بھان متی کے کنبے کی کہانی

ویسے اسلام آباد ہے مزے کا شہر۔ یہاں کیا کیا سیاسی سازشیں تخلیق ہوتی ہیں۔ کیسے کیسے پلان بنتے ہیں اور پھر انہیں پورا کرنے کے لیے کیسے کیسے دائو پیچ لڑائے جاتے ہیں۔
شروع میں میرے جیسے دیہاتی ان چالاکیوں کو نہیں سمجھ پاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم بھی کچھ سیانے ہو گئے جب دھکے اور دھوکے کھائے۔ جن باتوں پر ہم سنجیدہ ہو کر اسے ملک کی بہتری سمجھ رہے تھے‘ وہ دراصل چند سیاسی لوگوں کے اپنے مفادات کا کھیل تھا۔
عمران خان ان سیاسی قوتوں میں سے آخری ہیں جنہوں نے صحافیوں پر وہی طریقے آزمائے جو ان سے پہلے آزما چکے تھے۔ اب انہیں مشکل سے راضی کیا گیا ہے کہ صحافیوں سے ملیں تو ان سے ہاتھ ملا لیا کریں۔ صحافیوں کی حد تک وہ تیار ہو گئے لیکن کابینہ کے اجلاس کے دوران وزرا سے وہ اب بھی ہاتھ نہیں ملاتے۔
عمران خان صاحب کو سب ایک موقع دینے کے حق میں تھے۔ شاید ان کی ضد تھی کہ اپنے نام کے ساتھ وزیر اعظم لکھوانا ہے‘ اور داد دیں انہیں کہ بائیس برس اس ضد پر کام کیا اور بالآخر کامیاب ہو گئے۔ اب شاید انہیں اس کام میں زیادہ دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ سنجیدگی کا عالم دیکھیں کہ فیصل وائوڈا پانی و بجلی‘ تو غلام سرور خان گیس اور پٹرولیم کے وزیر ہیں۔
یہی سوال ہماری محفل میں اٹھا‘ جس میں عارف حمید بھٹی لاہور سے آئے تھے۔ ارشد شریف، سمیع ابراہیم، عدیل راجہ اور علی سب بیٹھے اس سوال پر بحث کر رہے تھے کہ تاریخ خود کو کیوں دہراتی ہے؟
میرا خیال تھا‘ ہزاروں سال سے انسان وہی ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی تمام جبلتیں وہی ہیں جو ہزاروں سال پہلے کے انسان میں تھیں۔ وہی محبت، نفرت اور حسد کرنے کے جذبات ہیں جن کے زیر اثر وہ فیصلے کرتا تھا۔ ہزاروں سال پہلے بھی ان جبلتوں کا رد عمل وہی ہوتا تھا جو آج ہے۔
ہزار سال بعد کا انسان بھی یہی غلطیاں کر رہا ہو گا جو ہم کر رہے ہیں اور پھر ان میں سے بھی کوئی یہی سوچ رہا ہو گا کہ تاریخ خود کو کیوں دہراتی ہے؟ دراصل تاریخ خود کو نہیں دہراتی بلکہ ہم انسان اپنی جبلتوں کے غلام ہیں۔ ہم خود کو دہراتے رہتے ہیں۔
عارف حمید بھٹی نے ارشد شریف سے پوچھ لیا کہ عمران خان صاحب کی حکومت کتنا عرصہ چلے گی؟ ارشد شریف کے بارے میں عامر متین نے مشہور کر رکھا ہے جب تک کیمرہ اس پر آن نہیں ہو گا وہ نہیں بولے گا۔ گھنٹوں چپ کرکے مسکراتا سب کو سنتا رہے گا لیکن سٹوڈیو میں کیمرہ آن ہوتے ہی وہ سنبھالا نہیں جاتا۔ ارشد شریف اس سوال پر بھی مسکرا کر رہ گیا۔
سمیع ابراہیم نے بھی سوال کا جواب دینے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ عارف حمید یہ سوال اس لیے پوچھ رہا تھا کہ نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اور شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بعد اسلام آباد میں یہ نئی بحث شروع ہوئی تھی‘ جو شیخ رشید کی باتوں کی وجہ سے زیادہ پھیل گئی تھی کہ شاید نیا این آر او شریف خاندان کو دیا گیا ہے‘ اور یہ کہ اب عمران خان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔
وزیر اعظم عمران خان سے آج کل جو بھی صحافی ملتے ہیں‘ وہ ان سے ایک سوال ضرور پوچھتے ہیں۔ جواب میں وزیر اعظم عمران خان جنرل باجوہ کی بہت ساری خوبیاں گنواتے اور بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ان جیسا جنرل پہلے ملک کا آرمی چیف نہیں بنا۔ جب ہم صحافی کچھ دن پہلے وزیر اعظم سے ملے تو بھی دو صحافیوں نے عمران خان سے یہی سوالات کیے تھے تاکہ پتہ چلے کہ عمران خان صاحب کے ذہن میں کیا ہے؛ تاہم عمران خان نے بھی ہوا نہیں لگنے دی اور وہ جنرل باجوہ کی تعریفیں کر کے بات کو ٹال گئے۔
اشتہار



مارچ سے نومبر تک کا وقت بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس دوران نئے آرمی چیف کے لیے لابنگ شروع ہو جاتی ہے۔ مجھے دو واقعات یاد ہیں۔ ایک دفعہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ جب جنرل جہانگیر کرامت کے استعفیٰ کے بعد نواز شریف نیا آرمی چیف ڈھونڈ رہے تھے تو ایک سیکریٹ ایجنسی سے متوقع جرنیلوں کی فائلیں وزیر اعظم ہائوس بھجوائی گئیں۔ پہلی دفعہ نواز شریف اور چوہدری نثار کو پتہ چلا کہ ایجنسیاں اپنے فوجی جرنیلوں کی بھی فائلیں رکھتی ہیں۔
چھ سال پہلے کی بات ہے ‘ جب نیا آرمی چیف لگ رہا تھا تو مجھے اور ارشد شریف کو دو مختلف لابیوں کی طرف سے آرمی چیف بننے کے دو امیدواروں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف فائلیں بھجوائی گئی تھیں۔ ہم دونوں نے معذرت کر لی تھی کہ جناب ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں۔ اس اہم کھیل میں شریک نہیں ہو سکتے۔ مزے کی بات ہے وہ دونوں آرمی چیف نہ بن سکے تھے۔ ان کا جونیئر وہ پوسٹ لے گیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف لابنگ کرانے میں مصروف رہے۔
لابیاں صرف اس ایک حوالے سے ہی ایکٹو نہیں ہوتیں بلکہ حکومت میں کسی کو وزیر بنوانا ہو تو بھی بہت سارے کام کیے جاتے ہیں۔ ابھی ایک اہم وزیر کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ ایک خاتون کو غربت کی نئی وزارت کے حوالے سے عمران خان کا مشیر لگوانا چاہتے ہیں‘ لہٰذا احساس پروگرام کی کہانی بنائی گئی ہے۔
اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں تحریک انصاف کے پرانے ورکرز‘ جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وزیراعظم کے احساس پروگرام کی تقریب کے بعد اکٹھے بیٹھے تھے۔ خواتین حیران ہو رہی تھیں کہ کیسے ایک اہم وفاقی وزیر نے ثانیہ نشتر کو وزارت دلوانے کے لیے یہ سب پروگرام شروع کرایا تھا۔ ان خواتین کو لگتا ہے کہ جب وہ سڑکوں پر مار کھا رہی تھیں تو یہ سب بیگمات مزے سے گھر بیٹھی وقت کا انتظار کر رہی تھیں۔ اب وہ اچانک وزارت کی دعویدار بن گئی ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں‘ حکومت کے اندر بہت سارے وزرا ایک دوسرے سے دست و گربیان ہیں۔ ایک طرف وہ وزیر ہیں جو ایم این اے بن کر آئے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں جو بغیر الیکشن لڑے کابینہ میں دھڑلے سے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ عمران خان کے یار ہیں۔ ان وزیروں کے گروپس نے پھر آگے سے بیوروکریٹس کو بھی ساتھ ملایا ہوا ہے۔
یوں کابینہ بھان متی کا کنبہ بنی ہوئی ہے۔ سرائیکی علاقوں سے آئی ایک خاتون وزیر کی لڑائی اپنی وزارت کے مشیر سے چل رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مشیر نے پارلیمنٹ میں دفتر سے اس خاتون کے نیم پلیٹ اتار کر پھینک دی تھی۔ وزارت ہائوسنگ میں بھی یہی حال ہے جہاں بڑے اور چھوٹے کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی کے معاملے پر ہم نے دیکھ لیا کہ کیسے دال جوتوں میں بٹ رہی ہے۔ ایک طرف فواد چوہدری ہیں تو دوسری طرف نعیم الحق نے اکیلے محاذ سنبھالا ہوا ہے۔
عمران خان بے پروا‘ مزے سے یہ لڑائیاں انجوائے کر رہے ہیں۔ عمران خان کے دفتر میں بیوروکریٹس کی آپس میں لڑائیاں جاری ہیں۔ سب اختیارات چاہتے ہیں۔ وزیر ناراض ہیں کہ انہیں لمبا ہاتھ مارنے کا موقع نہیں مل رہا۔ ان وزیروں کو وہی لوگ یاد آ رہے ہیں‘ جو کھاتے تھے تو لگاتے بھی تھے۔
وزارتوں میں چائے پانی تک کا خرچہ نہیں مل رہا‘ لہٰذا وہ بھی اکتائے اکتائے رہنے لگے ہیں۔ اہم وزارتیں ان لوگوں کو دی گئیں جو کھلے عام ٹی وی پر کہتے ہیں کہ وہ ابھی سیکھ رہے ہیں۔ شیخ رشید پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ انہیں محلے کے مولوی سے بات کرکے جہاد پر جانے کی اجازت دی جائے۔ شاید ریلوے سے ان کا دل بھر چکا۔
اس سارے بحران میں خبر یہ ہے کہ عمران خان اس وقت چوہدریوں کے برخوردار مونس الٰہی کو وزیر بنانے پر راضی نہیں ہو رہے۔ عمران خان پہلے بھی تنقید کا سامنا کرتے ہیں ان کی کابینہ کے کچھ وزیروں کے سکینڈلز ہیں‘ جن کے خلاف وہ نعرے لگاتے تھے انہیں دوبارہ اقتدار میں لے آئے ہیں۔
جنہیں پنجاب کا ڈاکو کہا جاتا تھا ان کے حوالے ہی پنجاب کر دیا گیا ہے۔ اب اگر وہ اس تنقید کے درمیان نیب زدہ مونس الٰہی کو وزیر بناتے تو یقینا ردعمل آتا۔ ویسے کسی دن اگر کسی نے وہ خفیہ رپورٹ نکال دی جو کچھ دن پہلے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے کہ کیسے مونس الٰہی کو ایک بڑے سکینڈل سے بچایا گیا تھا تو شاید چوہدریوں کو وزارت بھول جائے!
بشکریہ روزنامہ دنیا
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں