Orya-Maqbool-Jan

ان کا نوحہ کبھی نہیں لکھا جائے گا

نواب محمد اکبر بگٹی کے گھر فاطمہ جناح روڈ کی رات گئے کی محفلیں غضب کی ہوا کرتی تھیں، بلا کے مہمان نواز اور حیران کن حد تک دنیا کے ہر موضوع پر مطالعہ رکھنے والے نواب صاحب سے گفتگو زندگی کا حاصل ہے۔ نواب بگٹی اپنے گھر سے چہل قدمی کرتے ہوئے جناح روڈ پر آتے، بولان میڈیکل ہال انکے دوست نوروزعلی میر کی دکان تھی، کچھ وقت وہاں گزارتے، ساتھ ہی بک لینڈ اور کوئٹہ بک سٹال جاتے، کوئی رسالہ یا کتاب خریدتے اور گھر لوٹ جاتے ،جہاں شام کو انکی محفل میں شہر کے معززین، صحافی، ادیب اور دانشور شریک ہوتے۔ نوروز علی میر سے میری ایک طرح کی عزیز داری تھی تو یوں ایک دن انکی دکان پر میری ان سے ملاقات ہو گئی میرے نام پر ان کی شدید حیرت سے میرے ساتھ انکے تعلق کا آغاز ہوا اور آخری وقت تک قائم رہا۔ شروع شروع میں نواب صاحب کبھی کبھی پنجاب کے حوالے سے بات شروع کرتے تو مجھے مخاطب کر کے کہتے “تم پنجابیوں نے” ایسا کیا۔ ایک دن انہوں نے بلوچستان میں تعینات پنجابی پولیس افسران کے بارے میں کہا کہ یہ تمہارے پنجابی پولیس والے یہاں کے سادہ لوح بلوچوں اور پشتونوں پر ظلم کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپ نے کبھی ان پنجابی پولیس والوں کو پنجابیوں پر ظلم کرتے نہیں دیکھا، وہاں تو یہ انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گر جاتے ہیں۔نواب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مونچھوں کو درست کیا اور میری تائید کردی۔ لیکن ہمارے تعلقات میں گرم جوشی اس دن پیدا ہوئی جب ایک دن اسی طرح ان سے پنجابیوں کے بارے میں بحث ہورہی تھی تو میں نے کہا کہ نواب صاحب، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ اگر مجھے اپنے پیدا ہونے پر اختیار ہوتا تو میں ایک غریب اکاؤنٹنٹ پنجابی کے گھر نہیں کم از کم کسی تیل کے کنوئیں کے مالک عرب کے گھر پیدا ہوتا اور آپ بھی ڈیرہ بگٹی کے ویرانے میں کسی سردار کے گھر پیدا ہونے کی بجائے نسل در نسل بادشاہت والے برطانوی شاہی خاندان میں پیدا ہونے کو ترجیح دیتے۔ چونکہ رنگ، نسل، زبان اور قبیلے برادری کا مجھے اختیار ہی نہیں تھا تو میں اس پر طعنہ کیوں دوں اور کیوں سنوں۔ انہوں نے خوب قہقہہ لگایا اور اس دن سے اپنی شہادت تک نواب صاحب نے میرے ساتھ کبھی بھی بحیثیت مجموعی کسی نسل، رنگ اور زبان کے بارے میں بات طنزا بھی گفتگو نہیں کی۔ یہ الگ بات ہے کہ انکے پاس پاکستان کے ہر بڑے رہنما کے خاندانی پس منظر کے بارے میں لچھے دار کہانیاں موجودہ تھیں جو وہ مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ 1971ء تک مشرقی پاکستان میں گالی پنجابی کو نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی مغربی پاکستان کی تمام قومیتوں کو دی جاتی تھی کیونکہ اس دور میں نفرت کا یہی سکہ رائج الوقت تھا۔ لیکن 1971ء کے بعدنفرت کا سودا بیچنے والے قوم پرست سیاستدانوں ، کیمونسٹ نما سیکولر دانشوروں اور ادیبوں نے کسی کو تو ہدف بنا کر مظلومیت کا کارڈ کھیلنا تھا ، اس لیے پنجابیوں کو استحصالی، غاصب اور قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کے “فیشن” کا آغاز بلوچستان کے سیاحتی مقام پیر غائب میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے 2005ء میں قتل عام سے ہوا۔ یہ بیچارے چھوٹے ملازمین جن کی تین نسلیں وہاں پر رہ چکی تھیں، اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ پنجابی تھے۔ اسکے بعد بلوچستان کی شاہراہوں پر یہ معمول بن گیا کہ بس روک کر شناختی کارڈ دیکھے جاتے اور پنجابیوں کو لائن میں کھڑا کر کے قتل کر دیا جاتا۔ کسی جگہ کوئی مزدوری کر رہا ہوتا، مستری، نائی، ترکھان، موچی، نانبائی یا صفائی کرنے والا پنجابی بھی نظر آتا تو اس کو قتل کر کے استحصال کے خاتمے کا پرچم بلند کیا جانے لگا۔ گذشتہ اٹھارہ برسوں میں اگر پاکستان کے کس علاقے میں وہاں کے رہنے والوں نے خوف کی وجہ سے ہجرت کی ہے تو وہ صرف اور صرف کوئٹہ ہے جہاں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ پنجابی اپنا کاروبار، گھر بار اور نوکریاں چھوڑ کر اس لیے ہجرت کر گئے کہ انہیں کسی ریاستی ادارے کے ایکشن یا آپریشن نے ہجرت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس لئے یہ شہر چھوڑ گئے ،کیونکہ وہاں کے رہنے والے لوگ کہیں انہیں مار نہ دیں، وہ لوگ جن کے ساتھ انکی کئی نسلیں ہنستی کھیلتی پروان چڑھیں ہیں۔ یہ لوگ کون تھے ،مزدور اور غریب پیشہ۔ یہاں تک کہ غربت سے تنگ آئے ہوئے پنجابیوں نے اگر ایران کے راستے یورپ ہجرت کی کوشش کی تو انکے قافلے بلوچستان کے شہروں تفتان اور تمپ کے قریب روک کر قتل کردیئے گئے۔ یہ وہ “قابل نفرت پنجابی” تھے جن کے پنجاب سے روزانہ کوئٹہ، سبی، لورالائی، ڈیرہ بگٹی سے روانہ ہونیوالی کئی سو بسیں لاہور ، گوجرانوالہ ،گجرات ،اسلام آباد سے گزرتی ہیں ،بلکہ پشاور گلگت تک جاتی ہیں اور پھر واپس بے خوف اطمینان کے ساتھ بلوچستان واپس پہنچتی ہیں۔روزانہ ہزاروں بلوچ ، پشتون ، براہوی ان بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ اس پنجاب کے ہر شہر میں آپ کو آزادانہ طور پر بلوچ، پشتون اور سندھی کاروبار کرتے نظر آئیں گے۔ بلوچ سجی اور شنواری ہوٹل کی ہزاروں دکانیں پنجاب میں کسی خوف کے بغیر کاروبار کر رہی ہیں لیکن کیا تربت، گوادر، خضدار، پشین، لورالائی، مستونگ میں کوئی پنجابی مرغ چھولے یا پنجابی حلیم،یا پنجابی دال چاول کا بورڈ لگا کر ایک ریڑھی بھی لگا سکتا ہے۔نہیں ہر گز نہیں۔ اسلیئے کہ اسے چاروں طرف پھیلا خوف کبھی ایسا نہیں کرنے دے گا۔ کیا جتنے بلوچ اور پشتون طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں اور جس طرح وہ تنظیم بنا کر رہتے ہیں، اس تعداد کا صرف ایک فیصد پنجابی کوئٹہ اور خضدار کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جا سکتا ہے اور اگر چلا بھی جائے تو کیا وہ وہاں پنجابی سٹوڈنٹس کے نام پر کوئی تنظیم قائم کر کے زندہ اپنے گھر واپس آسکتا ہے۔ لاہور کے قدیم والڈ سٹی میں اسوقت چالیس فیصد پشتون آباد ہوچکے ہیں۔ اٹک سے رحیم یار خان تک پشتون اور بلوچ بھائیوں کے ٹرک اور ٹینکر بلاخوف روزانہ سفر کرتے ہیں۔ وہ پنجاب میں کسی ڈر کے بغیر گڈز فاروڈنگ ایجنسی کا دفتر کھولتے ہیں۔ راولپنڈی کے رابی سنٹر سے لاہور کے اوریگا سنٹر تک کپڑوں کا کاروبار صرف پشتونوں کے پاس ہے۔ اس سب کے باوجود یہ پنجابی بلوچستان میں خصوصا اور باقی صوبوں میں عموما بحیثیت قوم گالی بنا دیے گئے ہیں۔ ایسی گالی کہ کوسٹل ہائی ویز پر اگر بس روک کر نیوی اور ایئر فورس کے ملازمین کو بھی چن کر قتل کرنا مقصود ہو تو ان میں سے صرف پنجابیوں کو چنا جائے گا۔ پنجابی کے خلاف اس نفرت کی تاریخ زیادہ طویل نہیں۔ آپ ان تمام قوم پرست پارٹیوں کے رہنماؤں کی تقریریں اٹھا لیں آپکو قابل نفرت اگر کوئی قوم ملے گی تو پنجابی، آپ پاکستان کے سیکولر جو پہلے کیمونسٹ ہوا کرتے تھے انکے مضامین، کتابیں اور گفتگو اٹھا لیں آپ کوان تحریروں میں اگر گوادر سے گلگت تک کوئی ایک استحصالی قوم بحیثیت مجموعی ملے گی تو پنجابی۔ قوم پرست سیاست اور پاکستان کی وحدت سے نفرت کرنے والے ادیب، دانشور، صحافی اور کالم نگار خواہ پنجابی ہی کیوں نہ ہوں انکا کھانا اسوقت تک ہضم نہیں ہوتا جب تک پنجابیوں کو بحیثیت قوم ظالم، آمر، استحصالی اور متعصب ثابت نہ کر دیں۔انکا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا۔یہ کبھی مظلوم نہیں کہلائیں گے۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں