فوج اور پاکستان

ہمارے حکمران عمران خان نے اخبار نویسوں کو لکھنے اور بولنے کی آزادی تو جاری رکھی ہوئی ہے لیکن حکومت نے کچھ اقدامات ایسے بھی کیے ہیں جن کی وجہ سے میڈیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ظاہر ہے جب میڈیا مالکان کو مشکلات ہوں گی تو اس کا اثر نیچے تک جائے گا جس سے ایک عام صحافتی کارکن کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود اخبار اور ٹیلیویژن والے اپنی آزادی کو استعمال کر رہے ہیں ۔جمہوری حکومت میں آزاد صحافت تک کی آزادیٔ صحافت برقرار ہے اس لیے ہم ابھی نہایت احتیاط کے ساتھ اس آزادی کا استعمال کر رہے ہیں ۔

میں نے آزادی صحافت کا گھٹا ہوا گلہ کئی بار دیکھاہے ۔ جمہوری حکومتیں تو کسی نہ کسی طرح ہم اخبار نویسوں کو برداشت کر ہی لیتی ہیں لیکن چونکہ ہم پر سیاستدانوں سے زیادہ فوجی حکمران رہے ہیں اور وہ زیادہ دیر تک ہمیں اور ہماری آزادی کو برداشت کرنے کے قائل نہیں ہیں جس کا نتیجہ ماضی میں کسی سنسر کی صورت میں یاکبھی سخت قسم کی پریس ایڈوائس کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا۔ جنرل ضیاء الحق شہید جیسا صابر حکمران بھی بالآخر سنسر نافذ کرنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔

یہ سب میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ کسی بھی حکمران کے بارے میں زیادہ خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ویسے بھی دانشمندوں نے کہا ہے کہ مزاج شاہی کی برہمی اور مہربانی کا کوئی معیار مقرر نہیں ہوتا۔ کبھی وہ گالی دینے پر انعام بخش دیتے ہیں اور کبھی سلام کرنے پر ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود مجھے عمران خان کے بارے میں نہ جانے کیوں خوش فہمی ہے کہ وہ ذرا مختلف قسم کے حکمران اور سیاستدان ہیں۔ ان کے بارے میں ہماری سیاسی معلومات کم ہیں۔ ہم ان کو زیادہ کرکٹ کے حوالے سے جانتے ہیں اور ایک اچھے کرکٹر اور منتظم کے جو کرکٹ کے میدان میںکامیابی کے لیے اپنی جان لڑا دیتا تھا ۔ ابھی تک بطور حکمران وہ اپنا بہت اچھا تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔نام و نمود کے وہ زیادہ قائل دکھائی نہیں دیتے وہ پہلے سے دنیا بھر میں اپنے کھیل کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت حاصل کر چکے ہیں ۔
اشتہار



انھوں نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کے ساتھ جو وعدے کیے اور اب حکومت سنبھالنے کے بعد بھی وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ نہیں بلکہ ان کا عمل بولے گا لیکن ان کے عملوں کے بولنے میں کافی وقت درکار ہے چونکہ خرابیاں اتنی زیادہ ہیں جو محدود وقت میں دور نہیں کی جا سکتیں اور عمل کی بات کی جائے تو عمل ہر حکمران کا ہی بولتا ہے، خدا کرے ان کے اعمال صالحہ کی آواز کانوں کو سنائی دے اور اس ملک کے دکھی لوگ ان کے عمل سے خوش ہوں۔ اگر جمہوریت عوام کی خوشنودی کا نام ہے یعنی کسی حکومت کے مقبول ہونے کا نام ہے تو آج عمران خان کی حکومت پاکستان کی انتہائی جمہوری حکومت ہے۔ جس کا سوائے ان چند سیاستدانوں کے جو کسی موہوم جمہوریت کے تصور میں گم رہتے ہیں اور اپنے اقتدار کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں ملک کے تمام طبقوں نے خیر مقدم کیا ہے لیکن جمہوریت ایک ایسے عمل کا نام ہے جس کو ہر وقت قائم رکھنا پڑتا ہے ذرا سی کوتاہی اور سستی بھاری سے بھاری مینڈیٹ کو نیست و نابود کر دیتی ہے ۔

بدقسمت میاں نواز شریف کو عوام نے بڑے پیار اور امیدوں کے ساتھ تین مرتبہ ملک کا وزیر اعظم بنایا ان کی جھولی کو ووٹوںسے بھر دیا اور بڑے چاؤ کے ساتھ ان کو اقتدار میں لائے لیکن میاں صاحب تین مرتبہ وزیر اعظم بننے کے باوجود بھی سیاسی مزاج سے محروم رہے اس لیے انھوں نے اپنے نادان مشیروں کے مشوروں پر بھاری مینڈیٹ اور نظریاتی ہونے کا ذکر تو باربار کیا مگر عوام کی امیدوں کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں اور بڑے دکھ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اقتدار سے علیحدہ ہونے اور اب جیل میں جانے کے بعد سوائے ان کے خاص متعلقین کے نہ کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور نہ کسی کی آہ سنائی دی۔

ہمارے آج کے حکمران عمران خان بغیر کسی بھاری مینڈیٹ کے اقتدار کی مسند پر آراستہ ہیں ان کی حکومت ان کے سیاسی اتحادیوں کی مرہون منت ہے اس لیے ان کو غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے ذرا سی کوتاہی بھی ان کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ جب تک گجرات کے چوہدری جو سیاست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہ عمران خان کے اتحادی ہیں تو ان کی حکومت کو ستے خیراں ہیں ۔ ہماری سیاسی حکومت میں یہ پہلی دفعہ دکھائی دے رہا ہے کہ تمام مقتدر قوتیں ملک کی سیاسی اور جمہوری حکومت کی پشت پر کھڑی ہیں اور حکومت کو اپنے تعاون کا یقین دلا رہی ہیں ۔

پاکستان میں حکومتوں میں فوج کے کردار کے بارے میں اگر بات کی جائے تو ہم مسلمانوں کا فوج کے بارے میں جو تصور ہے وہ دنیا کی دوسری اقوام سے مختلف ہے ۔ ہمارے پیغمبرﷺ اسلامی فوج کے سپہ سالار تھے ان کے جانشین بھی اسی مرتبہ پر فائز رہے ۔

مسلمانوں کا سب سے بڑا اعزاز میدان جنگ میں شہادت ہے اور یہ اعزاز فوج کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے فوج اسلامی تہذیب اور دین و مذہب میں معزز ترین لوگوں کا طبقہ ہے، حکومت کے معاملات میں فوج کے کردار پر ان اقوام کو تو اعتراض ہو سکتا ہے جو فوج کو محض سرکاری ملازمین کا حصہ سمجھتے ہیں اور فوجیوں کو پروفیشنل قرار دیتے ہیں لیکن اسلام میں فوجی ایک مبلغ اور اسلامی توسیع کے ذمے دار بھی سمجھے جاتے ہیں ۔ جس طرح مسلمانوں کے روشن دور میں فوج کو اسلام کا بازوئے شمشیر زن سمجھا جاتا رہا ہے اور فوجی مسلمان معاشرے میں راندہ درگاہ نہیں رہے اسی طرح آج بھی اگر فوج اسلام کی وسعت اور ریاست کے استحکام کے لیے کسی جمہوری حکومت کا ساتھ دیتی ہے تو چشم ما روشن دلِ ماشاد لیکن ہمارے جرنیل صاحبان کو ریاست کی اصلاح اور اسے تباہی سے بچانے میں اسلامی فوج کاکردار ادا کرنا ہوگا نہ کہ کسی مغربی تصور میں کسی پروفیشنل فوج کا۔

ہم اپنی زندگی اپنی مرضی سے بسر کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے استحکام کے لیے کسی ملک کے ناجائز مطالبات کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں، عمران خان کی یہی بات قوم کی امیدوںکا مرکز ہے اور قوم کی حوصلہ افزائی کے لیے کافی ہے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں