Orya-Maqbool-Jan

بے رحم روشن خیال دنیا

اگر ایسا واقعہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ، نیم ترقی یافتہ یا پسماندہ ملک میں بھی پیش آیا ہوتا تو پوری دنیا کے ممالک اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر انہیں اس ملک کا سفر کرنے سے منع کر دیتے۔ کوئی اس بات کا تصور بھی کر سکتا ہے کہ 14 اکتوبر 1883 ء میں شروع ہونے والی ٹرین ،اورینٹ ایکسپریس جو استنبول سے پیرس تک ایک صدی سے بھی زیادہ دیر چلتی رہی اور آج بھی اس کے متبادل کے طور پر لاتعداد ٹرینیں یورپ اور ایشیا کو ملاتی ہیں، ان میں سے کسی ایک ٹرین کے روٹ پر واقع کسی ملک کی حکومت کی خفیہ ایجنسی اپنے شدت پسند مذہبی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملکر اسکے ڈبوں کو آگ لگا دے، مسافر جل کر بھسم ہو جائیں اور اس کا یہ منصوبہ خود اسکے اپنے تفتیشی ادارے ہی طشت از بام کر دیں لیکن اس سب کے باوجود نہ فرانس کی حکومت کچھ کہے نہ یونان اور اٹلی والے احتجاج کریں اور نہ ہی رومانیہ و بلغاریہ کی حکومتوں پر اس کا کوئی اثر ہو۔ سب چپ سادھ لیں اور جس ملک نے یہ ظالمانہ تخریب کاری کی تھی اسے ملامت بھی نہ کریں، بس جیسے پہلے تھا ویسا ہی چلتا رہے۔ ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن اس دنیا کے نقشے پر بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں 18 فروری 2007ء کو رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین جب پانی پت کے ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلی تو اس پر دہشت گردی کا حملہ ہوا، دو دھماکے سنے گئے، ٹرین کی رفتار تقریباً سو کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، اس میں ایسے پاکستانی اور بھارتی مسافر سفر کر رہے تھے جو منقسم جرمنی کی طرح اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے تھے، ٹرین کو آگ لگ گئی، چونکہ سیکورٹی کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے باہر سے بند تھے اسکے مسافر اندر ہی جلتے رہے، ستر کے قریب جان سے گئے اور پچاس زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ساتھی مسافروں اور علاقے کے افراد نے جلتی ہوئی بوگیوں سے نکالا۔ مرنے والے 70میں سے 42 افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پاکستان اسوقت تک بھارت سے تین جنگیں لڑ چکا تھا لیکن تینوں دفعہ دونوں ممالک صلح کی دستاویز پر بھی دستخط کر چکے تھے۔ یہی حالت اس اورینٹ ایکسپریس کی تھی جو ان ممالک کے درمیان چلتی تھی۔ ان تمام ممالک نے آپس میں دو عظیم جنگیں لڑیں جن میں کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ 1914 ء میں پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے ٹرین چلنا بند ہوئی اور 1919 ء میں دوبارہ شروع ہو کر بیس سال تک چلتی رہی اور 1939 ء میں جنگ عظیم دوم کی وجہ سے بند ہوئی،اور پھر 1945 ء سے لیکر 1977 ء تک اسوقت تک چلتی رہی جب تک اسکی متبادل ٹرینیں نہ آگئیں۔ جنگ اور امن کے ان وقفوں میں ایک دوسرے کے ان دشمن ممالک نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ٹرین میں سوار کسی دوسرے دشمن ملک کے مسافروں کو قتل کیا جائے، جلا کر راکھ کیا جائے یا کسی طریقے سے خاموشی سے ٹرین کو حادثے کا شکار ہی کر دیا جائے۔ لیکن ایسا سب کچھ بھارت کے عیار اور مکار شدت پسند ہندو ذہن نے کیا۔ اس سانحے کے بعد بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایم کے نارائن کی ہدایت پر واضح ثبوتوں اور شہادتوں کے باوجود تحقیقات کا رخ شدت پسند ہندو تنظیم ’’ابھی ناؤ‘‘ اور بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے افسران کے گٹھ جوڑ کی جانب جانے سے روک دیا گیا جنکی طرف اس جرم کا سراغ جاتا تھا۔ جیسے ہی اس ٹرین سمجھوتا ایکسپریس کو آگ لگائی گئی ،بھارت کی حکومت اور میڈیا نے اس کا الزام لشکر طیبہ اور جیش محمد پر دھر دیا۔ تحقیقات جاری رہیں اور جاری رہنا بھی تھیں، اس لیئے کہ پولیس کے کاغذات میں تو واقعہ موجود رہتا ہے، اس وقت تک جب تک مجرم نہ پکڑا جائے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے سے متعلق تجزیاتی رپورٹ یہ کہتی تھی کہ یہ حادثہ ایسے دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہے جو ہلکی شدت “Low intensity” کا ہے لیکن اس سے تباہی زیادہ ہوتی ہے۔ تقریبا ڈیڑھ سال بعد 29 دسمبر 2008 ء کو مہاراشٹر کے علاقے “مالی گاؤں” میں اسی طرح کے دھماکہ خیز مواد کا بلاسٹ ہوا جس میں چھ لوگ مارے گئے اور لاتعداد زخمی ہوئے۔ ایک جیسے بلاسٹ سے ایک دم کان کھڑے ہو گئے۔ اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے چیف ہمینت کرکرے نے تحقیقات شروع کی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ دھماکہ ایک خود ساختہ دیوی سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کی رہنمائی میں ہوا جو شدت پسند ہندو تنظیم ’’ابھی ناؤ‘‘ سے تعلق رکھتی تھی۔ سب سے پہلے ایک 42 سالہ تعلیم یافتہ شخص شام لال سہو پکڑا گیا، اس کے موبائل اور دیگر چیزوں نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اسکے بعد شیو نارائن کالان گھس رائے بم لگانے، سچر کلکرنی کو کیمیکل خریدنے اور ایک ریٹائرڈ میجز رمیش اپدھیائے کو ٹریننگ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ میجر ملٹری انٹیلی جنس میں کام کرتا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بی جے پی کی سابقہ آرمی آفیسرز کی تنظیم کا سربراہ بن چکا تھا۔ اس نیٹ ورک کے مطالعہ سے سلسلہ سمجھوتہ ایکسپریس تک جا پہنچا، اور ہمینت کرکرے نے ملٹری انٹیلی جنس کے حاضر سروس لیفٹننٹ کرنل شری کانت پروہت کو گرفتار کرلیا جس نے آرمی ڈپو سے سمجھوتہ ایکسپریس میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد آر ڈی ایکس (RDX)حاصل کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کرکرے کی تحقیقات ہندو شدت پسند تنظیموں تک جا پہنچیں۔ اس نے سوامی دیانند پانڈے المعروف شنکر اچاریہ سکھ کار ڈیوندی کو 14 نومبر 2008 ء کو گرفتار کر لیا۔ سوامی پانڈے کو ایک عادت تھی کہ وہ اپنی تمام گفتگو اپنے لیپ ٹاپ میں ریکارڈ کرتا تھا۔ ہمینت کرکرے نے اسکے لیپ ٹاپ سے تین ویڈیو اور پینتیس آڈیو ریکارڈنگ حاصل کرلیں۔ یہ اتنا بڑا ثبوت تھا جس کی بنیاد پر کسی بھی ملزم پر ہاتھ ڈالا جاسکتا تھا۔ ان آڈیو ٹیپ اور ویڈیو ریکارڈ سے خوفناک حقائق سامنے آئے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ نے بھارتی فوج کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے جس نیٹ ورک کی بنیاد اول مسلمان دشمنی، پھر پاکستان دشمنی اور تیسرے نمبر پر ان ہندوؤں سے بھی دشمنی جو انکے ’’ہندو توا‘‘ کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ دس ریٹائرڈ اور حاضر سروس آرمی افسران اس نیٹ ورک کی سربراہی کمیٹی کا حصہ تھے اور ان کی جڑیں بھارتی فوج میں ایک عام سپاہی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ہمینت کرکرے نے لیفٹیننٹ شری کانت پروہت کو مرکزی مجرم قرار دیا جو حاضر سروس کرنل تھا جبکہ چار ریٹائرڈ افسران میجر رمیش اپدھیائے، کرنل ہمیش پاٹیل کرنل شالیس رائکار اور کرنل ادیتیا باپادتیا شامل تھے جبکہ تین حاضر سروس آرمی افسران بریگیڈیئر ماتھر، میجر پرباگ موداک اور میجر نیتن جوشی بھی گروہ کا حصہ تھے۔ ان تمام شواہد کے بعد ہمینت کرکرے نے 21 نومبر 2008 ء کو ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے اہم راہنما شیام آپنے کو تفتیش کے لیے بلایا۔ اسکے اگلے دن پورے بھارتی میڈیا میں طوفان کھڑا ہو گیا۔ آرمی والے اسے دیش سے غدّاری قرار دیتے رہے اور راشٹریہ سیوک سنگھ اسے ہندو دھرم کے خلاف سازش بناتے رہے۔ صرف پانچ دن کے بعد 26 نومبر کو ممبئی حملہ ہو گیا اور جس وقت پورا ممبئی اس ہیجان میں مبتلا تھا، راشٹریا سیوک سنگھ کے غنڈوں نے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے اس دلیر سربراہ ہمینت کرکرے کو ہلاک کر دیا۔ اسکے بعد تمام آرمی آفیسرز کے نام اس تحقیقاتی رپورٹ سے نکال دیئے، راشٹریہ سیوک سنگھ اور بی جے پی کو بھی کلین چٹ مل گئی اور چلان میں صرف متعصب سوامی اور پنڈت رہ گئے۔ اب عدالت کے لئے فیصلہ کرنا کتنا آسان ہو گیا تھا۔ کل سب بری کردیئے گئے۔ جس بھارت کی سپریم کورٹ افضل گرو کو پھانسی دیتے ہوئے یہ لکھے کہ ثبوت تو پھانسی کے نہیں تھے لیکن ہم اسے بھارتی عوام کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے پھانسی دے رہے ہیں، ایسے بھارت کے گن گانے کیلئے گزشتہ بیس برسوں میں میرے ملک پاکستان میں کتنے وکیل موجود تھے۔ انسانی حقوق کے علمبردار، امن کے پرچم بردار، دونوں طرف ایک جیسا آلو گوشت کھانے کا نعرہ لگانے والے۔ کیا کسی سیکولر لبرل ، روشن خیال شخص کو پاکستان کے نظریے سے اس قدر دشمنی یا کسی سیاستدان کو اقتدار سے محرومی اس قدر بے ضمیر اور بے حس بھی بنا سکتی ہے کہ آپ انسانیت کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیں۔ شاید ایسا ممکن ہے کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہ ہے بے رحم روشن خیال دنیا۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں