کرائسٹ چرچ حملے کے دہشت گرد نے 2016 میں اسرائیل کا دورہ کیا، حکام

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ کرنے والا دہشت گرد 2016 میں اسرائیل آیا تھا۔

فرانسیسی خبر ررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی امیگریشن اتھارٹی کی ترجمان سبین حداد نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ اکتوبر 2016 میں 3 ماہ کے سیاحتی ویزے پر اسرائیل آیا تھا اور 9 دن ٹھہرا تھا‘۔

سبین حداد کرائسٹ چرچ حملے کے دہشت گرد سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکیں۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ پیٹر ڈوٹن نے کہا تھا کہ ’حملہ آور نے آسٹریلیا کے شہر گرافٹن میں پرورش پائی لیکن گزشتہ 3 برس میں اس نے آسٹریلیا میں صرف 45 دن گزارے اور دہشت گردی کی کسی واچ لسٹ میں اس کا نام شامل نہیں تھا۔

سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ شمالی کوریا، کروشیا، پاکستان، بلغاریہ اور یونان سمیت دیگر ممالک بھی جاچکا ہے۔

آسٹریلین دہشت گرد پر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ کرکے 50 افراد کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ حملہ نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا جہاں کی آبادی 40 لاکھ 80 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور اس کے شہری ایک محفوظ ملک میں رہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

مسلمانوں کو نظام انصاف پر اعتماد

نیوزی لینڈ کی فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشن کے صدر مصطفیٰ فاروق نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں نظام انصاف پر اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ پسند کریں گے وہ شخص قانونی مراحل سے گزرے اور اسے اس کے تمام حقوق ملنے چاہئیں‘۔

مصطفیٰ فاروق نے کہا کہ ’ہمیں نظامِ انصاف پر یقین ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ وہی کرے گا جو صحیح ہے‘۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ وہ رویے جن سے قتل کو بڑھاوا ملا، یعنی حملے سے چند منٹ قبل آن لائن نسل پرست بیان جاری کرنا، اس کا حل لازمی تلاش کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی جانب سے نفرت میں اضافہ، جو خود کو دائیں بازو میں شامل کرتے ہوں، چھوٹے گروہ پر مشتمل ہوں یا وہ سیاستدانوں کے ذریعے نفرت پھیلاتے ہوں، انہیں اسا کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مصطفیٰ فاروق نے کہا کہ ’جو یہاں مسلمان برادری کے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ بھی ہوگا‘۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں