ماؤنٹ بیٹن، ہندوستان کی آزادی اور جوتشیوں کی پریشانی

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بڑھتے خطرات پر ایک شاندار کتاب Freedom at Midnightکا ایک باب یاد آیا۔ جب وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کون سی ڈیڈ لائن ذہن میں رکھ کر برطانیہ سے آئے ہیں؟

وائسرائے کے جواب نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور تو اور اس تاریخ کا پتہ برطانوی وزیراعظم ایٹلی اور اس کی کابینہ کو بھی نہ تھا۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے دوسرے وائسرائے تھے جنہوں نے پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ماؤنٹ بیٹن کی پہلی اور آخری پریس کانفرنس تھی۔ اس وقت ہال میں تین سو صحافی موجود تھے‘ جن میں امریکہ‘ روس‘ برطانیہ ‘ چین اور یورپ سے آئے ہوئے صحافی بھی شامل تھے ‘جو نئے وائسرئے کو سننا چاہتے تھے۔

دو ماہ کے اندر ماؤنٹ بیٹن نے بہت کچھ کر لیا تھا ۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں سے ملاقاتیں کر کے وہ بہت سے معاملات طے کرچکے تھے۔ کئی ایک سے ان کے ذاتی تعلقات بھی قائم ہوچکے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن سابق برطانوی وزیراعظم چرچل کو بھی قائل کر چکے تھے کہ ہندوستان کو آزاد اور تقسیم ہونے دیں۔

چرچل ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دینے کے بہت خلاف تھا ۔چرچل کو راضی کرنے کے لیے ماؤنٹ بیٹن نے اپنی تمام تر صلاحیتیں خرچ کر ڈالی تھیں۔ چرچل‘ جسے برطانوی وزیراعظم اور کابینہ قائل نہ کرسکی تھی ‘اسے آخرکار ماؤنٹ بیٹن نے راضی کر لیا تھا۔

جب سب صحافیوں نے وائسرائے سے سوال و جواب کر لیے تو اچانک ایک ہندوستانی صحافی نے آخری سوال پوچھ لیا کہ اگر سب لوگ راضی ہوگئے ہیں تو آپ کے ذہن میں کوئی ایک تاریخ تو ہوگی جس روز آپ پاور ٹرانسفر کر دیں گے؟ وائسرائے نے جواب دیا: جی بالکل ہے۔ صحافی نے پوچھا :اگر آپ نے تاریخ کا فیصلہ کر لیا ہے توپھر بتا دیں وہ کون سی تاریخ ہے؟

وائسرائے کے ذہن میں بہت سی تاریخیں چلنا شروع ہوگئیں ۔ جب اس سے یہ سوال پوچھا گیا تو اس وقت اس کے ذہن میں کوئی ایک تاریخ نہ تھی لیکن وہ اس بات پر قائل تھا کہ بہت جلد اسے تاریخ دینی پڑے گی۔ اب اس ہال میں بیٹھے سب لوگوں کی نظریں وائسرائے ہند پر جم چکی تھیں۔

ایک لمحے میں فیصلہ ہونے والا تھا کہ کب ہندوستان اور پاکستان آزاد ہورہے تھے۔ پورے ہال میں خاموشی تھی۔ وائسرائے کو پتہ تھا کہ اس نے دیر کی تو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان مزید خون خرا بہ ہوگا ۔ وہ ابھی ابھی کہوٹہ‘ پنڈی میں ہونے والے فسادات میں مرنے والوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر لوٹا تھا اور شدید ڈپریس تھا۔

اسے اندازہ نہ تھا کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اس لیول کو پہنچ گئی تھی کہ اب ہر علاقے سے فسادات کی خبریں آرہی تھیں۔ گائوں کے گائوں جلائے جارہے تھے۔ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا تھا ۔ کل کے ہمسائے اور دوست ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے تھے۔

سب آنکھیں لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر مرکوز تھیں۔ وہ ابھی بھی ذہن میں تاریخیں سوچ رہا تھا ۔ تو کیا ستمبر کا پہلا ہفتہ ٹھیک رہے گایا ستمبرکا دوسرا ہفتہ یا پھر اگست کا درمیانی ہفتہ؟ اچانک ماؤنٹ بیٹن کے ذہن میں ایک تاریخ پھنس گئی۔ اس تاریخ کا اس کی اپنی زندگی سے بہت گہرا تعلق تھا ۔ اس تاریخ کو برما کے جنگلات میں جاپان نے برطانیہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور وہ اس وقت برطانوی افواج کی وہاں کمانڈ کررہا تھا۔

اس سے بڑا دن اور کیا ہوسکتا تھا جب جاپانی ریاست کو شکست ہوئی تھی۔ جاپان کے سمرائی فیوڈل ازم کی جس دن شکست ہوئی تھی اس کے دو سال بعد اسی دن اگر ہندوستان پاکستان کے لیے جمہوریت کی بنیاد رکھی جائے تو اس سے اور بڑا دن کیا ہوسکتا تھا؟
وائسرائے کی آواز میں جذبات ابھرے ‘ برما کے جنگلوں کا فاتح ابھی ہندوستان کی آزادی کی بنیاد رکھنے والا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پورے ہال پر نظر دوڑائی اور بولا: پندرہ اگست کو ہندوستان کو پاور ٹرانسفر کر دی جائی گی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے یہ غیرمتوقع اعلان ہاؤس آف کامنز‘ ڈاؤننگ سٹریٹ اور بکنگھم پیلس‘ کے لیے ایک بم شیل ثابت ہوا۔

باقی چھوڑیں برطانوی وزیراعظم کو اندازہ نہ تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اتنی جلدی یہ کام کر گزرے گا ۔ اگرچہ وائسرائے کو 1948ء تک یہ کام فائنل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی لیکن برطانوی وزیراعظم بھی اتنی جلدی تاریخ کے لیے تیار نہ تھے۔ اور تو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے قریبی دوستوں کو بھی علم نہ تھا کہ کون سی تاریخ اس کے ذہن میں تھی۔

بھارتی لیڈرجن کے ساتھ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپریل مئی میں گھنٹوں اکٹھے گزارے تھے انہیں بھی پتہ نہ تھا کہ ہندوستان کو کیسے تقسیم کیاجائے۔

ہندوؤں کے لیے بھی یہ بم شیل تھا اس لیے کہ وائسرائے ہند نے تاریخ کا اعلان کرنے سے پہلے ان کے جوتشیوں سے مشورہ نہ کیا تھا۔ وائسرائے کو پتہ نہ تھا کہ ہندوستان میں کروڑوں لوگ ان جوتشیوں کے حساب کتاب پر زندگیاں گزارتے ہیں۔ وائسرائے نے ایسی غلطی کر دی تھی جس کی کوئی معافی نہ تھی۔

پوری دنیا میں ہندوستانی جتنے جوتشیوں کو مانتے تھے اور کوئی خطہ نہیں تھا۔ ہر گائوں‘ مندر اور ہر مہاراجہ کے دربار میں ایک دو جوتشی ضرور ہوتے تھے ۔چارٹ اور زائچے سے لیس یہ جوتشی ہندوستان کے بے تاج بادشاہ تھے۔لوگ اس لمحے میں خودکشی کرنے تک تیار ہوجاتے اگر انہیں بتایا جاتا کہ مرنے کا یہ بہترین لمحہ ہے حتیٰ کہ اگر بچے جو ایسے سٹار کے اثر میں پیدا ہوتے جو قسمت کا اچھا نہ ہوتا تو والدین انہیں کہیں چھوڑ آتے۔

وہ جوتشتی ان لوگوں کو بتاتے کہ کون سا ہفتہ ان کے لیے بہتر ہوگا اور کون سا نہیں‘ کون سے دن اچھے ہوں گے اور کون سے برے۔

ہندوؤں میں جمعہ اور اتوار کو اچھا دن نہیں سمجھا جاتا تھا‘مگر اب وائسرائے کے اعلان کے بعد ہندوستان میں کوئی بھی کیلنڈر کی مدد سے پتہ چلا سکتا تھا کہ پندرہ اگست کو جمعہ ہوگا ؛چنانچہ جونہی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اعلان کیا تو اسی وقت ہندوستان کے ہزاروں جوتشی ہندوستان کا زائچہ بنانے بیٹھ گئے۔

بنارس کے جوتشیوں نے فوراً اپنے چارٹس کی مدد سے یہ اعلان کر دیا کہ پندرہ اگست ہندوستان کے لیے سازگار نہیں۔ انہوں نے کہا: بہتر ہوگا ایک دن مزید فرنگیوں کی حکمرانی قبول کر لی جائے نہ کہ اس تاریخ کو آزادی لی جائے جو ہندوستان کو راس نہیں آئے گی۔

کلکتہ میں سوامی مدن آنند نے جونہی ریڈیو پر وائسرائے کا اعلان سنا تو وہ فوراً اپنے چارٹس کی طرف دوڑا اور اپنا حساب کتاب شروع کر دیا۔ وہ کافی دیر تک کاغذات پر لکیریں کھینچتا رہا ۔ وہ مختلف لکیریں لگاتا گیا اور آخر پندرہ اگست تک پہنچ گیا۔سوامی کو ایک جھٹکا لگا۔ پندرہ اگست کو ہندوستان Capricorn کے زیراثر ہوگا۔

یہ وہ سائن تھا جس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کی تمام مرکزی قوتوں کے ساتھ دشمنی بن جاتی تھی‘ اسی لیے تو ہندوستان کی تقسیم ہورہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ پندرہ اگست saturn کے زیراثر گزر رہاتھا ۔ ایک ایسا سٹار جو بہت ہی ناسازگار سمجھا جاتا ہے اور اس بارے جوتشی کہتے ہیں A star with no neck۔
اشتہار



دیگر ہزاروں جوتشیوں کی طرح اس نوجوان سوامی نے چارٹ سے نظریں ہٹائیں۔ آنے والے برسوں میں اسے اس خطے میں ہر طرف تباہی اوربربادی دکھائی دی ۔ یہ انہوں نے کیا کر دیا ہے …یہ کیا کردیا ہے ظالم نے‘ سوامی آسمان کو دیکھ کر چلایا ۔

سوامی نے آسام کے مندر میں برسوں یوگا کے ذریعے جو جسمانی ‘ ذہنی اور روحانی شکتی حاصل کی تھی وہ بھی اسے نارمل رکھنے میں ناکام ہورہی ۔ سوامی نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کیا جو آج تک کسی جوتشی نے نہیں کیا تھا نہ ہی اس کی اسے تربیت دی گئی تھی ۔

آسمانی قوتوں نے جو خطرناک پیغام اس نوجوان سوامی کو بھیجا وہ اس کے لیے برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا۔ اسے کچھ کرنا ہوگا۔ اب سوال یہ تھا آسام کا وہ نامعلوم سوامی کر ہی کیا کرسکتا تھا؟ اچانک اس بے چین سوامی کے ذہن میں ایک خیال آیا ۔ اس نے اس خطرناک زائچے کو ایک طرف پھینکا ۔ سوامی آنند ایک ایسا کام کرنے بیٹھ گیا جو نہ کوئی اور سوچ سکتا تھا اور نہ ہی کسی جوگی یا جوتشی نے پہلے کبھی یہ کیا تھا.

آسام کے مندر کا سوامی آنند کافی دیر تک سوچتا رہا ۔ ہندوستان کی آزادی کا زائچہ بنانے کے بعد اس کے اندر گھبراہٹ بڑھ گئی تھی ۔ کوئی قوت اسے مجبور کر رہی تھی کہ وہ فوراً کچھ کرے‘ وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کو روکے۔ آسمانی قوتوں کے زیر اثر اس اندرونی آواز کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے کاغذ قلم اٹھایا اور ہندوستان کے نئے وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو خط لکھنے بیٹھ گیا ۔ سوامی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کن الفاظ کا چنائو کرے تاکہ وائسرائے پندرہ اگست کی بجائے سولہ اگست کی تاریخ کو ہندوستان کو آزاد کرے۔

بے چین سوامی نے چند مختصر لکیریں ایک کاغذ پر کھینچ دیں۔ ”تمہیں بھگوان کی قسم، ہندوستان کو پندرہ اگست کو آزادی مت دو۔ اگر تم نے دی اور آنے والے وقتوں میں اس خطے میں سیلاب ، قحط ، بھوک ، جنگیں، قتل عام اور خون خرابہ ہوتا رہا تو تم ہی اس کے ذمہ دار ہوگے کیونکہ ہندوستان کا جنم ایک سٹار کے بدترین اثرات کے زیر اثر ہورہا ہوگا ‘‘۔

لارڈ مائونٹ بیٹن بھلا آسام کے اس پجاری کو کیسے سمجھا سکتا تھا کہ وہ کچھ دن پہلے پشاور اور کہوٹہ میں کیا تباہی دیکھ کر دہلی لوٹا ہے اور اس کے خواب کیسے چکنا چور ہوگئے ہیں جو وہ لے کر ہندوستان آیا تھا ۔ مائونٹ بیٹن کو سرحد اور پنجاب کے دورے نے مجبور کر دیا تھا کہ وہ برطانوی وزیراعظم ایٹلی کی 1948ء تک دی گئی ڈیڈ لائن کا انتظار کیے بغیر فوری طور پرپاکستان ہندوستان کو آزاد کرے اور دہلی پہنچ کر پریس کانفرنس میں آزادی کی تاریخ کا اعلان کر دے۔

جب مائونٹ بیٹن سے صحافی نے پوچھا کہ وہ کس تاریخ کو ہندوستان کو آزاد کرے گا، تو کوئی نہیںجانتا تھا کہ وہ کس ہیجانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ وہ برسوں برطانوی فوج کی طرف سے برما کے جنگلوں میں جنگ لڑتا رہا‘ لیکن جو کچھ اس نے راولپنڈی کے ایک گائوں میں دیکھااس نے مائونٹ بیٹن کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چند دن پہلے اپنی بیوی ایڈوینا کے ساتھ جب مائونٹ بیٹن پنجاب پہنچا تھا تو گورنر پنجاب اسے راولپنڈی کے ایک گائوں لے گیا، جہاں بدترین فسادات ہوئے تھے ۔ اس گائوں میں دو ہزار ہندو رہتے تھے، جبکہ سکھوں اور مسلمانوں کی آبادی پندرہ سو تھی۔ ان سب نے مل کر ایک دوسرے کے لہو سے ہولی کھیلی اور ہر طرف تباہی اور بربادی کے مناظر نے مائونٹ بیٹن کا استقبال کیا تھا۔

اس گائوں میں اگرکوئی چیز دور سے دیکھی جاسکتی تھی ‘جو اس دن بچ گئی تھی تو وہ ایک مسجد اور سکھوں کا گوردوارہ تھا ۔ باقی سب کچھ جل کر راکھ ہوچکا تھا ۔ صرف ایک رات پہلے گوروں کی ایک رجمنٹ اس گائوں سے گزری تو یہ تین چار ہزار لوگ بڑے آرام سے اچھے ہمسایوں کی طرح آرام اور بھروسے کے ساتھ سو رہے تھے‘ جیسے وہ برسوں سے کرتے آئے تھے۔
اشتہار


صبح تک پنڈی اطلاع پہنچی کہ اس گائوں میں اب کوئی نہیں بچا ۔ کہیں سے بھیڑیوں کے غول کی طرح کچھ لوگ اس گائوں پرحملہ آور ہوئے جن کے ہاتھوں میں پٹرول تھا‘ جس سے انہوں نے پہلے سکھوں اور ہندوئوں کے گھر جلانے شروع کیے اور پھر مسلمانوں کی باری آئی ۔

خوش قسمت بھاگ گئے باقی مارے گئے۔ چند لمحوں میں پورا گائوں آگ کے شعلوں میں جل رہا تھا ۔ ہر طرف چیخ و پکار ہورہی تھی۔جلی ہوئی لاشوں اور انسانی لہو کی بو کئی دن تک اس علاقے پر چھائی رہی۔

اس لیول کی تباہی دیکھنے کے بعد دہلی لوٹ کر لارڈ مائونٹ بیٹن نے لندن ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا: ‘جب تک میں کہوٹہ نہیں گیا تھا مجھے اس خوفناک تباہی کا اندازہ نہ تھا ‘ پنڈی کے اس گائوں میں ہونے والے اس قتل عام نے مائونٹ بیٹن کی سوچ کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا ۔پنجاب کے اس گائوں آنے سے پہلے جب مائونٹ بیٹن پشاور پہنچا تو جہاز کے اترنے سے پہلے ہی وہ ہزاروں پٹھانوں کو شہر بھر میں دیکھ سکتا تھا جو اس کی آمد پر اکٹھے ہوئے تھے۔

شدید گرمی نے پٹھانوں کے مزاج کو مزید گرم کیا ہوا تھا ۔ اس مجمع میں پھیلے غصے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس صوبے کی 93 فیصد آبادی مسلمان تھی‘ لیکن وہاں حکومت ان پارٹیوں کی تھی جو مسلم لیگ کے اس نعرے پر یقین نہیں رکھتی تھی کہ ہندوستان کو تقسیم کیا جائے۔
عبدالغفار خان، جنہیں سرحدی گاندھی کا خطاب ملا ہوا تھا‘ جوپٹھانوں کے اس معاشرے میں، جہاں معمولی سے جھگڑے کا فیصلہ بھی بندوق اور گولی سے ہوتا تھا‘ گاندھی کی عدم تشدد کی پالیسی پر سیاست کررہے تھے۔ سڑکوں پر پٹھان اب بپھرے ہوئے تھے ۔ یہ سب ہزاروں بپھرے ہوئے لوگ اس لیے آج پشاور میں اکٹھے ہوئے تھے کہ وہ لارڈ مائونٹ بیٹن ، ان کی بیوی ایڈوینا اور سترہ سالہ بیٹی پامیلا کو یہ بتا سکیں کہ یہ صوبہ مسلم لیگ کا گڑھ ہے نہ کہ سرحدی گاندھی کا ۔

وہ سب اپنا یہ پیغام اچھی طرح نئے وائسرائے ہند کے ایئرپورٹ پر اترنے سے پہلے ہی پہنچانے میں کامیاب ہوچکے تھے ‘جو جہاز کی کھڑکی سے نیچے پشاور کی سڑکوں پر ہر طرف پھیلی پگڑیاں دیکھ چکا تھا۔

جب انگریز گورنر سرحد نے یہ صورتحال دیکھی تو وہ مائونٹ بیٹن کو سخت سکیورٹی میں ایئرپورٹ سے سیدھا اپنی رہائش گاہ لے گیا ۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ صورتحال کو خراب کررہا تھا۔ اب تک تو پولیس والوں نے اس ہجوم کو ایک جگہ قابو کر رکھا تھا‘ لیکن لگ رہا تھا زیادہ دیر تک وہ ہزاروں کے اس بپھرے مجمعے کو نہیں روک سکیں گے۔
اشتہار



وائسرائے کی آمد کی خبر سن کر وہ سب اور زیادہ پرجوش ہوگئے تھے۔ اب ہجوم یہ دھمکی دینے پر اتر آیا تھا کہ وہ لوگ پولیس کا حصار توڑ کر گورنر سرحد کی رہائش گاہ پر چڑھائی کریں گے جہاں مائونٹ بیٹن اپنی بیوی، اور بیٹی کے ساتھ موجود تھا ۔

وہ گورنر ہاؤس کی طرف مارچ شروع کرتے تو پولیس اور فوجی دستوں کے پاس ہجوم پر فائرنگ کے علاوہ کوئی آپشن نہ بچتا ۔ اگر صورتحال یہاں تک پہنچ جاتی تو یہ سوچ کر ہی بندہ کانپ اٹھتا ہے کہ کتنے لوگ اس میں مارے جاتے‘ جیسے جلیانوالہ باغ میں مارے گئے تھے۔

کیا مائونٹ بیٹن جنرل ڈائر کی طرح ہندوستان چھوڑنے سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں لاشیں چھوڑ جانا افورڈ کرسکتا تھا ؟جبکہ جلیانوالہ باغ کا لہو ابھی تازہ تھا۔ اگر ہجوم گورنر ہاوس کی طرف مارچ شروع کردیتا جہاں مائونٹ بیٹن ، اپنی بیوی اوربیٹی کے ساتھ موجود تھا ، اور ہجوم کو روکنے کے لیے فائرنگ شروع ہوجاتی تو مائونٹ بیٹن تباہ ہوکر رہ جاتا ، اس کا ہندوستان کو سکون اور آرام سے آزاد کرنے کا خواب بکھر جاتا۔

مائونٹ بیٹن کے چہرے پر پھیلی شدید پریشانی دیکھ کر انگریز گورنر نے ایک خوفناک تجویز پیش کی۔ وہ تجویر سن کر پولیس اور فوجی کمانڈر نے فوراً مخالفت کر دی۔

مائونٹ بیٹن کافی دیر تک اپنے گورنر کی طرف دیکھتا رہا جو اس کے جواب کا انتظار کررہا تھا ۔ آخر لارڈ مائونٹ بیٹن کے اندر موجود ایک برطانونی جنگجو افسر نے ،جو برما کے محاذ پر جنگ عظیم لڑ چکا تھا‘ انگڑائی لی۔ اس نے وہ خطرناک قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا جس کا مشورہ اسے گورنر نے دیا تھا۔

”ٹھیک ہے۔ میں تیار ہوں۔ میں یہ خطرہ مول لینے کو تیار ہوں‘‘ مائونٹ بیٹن بولا۔

لیکن مائونٹ بیٹن کو پتہ نہیں تھا اس سے بڑا جوا اس کی بیوی ایڈوینا مائونٹ بیٹن کھیلنے جارہی تھی ‘جو اب تک خاموشی کے ساتھ کھڑی ساری گفتگو سن رہی تھی۔

اگلے چند لمحوں میں کیا ہونے والا تھا وہ کسی کو پتہ نہیں تھا ۔ پشاور کی سڑکوں پر بپھرے پگڑیاں پہنے پٹھان گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی دھمکی دے رہے تھے ‘جبکہ گورنر کی رہائش گاہ میں محصور لارڈ مائونٹ بیٹن اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلنے کو تیار ہوچکا تھا۔

لیڈی مائونٹ بیٹن نے اپنے خاوند کو دیکھا اور بولی کہ وہ اسے یہ جوا اکیلے نہیں کھیلنے دے گی ۔ مائونٹ بیٹن امتحان میں پھنس گیا ۔ایک طرف انگریز گورنر کا خوفناک مشورہ تھا، جسے فوجی کمانڈر اور پولیس فورس کے سربراہ مسترد کر چکے تھے تو دوسری طرف ایڈوینا مائونٹ بیٹن اچانک ہی ضد پر اتر آئی تھی ۔

پشاور کی سڑکوں پر پگڑیاں پہنے ہزاروں بپھرے ہوئے پٹھان گورنر کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کی دھمکی دے رہے تھے تو اسی وقت گھر کے اندر ضد پر اتری مائونٹ بیٹن کی بیوی ایڈوینا ، لیڈی ایڈوینا بے چینی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ اس کی ضد پر کیا فیصلہ کرتا ہے۔ (جاری)

بشکریہ روزنامہ دنیا

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں