fawad-chaudhry

وزیراطلاعات کا بیان اگر مداخلت کی کوشش ہے تو کارروائی ہو سکتی ہے، نیب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے علیم خان کے مقدمے کے حوالے سے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے بیانات میں کوئی خلاف ورزی سامنے آئی تو قانون کے مطابق کارروائی کرسکتے ہیں۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘نیب نے وفاقی وزیر اطلاعات کے علیم خان کے مقدمے سے متعلق بیان کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے نیب سے متعلق ماضی اور حالیہ بیانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے’۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ‘نیب اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ ان کے نیب اور نیب میں جاری تحقیقات اور مقدمات سےمتعلق بیانات کہیں نیب کے معاملات میں مداخلت اور جاری انکوائریز اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں ہے’۔

فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے نیب نے مزید کہا کہ ‘وفاقی وزیر کے نیب سے متعلق تمام بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اگر محسوس ہوا کہ ان کے بیانات نیب آرڈیننس اور مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ہے تو نیب ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرسکتا ہے’۔

اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے نیب کا کہنا تھا کہ ‘نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ یا فرد سے نہیں اور نیب نے اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا ہے، نیب ہمیشہ قانون اور آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر یقین رکھتا ہے’۔

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘علیم خان کا مقدمہ کم سنگین ہے، اگر اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی اآسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو جس پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں ضمانت دینی چاہیے’۔

نیب کی جانب سے علیم خان کی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘عام تاثر یہ ہے علیم کو اپوزیشن کے شور کی وجہ سے ناکردہ جرم کی سزا دی جارہی ہے’۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں