لمبے ناک والے کی تلاش

وزیر اعظم جناب عمران خان کی پارلیمنٹ میں کی گئی غیرمعمولی تقریر نے اس خطے میں چھائے جنگ کے خطرات کو کسی حد تک دور کر دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی پائلٹ کو رہا کر کے بڑی سمجھداری سے بال بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔کئی برس پہلے مجھے عمران خان صاحب کے حوالے سے ایک کنفیوژن تھی کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو کیا دہشت گردی کے حوالے سے مسائل کو حل کر پائیں گے ؟

کیونکہ انہیں پاکستان میں طالبان کا حامی سمجھا جاتا تھا ۔ ان کا نان سٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے مؤقف بھی اتنا متاثر کن نہ تھا۔ تاہم میری غلط فہمی اس وقت دور ہوگئی جب میں نے ان کا بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیا گیا انٹرویو دیکھا۔

جب ان سے یہی سوال پوچھا گیا جو میرے ذہن میں تھا‘ تو عمران خان صاحب نے بڑی سمجھدارانہ بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگر وزیراعظم بن گئے تو اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارے ہمسایوں کو یہی اعتراض رہتا ہے کہ ہماری سرزمین نان سٹیٹ ایکٹرز استعمال کرتے ہیں‘ جس سے خطے میں تشدد بڑھتا ہے۔ اگر یہ اعتراض ہی نہ رہا تو یقینا خطے میں امن ہوگا ۔

پچھلے کالموں کی چوتھی قسط لکھنے کے لیے کتاب ڈھونڈنے کی کوشش کی تو نہ ملی ۔ میں نے مجاہد کو کہا: یار وہ کتاب تو ڈھونڈو ۔ مجاہد کو اس کتاب کی اور کوئی نشانی یاد نہ تھی‘ بولا: آپ اس کتاب کی بات کررہے ہیں جس پر ایک لمبے ناک والے بندے کی فوٹو چھپی ہوئی ہے۔

وہ دراصل” فریڈم ایٹ مڈ نائٹ ‘‘کے سرورق پر چھپی ہوئی گاندھی جی کی تصوریر کا حوالہ دے رہا تھا ۔ لمبے ناک والا گاندھی کئی حوالوں سے جانا جاتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے انہیں مکار لومڑی کا خطاب دیا تھا تو مسلمان انہیں دہلی سے باہر نہیں جانے دیتے تھے کہ اگر وہ چلے گئے تو ہندوئوں نے انہیں کاٹ کر رکھ دینا ہے۔

قائداعظم ؒنے نہرو کو A Peter Pan کا لقب دیا تھا‘ جس کا مطلب تھا کہ نہرو کو کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہونا چاہیے تھا سیاستدان نہیں۔ قائداعظمؒ کا خیال تھا کہ نہرو نے اپنی روایتی برہمن مغروریت اور چالاکی کو مغربی تعلیم کے لبادے میں اوڑھا ہوا ہے‘ جبکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی کو ایک افسردہ چڑیا کا نِک نیم دیا ہوا تھا۔

ہندوستان کی تقسیم کے قریب گاندھی خود کو اکیلا سمجھنے لگ گئے تھے۔ ایک دفعہ ایک شخص سے انہوں نے کہا: سب میری تصویروں پر ہار چڑھاتے ہیں‘ میرے مجسمے بناتے ہیں لیکن میری بات ماننے کو تیارنہیں ۔ گاندھی نے ہندوستان کی آزادی سے پہلے خود کو اکیلا سمجھنا شروع کر دیا اور ایک دفعہ رات کے تین بجے ان کی آنکھ کھل گئی تو خود سے ہم کلام ہوئے: آج میں خود کو اکیلا محسوس کرتا ہوں‘ اور تو اور اب نہرو اور سردار پٹیل بھی میری بات نہیں سنتے۔

ان دونوں کا خیال ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی فساد نہیں ہوگا۔ اب تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ شاید عمر بڑھنے کے ساتھ میں سٹھیا گیا ہوں۔ کچھ دیر بعد وہ بولے :شاید وہ دونوں درست کہتے ہیں‘ میں اکیلا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوں۔

گاندھی نے ایک دفعہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ وہ بچے کو دو حصوں میں کاٹنے کی بجائے پورا بچہ جناح ؒصاحب کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔ گاندھی نے جناحؒ صاحب کو بتایا کہ وہ تیس کروڑ ہندو ان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں کہ وہ ان پر حکومت کریں اور مسلم لیگ کو کہیں کہ وہ ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت قائم کرے۔

گاندھی کا خیال تھا کہ اس عدم تشدد کی تجویز سے ہندوستان میں مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کا خون نہیں بہائیں گے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی سے پوچھا :آپ کا کیا خیال ہے‘ آپ کی پارٹی کانگریس جنا ح صاحب کو پورا ہندوستان حوالے کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی ؟ گاندھی کا خیال تھا کہ کانگریس بھی ہندوستان کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے یہ تجویز قبول کرنے کو تیار ہوجائے گی ۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی سے پوچھا: اس پر جناحؒ صاحب کا کیا ردعمل ہوگا؟ گاندھی نے جواب دیا: اگرآپ نے جناحؒ صاحب کو بتایا کہ یہ تجویز میں نے دی ہے تو پتا ہے وہ کیا کہیں گا؟ وہ ہنس کو بولے: جناحؒ کہیں گے: چالاک گاندھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کچھ دیر خاموش رہے اور سوچتے رہے کہ یہ تجویز قابل عمل نہیں‘ تاہم وہ اس تجویز کو فوراً مسترد کرنے کا بھی نہیں سوچ رہے تھے‘ جس سے ہندوستان متحد رہ سکے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر گاندھی سے کہا: اگر آپ مجھے یقین دلا سکیں کہ کانگریس اس تجویز کو قبول کر لے گی اور اس پر سنجیدگی سے عمل کرے گی تو میں یہ تجویز ماننے کو تیار ہوں۔ گاندھی یہ سن کر اپنی کرسی سے اچھل پڑے اور ماؤنٹ بیٹن کو یقین دلاتے ہوئے کہا: میں بالکل سنجیدہ ہوں ۔ میں پورے ہندوستان کا دورہ کروں گا تاکہ لوگوں کو اس فیصلے پر تیار کرسکوں۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد ایک ہندوستانی صحافی نے گاندھی جی کو دیکھا تو اسے لگا وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ جب وہ قریب گیا تو گاندھی جی اچانک اس صحافی کی طرف مڑے اور اسے سرگوشی میں کہا: میرا خیال ہے میں نے وقت کا دھارا بدل دیا ہے۔ بعد میں جو کچھ ہوا اور گاندھی تاریخ کا دھارا نہ بدل سکے ‘اس پر پھر کسی وقت لکھوں گا ۔

دوسری طرف لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور قائداعظمؒ کی چھ ملاقاتیں ہوئیں جو بہت اہم تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے جناحؒ صاحب پر بہت حربے اور طریقے آزمائے‘ باتیں کیں‘ جواز پیدا کیے‘ فارمولے ڈسکس کیے‘ لیکن وہ ان کی قوت ارادی کو شکست نہ دے سکے کہ انہوں نے پاکستان بنانا تھا ۔

اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ پر جناحؒ صاحب کا مکمل کنٹرول تھا۔ ان کے نیچے کے لیڈرز ہوسکتا ہے بات چیت یا سودے بازی کے لیے تیار ہوں‘ لیکن جب تک جناحؒ زندہ رہے کوئی یہ جرأت نہیں کرسکتاتھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ کلکتہ میں ایک سال پہلے جو ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے ان کی یاد ابھی تازہ تھی اور قائد اعظم ؒکسی قیمت پر پاکستان کے مطالبے سے ہٹنے کو تیار نہ تھے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن ان سے چڑ گیا تھا کہ وہ پاکستان کے علاوہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔

تاہم جناحؒ صاحب اور ماؤنٹ بیٹن ایک ہی بات پر راضی تھے کہ یہ کام جتنا جلدی ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔ ایک دفعہ یہ ہندوستان کی تقسیم مکمل ہوجائے تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

جناح ؒصاحب نے اپنی وکالت کے دنوں کا ایک واقعہ بھی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو سنایا کہ ایک دفعہ دو بھائیوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم پر جھگڑا ہوگیا ۔ دو سال بعد عدالت نے ان کا جھگڑا نمٹا دیا تو کچھ دیر بعد ان بھائیوں کا جھگڑا بھی ختم ہو گیا۔ جناحؒ صاحب نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بتایا کہ یہی کچھ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا۔ دونوں کچھ عرصے بعد دوست بن جائیں گے۔

جناحؒ صاحب نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بتایا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں‘ ان کا کلچر‘ تہذیب ‘ زبان‘ ادب‘ آرٹ ‘ تاریخ اور روایات ‘ ہر شے مختلف ہے۔ بھارت کبھی بھی ایک ملک یا قوم نہیں رہا ۔ یہ صرف نقشے پر ہی ایسا لگتا ہے۔ میں گائے کھانا چاہتا ہوں تو مجھے ہندو روک دیتے ہیں ۔ جب بھی میں کسی ہندو سے ہاتھ ملاتا ہوں تو اسے اپنا ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ مسلمانوں اور ہندوئوں میں اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ غلامی ہے۔ دونوں انگریزوں کے غلام رہے ہیں ۔

میں نے لمبے ناک والے کی کتاب ایک طرف رکھی اور سوچنے لگا کہ انسانی نفسیات بھی کیا چیز ہے۔ یہی ہندو اور مسلمان جو 1857ء میں انگریزوں کے خلاف ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے‘ وہ آزادی کے بعد ستر سال سے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں ۔ تین جنگیں لڑ چکے‘ چوتھی جنگ جو شاید آخری ہوگی ‘کی تیاری جاری ہے۔

تو کیا اس بدنصیب خطے کے لوگ صرف اس وقت ہی سکون اور آرام سے رہ سکتے ہیں جب ان پر بیرونی قومیں ڈنڈے سے راج کرتی ہیں ‘ غلام بنا کر رکھتی ہیں اور انہیں لوٹتی ہیں ‘اور یہ لوگ آزادی ملتے ہی ایک دوسرے کے گلے کاٹنا شروع ہوجاتے ہیں ۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں