ملائیشیا سے لیہ تک

وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر کی گئی تقریر سن کر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ ہماری دھرتی کو صدیوں سے غیرملکی لیڈر ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہزاروں سال پہلے جو افغانستان ‘ سنٹرل ایشیا یا یونان تک سے حملہ آور ہوتے تھے وہ آج بھی ہمارے ہیرو ہیں ۔ اور تو اور ایران کا نادر شاہ جس نے دلی میں مسلمانوں کی حکومت ختم کرنے کے بعد انہی مسلمانوں کے لہو سے گلیاں بھر دی تھیں وہ بھی ہمارا ہیرو ہے۔

آج کے جمہوری دور میں بھی ہمارے رول ماڈلز مقامی نہیں بلکہ غیرملکی ہیں ۔ کیا ہمارے اندر احساس ِکمتری ہے یا ہم اس قابل نہیں کہ ہمارے اندر ایسے لیڈر پیدا ہوتے کہ ہمیں غیرملکی لیڈروں کی مثالیں نہ دینا پڑتیں ؟ ہم ذہنی طور پر غلام لوگ ہیں ‘جن کے اپنے پاس اوریجنل خیالات نہیں‘ لہٰذا سیاستدانوں کو پاکستانی ووٹروں کو ورغلانے کے لیے غیرملکی رول ماڈل تلاش کرنے پڑتے ہیں ۔

عمران خان پھر مہاتیر محمد‘ چین اور ایشیاکے لیڈروں کی مثالیں دے رہے تھے کہ انہوں نے اپنی قوموں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔عمران خان بیرونی لیڈرشپ کی خوبیاں گھنٹوں بیان کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس پوری ایک فہرست ہے جو وہ ہر دفعہ اپنی تقریر میں پڑھ دیتے ہیں کہ فلاں ملک کے فلاں لیڈر نے کیسے اپنی قوم کو ترقی کرائی تھی ۔ ان کی تقریر اب اتنی دفعہ دہرائی جاچکی ہے کہ بچے بچے کو زبانی یاد ہوچکی ہے۔

وہ سپیچ رائٹرز پر یقین نہیں رکھتے جو انہیں ہر دفعہ پرانی تقریر کچھ لفظوں کے ہیرپھیر سے نئی بنا کر پیش کردیتے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ انہی پرانی تقریروں اور تاریخی حوالوں سے انہوں نے عوام کو اپنے پیچھے لگایا ہے‘ لہٰذا ابھی بھی یہ کام جاری رہنا چاہیے۔ انہیں کیوں یقین نہیں ہے کہ وہ اب وزیراعظم ہیں اور جن لوگوں کی وہ مثالیں دے رہیں اس طرح کے کام کرنے میں انہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔
اشتہار



عمران خان سے پہلے دس سال تک شہباز شریف ہمیں بتاتے تھے کہ پاکستان کو ترکی کے صدر عبداللہ گل کی ضرورت ہے۔ عبداللہ گل اقتدار سے باہر گئے تو ان کے بعد طیب اردوان نے ان کی تقریروں میں جگہ لے لی ۔ شہباز شریف کی تقریر بھی یہیں سے شروع ہوتی کہ پاکستان کو عبداللہ گل جیسے لیڈروں کی ضرورت ہے۔شہباز شریف کے بعد عمران خان کو ضرورت پڑی کہ وہ بھی دو تین ایسے عالمی لیڈروں کا حوالہ دینا شروع کریں کہ ان کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

یوں شہباز شریف اور عمران خان کا مقابلہ برابر چل رہا ہے۔ تاہم کچھ لیڈر ایسے بھی ہیں جن پر دونوں کا اتفاق ہے کہ پاکستان کو ان کی ضرورت ہے‘ وہ ہیں طیب اردوان کہ ان جیسا لیڈر پاکستان کو مل جائے تو قسمت بدل جائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم خود طیب اردوان‘ عبداللہ گل اور مہاتیر کیوں نہیں بن سکتے؟ دراصل عمران خان اور شہباز شریف کا ان لیڈروں کے نام بار بار بتانے کا مقصد ان کی عظمت ابھار کر پاکستانی عوام کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے مہاتیر محمد ‘ طیب اردوان یا عبداللہ گل بن سکتے ہیں۔ پاکستانی خوش قسمت نکلے‘ان کی دعائیں قبول ہوگئیں کہ خدا نے بیٹھے بٹھائے ہی مہاتیر محمد ‘ طیب اردوان اور دیگر عالمی لیڈر ان کے ہاں بھیج دیے۔

ان تینوں لیڈروں میں مشترکہ بات یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں لہٰذا پاکستانی لوگوں کو ان کا نام لے کر اپنی طرف مائل کرن آسان کام ہے۔ ویسے اگر یہ تینوں پاکستان آجا ئیں تو دیکھیں کہ یہی ہمارے سیاستدان ان کا کیا حشر کرتے ہیں ‘جیسے نواز لیگ‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کا کرتی رہتی ہے۔ ہمیں شہباز شریف اور عمران خان یہ بھی نہیں بتاتے کہ ان پسندیدہ لیڈروں نے اپنے اپنے ملکوں میں اپوزیشن اور میڈیا کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ وہ یہ کبھی نہیں بتائیںگے۔ وہ چین کی ترقی کی مثال تو دیں گے لیکن یہ نہیں بتائیں گے کہ چین نے یہ ترقی جمہوریت کے ذریعے نہیں ون پارٹی سسٹم کی مدد سے کی ۔

ہر انسان کو ایک ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے مشکلات کا حل بتائے اور اس کی زندگی کو راتوں رات روشن کر دے۔ اکثر سیاستدان یہ ہتھیار دنیا کے ہر خطے میں عوام پر آزماتے ہیں ۔ وہ لوگوں کے خوابوں سے کھیلتے ہیں ۔ اسی لیے ہر دور میں لوگ نئے لیڈروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو ان کی نفسیات سے کھیلتے ہیں ۔ اگر شہباز شریف طیب اردوان اور عبداللہ گل سے متاثر تھے اور بار بارکہتے تھے کہ پاکستان کو ان جیسے لیڈروں کی ضرورت ہے تو وہ کام کرنے کی کوشش کیوں نہ کی جس وجہ سے ان کے بقول وہ بڑے لیڈر بنے اور ترکی کی تقدیر بدل دی تھی؟

دس سال بڑا طویل عرصہ ہوتا ہے کسی بھی معاشرے کو بدلنے کا ۔ طیب اردوان نے اگربلدیاتی نظام کے ذریعے ترکی کے چند شہروں کی حالت بدلی تو شہباز شریف نے ان دس سالوں میں انہی بلدیاتی اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور بیوروکریسی کی حکمرانی دوبارہ لوٹ آئی۔ بلدیاتی انتخابات تک نہ کرائے گئے جب تک سپریم کورٹ نے حکم نہ دیا۔ جس انداز میں الیکشن کرائے گئے وہ سب کے سامنے تھے۔ جو بھی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے اس کے ہی لوگ الیکشن جیت جاتے ہیں ۔ شہباز شریف کو علم تھا کہ برانڈ تو طیب اردوان کا لوگوں کو بیچنا ہے لیکن سودا خالص مقامی ہوگا ۔

عمران خان نے بھی آئیڈیا وہیں سے لیا کہ اس قوم کو بار بار بتائو کہ تم نالائق ہو‘ تمہارے اندر مہاتیر جیسا لیڈر نہیں ہے۔ ان کا مطلب بھی وہی تھا جو شہباز شریف کا تھا کہ میں ہی تمہارے لیے مہاتیر کا کردار ادا کرسکتا ہوں ۔ یوں شہباز شریف اور عمران خان مقابلے پر نکلے اور خود کو بیرونی لیڈروں کی جگہ پیش کر دیا ۔ اب جب عوام کو وہ یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ مہاتیر نے ملائشیا میں کیا کیا ‘طیب اردوان نے ترکی میں کیا کیایا چین کے لیڈروں نے کیا انقلاب برپا کیا تو وہ دراصل اپنی مارکیٹنگ کررہے ہوتے ہیں۔

وہ لاشعوری طور پر عوام کی برین واشنگ کررہے ہوتے ہیں کہ اب عبداللہ گل‘ مہاتیر محمد‘ یا طیب اردوان تو پاکستان آ کر حکومت سنبھالنے سے رہے لیکن وہ ان کی کمی پوری کرسکتے ہیں۔ ان کا یہی نفسیاتی ہتھیار کامیاب رہا ہے۔ اس معاملے میں میڈیا ان کی بڑی مدد کرتا ہے۔ ان کاامیج ابھارا جاتا ہے کہ وہی پاکستان کے مسیحا ہیں ۔ وہی مہاتیر محمد ہیں‘ وہ طیب اردوان یا ایشیا کے چند دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے لیڈر ہیں۔ جب چین کی مثال دی جاتی ہے کہ اس کے فلاں لیڈر نے پچاس کروڑ چینیوں کو غربت سے نکالا تو اس کا مقصد وہی ہوتا ہے کہ یہ کام میں یہاں کرسکتا ہوں ۔

لیکن پھر ایسا ہوتا کیوں نہیں ؟ ہمارے ہاں وہ تبدیلیاں نظر کیوں نہیں آتیں؟

چلیں چھوڑیں آپ کو ایک اصلی تے نسلی لطیفہ سناتا ہوں : لیہ سے ایک گرلز سکول کی استانی صاحبہ کا میسج آیا ہے جن سے ہمارے پرانے گھریلو تعلقات ہیں کہ ڈپٹی کمشنر لیہ نے ان کا تبادلہ دور دراز کردیا ہے حالانکہ انہوں نے سکول میں ہونے والی کرپشن کو ایکسپوز کیا تھا ۔ ذمہ داران کا ٹرانسفر کرنے کی بجائے الٹا انہیں سزا دی گئی ۔ میں نے پوچھا: آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ آپ لیہ سکول میں ہونے والی بدعنوانیوں کے خلاف کھڑی ہوجاتیں؟

جہاں پورا ملک لٹ رہا ہے تو آپ کے سکول میں جو کچھ ہورہا ہے ہونے دیتیں۔ آپ کو کیا پڑی تھیں کہ آپ نے سر اوکھلی میں دے دیا ؟ان کا جواب تھا: بھائی میں تو عمران خان کے اس اعلان پر چل رہی تھی کہ جو سرکاری اہلکار اپنے ادارے میں کرپشن ایکسپوز کریں گے انہیں انعام ملے گا ۔ میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ وہ ناراض ہوکر بولیں رئوف بھائی آپ ہنس رہے ہیں ۔ یہ ہنسنے والی بات ہے؟ میں سمجھی تھی کہ آپ میری مدد کریں گے‘ انصاف دلوانے میں ۔ میں نے کہا: جی ہنسنے والی بات ہی تو ہے کہ آپ بھی عمران خان کے دیگر بڑے بڑے دعوئوں کی طرح یہ دعویٰ بھی سیریس لے گئیں ۔

سیاستدان تو باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ عمران خان تو ان کو بھی ساتھ ملائے بیٹھے ہیں جنہیں وہ کبھی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے ۔ سیاستدان کی تو دکان ہی اسی طرح چلتی ہے لیکن آپ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوگئیں کہ عمران خان نے کہا تھا کرپشن ایکسپوز کرنے پر انعام ملے گا ۔ اب کھائیں دھکے ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں ۔ وہ ناراض ہو گئیں اور میری پھر ہنسی چھوٹ گئی کہ عمران خان نے کہا تھا !
بشکریہ روزنامہ دنیا
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں