھر چلتی ہیں اور مستقل روگ بن جاتی ہیں ، ان کی ادویات بہت مہنگی ہیں اور ان امراض کی وجہ سے تمام ادویات کی کمپنیوں کا کاروبار چلتا ہے۔یہ ظالم کارپوریٹ میڈسن کا کاروباری پھندا ہے۔ یہ سب کچھ کسی مولوی کی تقریر نہیں ہے ، ایک عظیم سائنسدان کا علم ہے۔یہ علم میرے ملک کے میڈیا پر بیٹھے “خودساختہ ماہرین”اور ایوان اقتدار پر براجمان مکھی پر مکھی مارنے والے سیاستدانوں سے اس بات کا جواب چاہتا ہے کہ کیا سال میں دو یا تین پولیو کے مریضوں کے انکشاف پر لاتعداد بے گناہ پولیو ورکرز کی قربانی اور ہلاکت ضروری ہے ۔ جواب کے لیے میرا کالم حاضر ہے ۔
اشتہار


2 تبصرے “پولیو ویکسین :ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں