ansar-abbasi

پاکستان نے تین روزہ جنگ میں بھارت کو شکستِ فاش دے دی

تاریخ لکھے گی کہ پاکستان نے بھارت کو فروری 2019ء میں تین روزہ جنگ میں شکستِ فاش سے دوچار کیا۔ پلوامہ واقعہ کو بہانہ بنا کر بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر جارحیت کی اور اپنے چھ سات جنگی طیاروں کے ذریعے لائن آف کنٹرول کو کراس کرکے بالاکوٹ کے گائوں جابہ میں بم گرانے کے بعد اُس وقت واپس فرار ہوگیا جب پاکستانی ائیر فورس نے اس فضائی حملے کی اطلاع پر فوری اپنا دفاعی ردعمل دیا۔ اس حملے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا کہ اُس نے جابہ (بالاکوٹ) میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود تقریباً ساڑھے تین سو افراد کو بھی مار دیا۔ لیکن جب صبح ہوئی تو علاقہ کے لوگوں کے علاوہ پاکستانی فوج اور میڈیا کے افراد متاثرہ علاقے میں پہنچے جہاں نہ کوئی عمارت گری ملی اور نہ ہی کسی انسان کی جان گئی۔ ہاں! جائے وقوعہ سے ایک کوّا ضرور مرا ہوا ملا۔ جہاں بمباری کی گئی تھی وہاں کچھ گڑھے ضرور پڑے اور درخت گرے ہوئے ملے جس کی بعد میں انٹرنیشنل میڈیا نے بھی توثیق کر دی۔ اگرچہ پاکستان کو کوئی جانی و مالی نقصان تو نہ پہنچا لیکن پاکستانی قوم کو یہ دکھ ضرور تھا کہ جارحیت کرنے والے بھارتی جنگی جہاز بچ کر کیوں نکل گئے۔ اس ناکام حملے کے باوجود بھارت کی مودی حکومت اور وہاں کا میڈیا شادیانے بجا رہا تھا، ایسے میں پاکستان کی حکومت اور افواج نے تمام حقائق بتاتے ہوئے دنیا کو باور کرا دیا کہ ہم اپنے مرضی کے وقت اور مقام پر اس بھارتی جارحیت کا جواب دیں گے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمارا جواب ایسا ہو گا کہ بھارت حیران و پریشان رہ جائے گا۔ پاکستان کے اس اعلان کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر پاک فضائیہ نے ایک کامیاب حکمت عملی کے تحت دو بھارتی جنگی جہازوں کو اپنے علاقہ میں ٹریپ کرکے مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ ابھینندن کو زندہ گرفتار کر لیا۔ دشمن کے جنگی جہازوں کو گرانے کا یہ عظیم کارنامہ پاکستان ائیر فورس کے پائلٹ اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی نے سر انجام دیا۔ بھارتی جنگی جہازوں کو مار گرانے اور ایک بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کی خبر نے ایک طرف پاکستانی قوم میں 1965ء کی جنگ کا جذبہ تازہ اور پورے ملک میں جشن کا سماں پیدا کر دیا تو دوسری طرف بھارت میں جیسے موت برپا ہو گئی۔ وہ بھارت جو کتنے عرصہ سے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ریجنل پاور کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، پاکستان کے خلاف اپنی اس جارحیت کے بعد دو دن کے اندر ہی دفاعی طور پر ننگا ہو گیا اور ایک ایسا ملک بن کر ابھرا جس کی فوجی قوت انتہائی کمزور اور جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہے۔ اپنے جنگی جہازوں کے گرائے جانے پر دنیا بھر میں بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے بھارتی حکومت اور افواج نے پاکستان پر میزائل حملے کرنے کا پلان بنایا لیکن جب دیکھا کہ پاکستان نہ صرف ان حملوں کو روکنے کے لیے تیار ہے بلکہ پہلے سے زیادہ شدید جوابی حملہ کر سکتا ہے تو مودی اور اُس کی فوج کے سربراہان کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس دوران اگرچہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج اور سویلین آبادی پر گولہ باری کی لیکن وہاں بھی اسے منہ کی کھانا پڑی۔ جس دن پاکستان نے امن کے قیام کی خاطر بھارت کے قیدی پائلٹ کو اُس کے سپرد کیا، اُس سے اگلے روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کچھ اس طرح اس تین روزہ جنگ کی شکست کو تسلیم کیا کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان کی ائیر فورس کی برتری کو بالواسطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان دنوں ملک میں بہت شور مچ رہا اور سوال اٹھ رہا ہے (کہ بھارتی جنگی جہازوں کو پاکستان نے مار گرایا) لیکن اگر بھارت کے پاس رافیل (جنگی طیارہ جو مودی حکومت لینا چاہ رہی تھی) ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ رافیل طیاروں کی کمی پورے ہندوستان نے محسوس کی ہے‘‘۔ لیکن مودی اور بھارت کو کون سمجھائے کہ مسلمان اسلحے کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور جذبۂ شہادت کے زور پر جنگ لڑتے اور فتح حاصل کرتے ہیں۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

رافیل طیاروں سے امیدیں جوڑنے والے مودی کو علامہ اقبال کے ہی ایک اور شعر کی صورت میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں