Orya-Maqbool-Jan

’’میں (محمد ﷺ)، ہر اس مسلمان سے بری ہوں‘‘

مخبر صادق، ہادی برحق حضرت محمد ﷺ کی چودہ سو سال پہلے دی گئی وارننگ آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کی اس جماعت کی شہادت کے بعد یہ فرمایا تھا کہ میں (محمد ﷺ) ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ نے سوال کیا یارسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ تم یہ امتیاز نہ کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)۔ یہ جماعت ایک غیرمسلم بستی میں جا کر آباد ہو گئی تھی ، جبکہ ریاست مدینہ موجود تھی اور اس بستی کے لوگوں نے انہیں ویسے ہی شہید کر دیا تھا جیسے نیوزی لینڈ کی دونوں مساجد میں مسلمان شہید کر دیے گئے۔ یہ وارننگ ایک دفعہ نہیں دی گئی۔ آپ ﷺنے ایک اور جگہ فرمایا “جو مشرک کے ساتھ بیٹھا اور اس کے ساتھ سکونت اختیار کی وہ اسی کی مانند ہے (سنن ابی داؤد)۔ صرف رہنے کی بات نہیں محبت کرنے پر بھی کس قدر وعید ہے، فرمایا میرے آقا ﷺ نے “جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو وہ انہی میں شمار ہوگا” (سنن ابی داؤد)، اس بات کو ایک اور جگہ کس قدر وضاحت سے فرمایا “جس شخص نے کسی قوم سے محبت کی تو وہ ان میں شمار ہوگا، اور بے شک آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ محبت کی ہوگی (سنن ابی داؤد)۔ کچھ لوگ اسے ہجرت سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنے ذاتی منصب وجاہ اور وسعت مال کو اس ہجرت کا بدل قرار دیتے ہیں جیسی صحابہ کرام نے مکہ مکرمہ کے اذیت ناک ماحول سے سرکارِ دو عالم کی اجازت سے فرمائی تھی۔ کس قدر سچ کہا ہے ہمارے دوست افتخار عارف نے شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا یہاں تو شکم کی آگ بھی نہیں ہے، کوئی کسی مسلمان ملک میں قحط بیماری اور غربت سے موت کی وادی میں نہیں جا رہا ہوتا۔ آپ لاتعداد یورپ کے ممالک میں جانے والے پاکستانیوں اور دیگر مسلمان ملکوں سے آئے ہوئے افراد کے پاس جائیں، ان میں اکثریت اپنے ملکوں سے بھی کم آمدن پر نوکریاں کر رہے ہوتے ہیں، جس طرح کمروں میں باریاں لگا لگا کر سوتے ہیں، ویسا وہ اپنے گاؤں میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں نے ہزاروں لوگوں سے گفتگو کی، ان کی تان آخر اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ ایسی آزادی، یہ کھلا ڈلا ماحول ہمیں واپس جانے ہی نہیں دیتا ،ورنہ اس ملک میں ہم سے زیادہ تنگ کون ہے۔ ایک دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صرف اور صرف اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کی ہوس میں وطن چھوڑتے ہیں، وہ ان مواقع کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور پھر عمر بھر کے لئے وہیں آباد ہو جاتے ہیں۔ تیسری قسم ان کاروباری حضرات کی ہے جو اپنے کاروبار کو صرف اور صرف غیر ملک میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تمام ہجرتیں وہ ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے خصوصاً یہ کسی ایسے ملک سے کی جائیں جہاں آپ کو اللہ کی طرف سے رزق میسر ہو، آپ کو اپنے دین پر کاربند رہنے کے حوالے سے کوئی پابندی نہ ہو اور آپ دین کا اہم ترین فریضہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) بحسن و خوبی ادا کر سکتے ہوں اور آپ کو اپنی استطاعت کے مطابق ایسا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ ہجرت صرف اس صورت اللہ کے ہاں مقبول ہے جب آپ کسی بستی میں اسقدر تنگ کر دیے جائیں کہ آپ اپنے دین پر کار بند نہ رہ سکیں۔ اسی لئے فرمایا اور یہ پیشگوئی رسول اکرم ﷺنے کی “جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہو جاتا تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا (سنن ابی داؤد)۔ باقی سب دنیا ہے اور صرف دنیا۔ لیکن کیا اس طرح انسانوں کا ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونا جدید مفکرین کے ہاں بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ سماجیات اور معاشرت کے تمام جدید و قدیم مفکرین اسے ” Brain Drain” کہتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کے کارآمد افراد کا ایک شہر سے ہجرت کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے وہ معاشرے تباہ و برباد ہوتے ہیں۔ گزشتہ ایک سو سال سے مغرب کو کارآمد مزدور چاہیے تھے، اس لیے دنیا کے ہر کونے سے لوگوں کو بے شمار ترغیبات دے کر یہاں لایا گیا۔ ان ترغیبات کا آغاز نصاب تعلیم سے ہوتا ہے۔ بچوں کے ذہن کی دیوار پر ایک ایسا ماحول نقش کیا جاتا ہے جو صرف یورپ میں ہی میسر آ سکتا ہے۔ نرسری کی نظمیں، کارٹون کہانیاں سب کی سب خوابوں کی صورت اس کے دماغ میں بٹھا دی جاتی ہیں۔ یوں اس کے خواب صرف ان ہی خطوں میں جاکر پورے ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں اسے پڑھایا گیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد میڈیا کے ذریعے اس ماحول کی چکاچوند کو ان ملکوں کے عوام کے ذہنوں میں جگمگایا جاتا ہے۔ یوں ایک نسل اپنا گھر بار چھوڑ کر ان ملکوں میں آباد ہونے پر قائل ہو جاتی ہے۔ ایک اور معاملہ یہ ہے گذشتہ سو سال میں مغرب پر ایک اور افتاد ٹوٹی کہ جس آبادی کو کنٹرول کرنے اور خوشحال زندگی گزارنے کے لیے انہوں نے مانع حمل ادویات کا آغاز کیا ہے، اس نے 25 سے زیادہ ممالک کی آبادی اس قدر کم کر دی کہ اگر وہ باہر سے افراد نہ بلائیں تو ان کی سٹریٹ لائٹس، پانی کی ترسیل، سڑکوں کی دیکھ بھال، باغات کی تزئین و آرائش یہاں تک کہ ان کے مردے دفن کرنے والا بھی انہیں میسر نہ ہو۔ ایسے سب کے سب ممالک یورپ میں پائے جاتے ہیں۔ رہی بات آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی تو وہاں گورا طوفان کی طرح آیا اور اس نے وہاں کی مقامی آبادی کا قتل عام کیا۔ 1788ء میں برطانوی لوگ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاقوں میں جا کر آباد ہوئے اور وہاں موجود سات لاکھ کے قریب انسانوں کو تہہ و تیغ کرنا شروع کیا اور آج ان دونوں ممالک میں آپ کو صرف اور صرف گورا کلچر (white man culture)نظر آئے گا۔ یہ گورا تعصب اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے۔ اس تعصب کو جو بھی نظریہ راس آئے وہ اسے اوڑھ لیتا ہے۔ اگر عیسائیت اس کے تعصب کو ہوا دے تو کئی صدیاں اس تعصب کو صلیب میں چھپا کر صلیبی جنگیں لڑتا ہے، اگر قومی بالادستی اس تعصب کی آبیاری کرے تو جنوبی امریکہ سے لے کر خلیجی جزائر تک سپین، پرتگال، ولندیز، فرانس اور برطانیہ کے گورے دنیا کے ہر خطے پر قابض ہو گئے۔ برصغیر میں انگریز تھے تو افریقہ میں فرانسیسی، مشرق بعید میں ولندیزی تھے تو جنوبی امریکہ میں ہسپانوی۔ لیکن جنگ عظیم دوم کے بعد یہ قبضے ختم ہوئے۔ عالمی معاشی نظام نے ایک اور طرح کی غلامی کا آغاز کیا جس کا حاکم امریکہ بن گیا۔ اب ان گوروں کے ملکوں میں ادیبوں اور شاعروں نے گوروں کی تہذیب اور برتری کا ماتم شروع کر دیا۔ لاہور میں عمر گزارنے والے رڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling)نے اپنی مشہور تصنیف “White man Burdon”لکھ ڈالی۔ ادھر گوروں کے دیس میں انسانوں کی بہت ضرورت تھی اور وہ تو باہر سے پورا ہونا تھی۔ چاروں جانب ایشیائی اور افریقی نظر آنے لگے۔ 1862 میں ابراہم لنکن نے جس گورے کی بالادستی کے تصور کا خاتمہ کر کے سیاہ فام کو برابر لاکھڑا کیا تھا ، 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب نے ایک بار پھر گوروں کو امریکہ فتح کرنے کا موقع دے دیا۔ شو پنہار جیسے فلاسفر کے (White supremacy) “گورے کی برتری “کے تصور سے لے کر آج تک گورے کی یہ دہشت گردی کسی ایک فرد کا پاگل پن نہیں ہے، کسی ایک کا انفرادی فعل نہیں، پوری تاریخ اور تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ گورے کی برتری کو اگر مسلمان چیلنج کرے گا تو اسے دہشتگرد قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا ، اور اگر ایسا پیلی جلد والا میکسیکو کا رہائشی کرے گا تو اربوں ڈالر لگا کر اس کے سامنے دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ سچ فرمایا مخبر صادق ﷺنے “لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک اہل ایمان کا خیمہ جس میں بالکل نفاق نہ ہوگا، دوسرا منافقین کا خیمہ جس میں بالکل ایمان نہ ہوگا (ابوداؤد، مسندرک، الفتن)۔ وہ وقت آ چکا ہے جب آپ کو شکم کی آگ بجھانے کے لیے بھی کوئی وہاں رہنے نہ دے گا۔ اس سے پہلے کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں بچنے کے لیے واپس گھروں کو لوٹو ،نکل آؤ کہ اس خیمے میں تمہیں کوئی رہنے نہیں دے گا۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں