Orya-Maqbool-Jan

اسلام فوبیا

کیا اسلام اور مسلمان سے دشمنی صرف چند سال پہلے یعنی گیارہ ستمبر 2001 کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد کی پیداوار ہے، جسے میڈیا کے ذریعے جنگی و سیاسی مقاصد کے لیے دنیا بھر میں عام کیا گیا اور اب یہ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اسکی وزیراعظم کے انسانی رویے سے ختم ہو جائے گی۔ کیا آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں ایک خاتون رکن نے دوسرے مسلمان دشمن رکن پارلیمنٹ کو سخت سنا دیں اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا ، اب اس سے امریکہ کے مغربی ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا کے مشرقی ساحلوں تک دنیا میں بسنے والا ہر عیسائی، یہودی، ہندو یا سیکولر مسلمانوں کو اپنے جیسا انسان تصور کرنے لگ جائے گا۔ یہ معاملہ اگر اتنا سادہ ہوتا تو میڈیا اس ایک ماہ میں اس آگ کو ٹھنڈا کر چکا ہوتا۔ نیوزی لینڈ کی مساجد میں پچاس مسلمانوں کی شہادت یقینا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ لیکن دنیا کی نظروں میں یہ بڑا واقعہ اسوقت بنا جب اس ملک کی وزیراعظم نے سر پر دوپٹہ اوڑھا، چہرے پر دکھ کے تاثرات سجائے اور پورے ملک میں ایک اجتماعی سوگ کا ماحول پیدا ہوگیا ،حالانکہ اسی دن امریکہ ، یورپ ، بھارت اور اسرائیل کی افواج کے ہاتھوں لاتعداد مسلمان شہید ہوئے تھے جن کا تذکرہ تک نہ ہوا ۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس تمام عرصے میں قاتل کا خونخوار چہرہ، اسکا شدید تعصب اور ان صحافیوں دانشوروں اور مصنفوں کی کتابوں کے سلسلے ایک لمحے کے لیے بھی میڈیا پر زیر بحث نہیں آئے جنہوں نے اس قاتل کو اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کی لوریاں دیں تھیں۔ اسکے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح یہ خیالات برسائے گئے کہ اگر تم نے مسلمانوں کو اس روئے زمین سے ختم نہ کیا تو یہ ایک دن تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔ یہ نفرت صرف چند سالوں سے پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ چند سالوں کے میڈیا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس نفرت کے پیچھے کم ازکم پانچ سو سال کی انتھک علمی و ادبی کاوشیں ہیں جو ایک متعصب اور جانبدار علمی ذخیرے کو وجود میں لے کر آئیں۔ یہ علمی ذخیرہ بظاہر اسلام کے بارے میں تحقیق و جستجو سے تخلیق کیا گیا، قرآن پاک کے تراجم ہوئے، احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے مسلمانوں کی ایک متعصب اور تکلیف دہ حد تک جانبدار تاریخ مرتب کی گئی اور آج یہ تمام علمی ذخیرہ مغرب میں نئے پڑھنے والوں کے لئے رہنمائی کا واحد ذریعہ ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں جو کتابیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں ان میں منٹگمری واٹ کا “اسلامی انسائیکلوپیڈیا”، آر نکلسن کی “تاریخ ادبیات ِعرب”، ڈاکٹر ہیٹی کی “تاریخِ عرب”، جوزف شافت کی “فقہہ اسلامی کے ابتدائی ماخذ”، گولڈزہیر کی “اسلامی عقیدہ وشریعت” اور ڈبلیو سی اسمیتھ کی “اسلام اور جدید دنیا” جیسی کتب شامل ہیں۔ ول ڈیورانٹ جیسا شخص بھی جب تاریخِ انسانی مرتب کرتا ہے تو بارہ جلدوں میں سے ایک مسلمانوں کے نام کرتا ہے جس کا عنوان ہے “our glorious East” ہمارا شاندار مشرق۔ ان تمام کتب اور ایسی لاتعداد دیگر کتابوں نے اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر کھینچی ہے اس میں تین چیزیں نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ لوگ انتہائی خونخوار شکلوں والے انسان ہیں جن کے ہاتھ میں تلوار ہے اور وہ جہاں جاتے ہیں قتل و غارت کا بازار گرم کر دیتے ہیں، دوسری یہ کہ ان کے بہت بڑے بڑے حرم سرا ہوتے ہیں جن میں لاتعداد بیویاں اور کنیزیں ایک مرد کے تصرف میں ہوتی ہیں اور تیسری بات یہ کہ انکے نزدیک اونٹ ایک مقدس جانور ہے جسکے بغیر مسلمان زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مغرب میں رہنے والے ایک طالب علم کے ذہن میں اس طرح کی کتب کے مطالعے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی جوتصویر ابھرتی ہے وہ انتہائی خونخوار، غیر مہذب اور انسانی جذبوں سے عاری مذہب کی ہے اور ویسی ہی مسلمان قوم کے بارے میں رائے وجود میں آتی ہے۔ یہ وہ علمی ورثہ ہے جو وہاں موجود ہر صحافی، دانشور، ادیب اور شاعر کو ملتا ہے اور وہ انہی ماخذوں کی بنیاد پر اپنی جدید تحقیق کا آغاز کرتا ہے۔ اسلیئے جب وہ کسی شہر میں مسلمانوں کی آبادی پر مضمون تحریر کرتا ہے ڈاکومنٹری بناتا ہے یا کسی ملک کے مسلمان تارکین وطن کے بارے میں کوئی کتاب تحریر کرتا ہے تو اس کا ذہن ان پانچ سو سالوں سے مسلسل لکھے جانے والے مواد اور لٹریچر سے پراگندہ ہو چکا ہوتا ہے۔ کوئی محقق، صحافی یا دانشور عربی، فارسی یا اردو میں لکھے گئے اصل مواد کی طرف رجوع نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک محنت طلب کام ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے دانشوروں نے آج سے کئی صدیاں پہلے یہ کام کردیا ہے اور اب ہمیں ایک نئی محنت کرنے اور اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن مغرب کا یہ نوجوان نہیں جانتا کہ ان تمام کتب کو پہلے دن سے عیسائی کلیسا نے اپنی زیر نگرانی ایک خاص مقصد کے تحت لکھوایا تھا جسکا آغاز قرآن پاک کے غلط ترجمے سے ہوا۔ لیکن اس ترجمے سے پہلے عربی میں بھی ایک قرآن پاک 1537ء میں الیگزینڈر پاگانینی نے شائع کیا جس میں ایسی لاتعداد غلطیاں کی گئیں تھیں کہ جن سے آیات کے معانی ہی بدل جاتے تھے۔ اس قرآن پاک کو جب خلافت عثمانیہ میں بھیجا گیا اور خلیفہ نے جب اسے استنبول کے علماء کو دکھایا تو وہ حیران رہ گئے اور اس قرآن پاک کے تلف کرنے کا حکم صادر کردیا گیا۔ اس زمانے میں چھاپا خانہ ایجاد ہوچکا تھا لیکن ترکی کی خلافت عثمانیہ نے اس پر قرآن پاک، حدیث اور فقہہ کی کتابوں کی چھپائی پر پابندی لگا دی جبکہ باقی تمام علوم کی کتب چھاپنے کی اجازت تھی۔ یہ احتیاط اس خوف سے کی گئی کہ کہیں اسکے ذریعے سے غلط قرآن پاک چھاپ کر مسلمانوں میں عام نہ کر دیا جائے۔ ان مغربی مؤرخین نے احادیث اور اسلامی تاریخ سے ایسے حصے منتخب کیے اور پھر ان کو مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو مشکوک بنانے کے لئے استعمال کیا اور آج ان مغربی مصنفین کی تحریریں دنیا بھر میں ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہیں۔ کوئی پلٹ کر ان میں درج احادیث کے سچا یا جھوٹا ہونے کے بارے میں تحقیق نہیں کرتا اور نہ ہی ان تاریخی کتب کے اندر ایک مقصد سے ڈالی گئی جھوٹی کہانیوں کا پتہ چلاتا ہے۔ اس ساری خرافات کا آغاز ایک متعصب رومن مؤرخ تھیوفنس ( Theophanes the confessor) نے رسول اکرمﷺسے متعلق ایک گستاخانہ سوانح عمری لکھ کر کیا تھا۔ یہ شخص 758ء میں پیدا ہوا تھا۔ اسکی اس کتاب کو بعد کے مصنفین نے بنیادی ماخذوں کا درجہ دیا۔ یہی کتاب ہے جس میں رسول اکرم ؐ کو نعوذباللہ ایک مرض میں مبتلا بتایا گیا تھا اور آج کے جدید دور کے طالب علم نفسیات کی کتابوں میں اسے تاریخ کے تصورات کے طور پر پڑھتے ہیں۔اسی طرح اس شخص نے سیدہ خدیجہؓ و دیگر امہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی زبان درازی کی ہے۔ اس شخص کی روایات ہی صدیوں تک بعد میں آنے والی کتابوں میں منتقل ہوتی رہیں۔ ایک ہزار سال سے لکھی گئی ان زہر آلود تحریروں کے سائے میں جو نسلیں کئی صدیوں میں یورپ میں جوان ہوئی ہیں وہ آسٹریلیا کی یونیورسٹی میں ہوں یا پاکستان کے انگلش میڈیم سکولوں کے “تقابلِ مذاہب” کا مضمون پڑھنے والے، سب کے سب اسلام سے صرف نفرت نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس سے خوفزدہ بھی ہیں۔ انکے دلوں میں موجود نفرت کو میڈیا ختم نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ اس میڈیا کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی مظلومیت دکھانا نہیں ہے بلکہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسی شخصیات کا حسن سلوک دکھانا ہے۔ ورنہ اسی دن عراق، شام، افغانستان، غزہ، فلسطین اور کشمیر میں کئی مسلمان امریکی، یورپی،بھارتی اور اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مارے گئے ہونگے لیکن ان کے پاس کوئی وزیراعظم اسکارف لے کر نہیں گئی، اسی لیے وہ ایک خبر نہ بن سکے، خاموشی سے دفن کر دیے گئے۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں