5 روز سے لاپتہ 2 ڈاکٹروں کی لاش فتح جنگ سے بر آمد

5 روز سے لاپتہ 2 ڈاکٹروں کی لاش پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے ڈیم سے بر آمد کرلی گئی۔ مقامی پولیس کے مطابق ڈاکٹر افتخار احمد اور ڈاکٹر عزیز احمد کی لاش پر گولیوں اور تشدد کے نشانات عیاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے قتل میں ان کے ملازمین ملوث ہوسکتے ہیں۔

13 مارچ کو لاپتہ ہونے والے ڈاکٹروں کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ڈاکٹر افتخار جو امریکا میں رہتے تھے، فتح جنگ میں کچھ زمینوں کے مالک تھے جبکہ ڈاکٹر عزیز ان زمینوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

13 مارچ کو ڈاکٹر افتخار کے پاکستان آمد پر ڈاکٹر عزیز نے انہیں اسلام آباد سے فتح جنگ کے علاقے علی جہانگیر میں ان کی زمین پر کام کا معائنہ کرانے کے لیے لے کر آئے تھے۔

دونوں افراد 13 مارچ کی ہی شام کو اسلام آباد جاتے ہوئے لاپتہ ہوئے تھے جس کی ایف آئی آر فتح جنگ تھانے میں درج کی گئی تھی۔

آج دونوں کی لاشیں ڈھوک صوبہ میں قائم چھوٹے سے ڈیم سے بر آمد ہوئیں جس کے بعد لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

فتح جنگ کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر عابد منیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر افتخار کی فتح جنگ میں 46 کینال زرعی اراضی تھی جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر افتخار کے زمینوں کو فروخت کرنے کے ارادے کے حوالے سے معلوم ہونے کے بعد ان کے 3 ملازمین نے ڈاکٹروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

ایس ایچ او کے مطابق تینوں ملازمین نے پہلے ڈاکٹر عزیز کو قتل کیا اور بعد ازاں ڈاکٹر افتخار سے بندوق کے زور پر زمین کی ملکیت ان کے نام کرنے کے لیے ایک اسٹیمپ پیپر پر دستخط لیے جس کے بعد ان کے سر میں گولی ماری۔

ملزمان نے لاشوں کو فارم ہاؤس کے نزدیک قائم ڈیم کے مٹی تلے چھپایا تھا۔

ایس ایچ او منیر کا کہنا تھا کہ تینوں ملزمان کو پشاور اور مانسہرہ سے گرفتار کرکے مقامی عدالت سے ان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کا ڈاکٹر افتخار سے دستخط کرایا گیا اسٹیمپ پیپر بھی بر آمد کرلیا ہے جبکہ دونوں ڈاکٹروں کے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بر آمد کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں