پاکستان کا او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت سے انکار

اسلام آباد: پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج او آئی سی کا اجلاس ہے، جس میں بھارت کی شرکت سمجھ سے بالاتر ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نہ ہی او آئی سی کا رکن ہے نہ مبصر ہے اس کے باوجود اسے کسی کی بھی مشاورت کے بغیر مدعو کیا گیا کیوں کہ ترکی، ایران اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل بھی اس سے لاعلم نظر آئے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ میں نے شیخ عبداللہ سے 2 مرتبہ رابطہ کیا اور تاریخی حوالوں کے ساتھ پاکستانی مؤقف پیش کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ بھارت کو مدعو کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

جس پر انہوں نے کہا بھارت کو دعوت دیتے وقت پلوامہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا اور اب جب کہ دعوت نامہ بھیجا جاچکا ہے تو اسے واپس لینا مشکل ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ بھارت کی جارحیت کے بعد انہوں نے دوبارہ یو اے ای حکام سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ حالات مزید تبدیل ہوگئے ہیں لہٰذا پاکستانی عوام کے جذبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اجلاس کے دعوت نامے پر نظرِ ثانی کی جائے یا اجلاس مؤخر کردیں، تاہم جواب میں انہوں نے اپنا مؤقف پیش کیا جو ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی میں پاکستان کی 19 قرارداد موجود ہیں جن میں کشمیریوں پر کیے جانے والے ظلم وستم کا تذکرہ بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا مؤقف ہے جس کے دفاع کے لیے ہمارے عہدیدار وہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کویقینی بنایا جائے گا اگر کوئی ہندوستان کو مبصر کا درجہ دینے کی کوشش کرے تو پاکستان اس کی مخالفت کرے گا۔

انہوں نے بتایا ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی اسے ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ ترکی اپنا کردار ادا کرے گا۔

وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے 2 پیش رفت کا ذکر کیا جس میں صدر ٹرمپ کا بیان کا ذکر کیا اور اس کا خیر مقدم کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بات ہوئی جس میں اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل نے پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کاکردار ادا کرنےکی خواہش کا اظہارکیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ ہندوستان میں انتخابات سے قبل کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوسکتا ہے اور اب بھارت کی خود 21 جماعتوں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم بھارتی فوج کو استعمال کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل کےثالثی کےکردارپر پاکستان کو اعتراض نہیں اور روس نے بھی پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کی جس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کا نہیں معلوم ، پاکستان امن کے لیے ہر جگہ ہر فورم پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔

بعدازاں شاہ محمود قریشی نے ایوان میں قرار داد بھی پیش کی جس میں کہا گیا کہ بھارت جموں کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے اور بھارتی جارحیت کی وجہ وہاں ہونے والے انتخابات ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں