ملک میں طیارہ سازی کی صنعت کے قیام کا فیصلہ

کراچی: حکومت نے ملک میں پہلی بار ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو طیارہ سازی کی صنعت کے قیام کیلیے پیشکش کردی جب کہ طیارہ سازی صنعت کے قیام کیلیے ٹیکسوں پر مکمل چھوٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ایئروناٹیکل کامرہ میں صرف جنگی طیارے تیارکیے جاتے ہیں لیکن حکومت نے پہلی بار تجارتی بنیادوں پرمسافروں کو لانے اورلے جانے والے طیاروں کی تیاری کیلیے باقاعدہ صنعت ( فیکٹریاں) قائم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

ملک میں طیاروں کی صنعت کے قیام کا مقصد ملکی اور غیر ملکی سرکاروںکو پاکستان میں سرماکایہ کاری کی ترغیب دینا ہے اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے ملک میں تجارتی بنیادوں چلائے جانے والے طیاروں کی تیاری کی صنعت میں دلچسپی نہیں لی۔

معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے طیارہ سازی کی صنعت کو ملک میں فروع دینے اور اس میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنیادی ضابطے اورلائحہ عمل بھی مرتب کرلیا ہے جس کے مطابق وفاقی حکومت طیارہ سازی کے عالمی اداروں کوملک میں طیارہ سازی شروع کرنے والے دلچسپی لینے والی کمپنیوں کی رہنمائی کرنے کی درخواست بھی کرے گی۔

اس حوالے سے حکومتی سطح پر طیارے سازی کی فیکٹری کھولنے والوں کے لیے ہر قسم کی شرائط آسان ترین کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ طیارہ سازی کی فیکٹری کے لائسنسوں کی میعاد 10 سال کی ہوگی تاہم اسے ہر دو سال بعد اپنا آڈٹ کرانا ہوگا۔

حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں طیارہ سازی کی فیکٹری قائم کرنے میں خصوصی مراعات دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں طیارہ بنانا، اس کے لیے خام مال خریدنا اور طیارے کی فروخت سمیت تمام سرگرمیاں شامل ہیں جن پر مالی اور ٹیکس کی مد میں زیادہ سے زیاد چھوٹ دی جائے گی۔ طیارہ سازی کی نئی فیکٹری شروع کرنے پر ٹیکسوں پر مکمل چھوٹ دی جائے جبکہ خام مال کی درآمد پرکسٹم ڈیوٹی میں بھی رعایت دی جائے گی۔

پاکستان میں طیارہ سازی کی صنعت کے لیے ابتدا میں حکومت نے اپنی سرپرستی کی پیش کش کردی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں اور فیسوںکی مد میں رعایت کے ذریعے سرمایہ کاروںکو اس صنعت کی جانب راغب کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں طیارہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ایرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ ہے جہاں جنگی طیارہ سازی کا حجم زیادہ ہے جبکہ ملکی سطح پر تجارتی طیارہ سازی کا حجم نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے نئی ائیرلائنز کو طیاروں کی مہنگے داموں درآمدکرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنا کاروبار شروع کرنے کی لاگت میں کافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں