Orya-Maqbool-Jan

اصل نفرت نکاح سے ہے

جس ملک میں عوام کی اکثریت اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کرکے بمشکل تمام جہیز مہیا کرتی ہو، جہاں لاتعداد ایسے گھرانے ہوں جہاں لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہوتی جارہی ہوں، وہاں صرف اور صرف مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شادی کی عمر بڑھانے کا بل اسمبلی میں پیش کرنا ،صرف اور صرف اسلام کے بنیادی تصور کا تمسخر اڑانے اور تضحیک کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے لوگوں کے دردناک انجام کی خبر دیتا ہے اور بار بار دیتا ہے جو رسولوں کی تعلیمات کا مذاق اڑاتے تھے۔ فرمایا :افسوس ہے ان بندوں کے حال پر کہ جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اسکا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اسکے بعد وہ پھر کبھی انکی طرف پلٹ کر نہ آئے۔ ان سب کو ایک دن ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے (یٰسین 32-30)۔ شادی کی عمر کی پابندی کا بل برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے 28 ستمبر 1929ء کو امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں منظور کیا، جسکے تحت لڑکی کی شادی کی عمر 16 اور لڑکے کی شادی کی عمر 18 سال مقرر کردی گئی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب اسی سال ، 1929 میں ہی مشہور برطانوی فلاسفر برٹرینڈرسل کی کتاب Marriage and Moralsطبع ہوئی۔ وہ اس سے پہلے اس موضوع پر لاتعداد مضامین لکھ چکا تھا اور بے شمار لیکچر دے چکا تھا۔ اس کتاب میں اس نے جنس، شادی اور اخلاقیات پر ایک ایسی بحث چھیڑی، جس نے خاندانی نظام کی تباہی و بربادی اور شادی جیسے رشتے کی پاکیزگی و پارسائی کے تصور کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔ اس نے جنسی ضروریات کو شادی کے ادارے سے بالکل الگ کرکے ایک ایسی بھوک سے تعبیر کیا، جسکا مٹایا جانا، بہرحال بہت ضروری اور فوری ہے، لیکن اسکے شادی جیسے مشکل ، دوبھر ،کڑے اور سخت بندھن میں داخل ہونے کی اوائل عمر میں ضرورت نہیں ہے۔ اسکے نزدیک ، جوانی دراصل کھیلنے کودنے کے خوبصورت دنوں کا نام ہے اور اس دوران آدمی کو لاتعداد جنسی تجربات سے گزرتے ہوئے اسوقت شادی کا فیصلہ کرنا چاہیے جب وہ معاشی، معاشرتی، نفسیاتی اور جذباتی سطح پر اس قدر پختہ کار (Mature) ہو جائے کہ شادی جیسے مشکل کام کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس فلسفے نے اسقدر پذیرائی حاصل کی کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں سیکولر اخلاقیات پنپ رہی تھیں اور روشن خیالی پروان چڑھ رہی تھی ان ملکوں میں 19 سال سے کم ، یعنی وہ عمر جسے پورا مغرب ٹین ایج (Teen Age) کہتا تھا اور جس سے سارا رومانس وابستہ تھا، اس میں شادی کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ کسقدر حیرت کی بات ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں شاعری، گیت اور کہانیوں میں محبت کا سوز و گداز اور جذبوں کی خوبصورتی اسی عمر سے وابستہ ہے۔ کم سنی کیا کم تھی کہ اس پر قہر ہے شکی مزاج اپنا ناوک میرے دل سے کھینچ کر دیکھا کئے تیرہ سال کی عمر سے انیس سال کی عمر کو “ٹین ایج” یعنی عنفوان شباب کہا جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب شرم و حیا اور جذبات و شہوات میں جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یکلخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ یہ اس تہذیب و تمدن اور اخلاقی تربیت کی بات تھی جب بچیاں اس عنفوان شباب کی آمد سے پہلے ہی حیا کے زیور سے آراستہ ہو جاتی تھیں اور چڑھتی جوانی کے خمار میں بدمست لڑکے معاشرے میں ناپسندیدہ خیال کیے جاتے تھے۔ یہ وہ ڈھلوان کا زمانہ ہوتا ہے کہ جسکو اگر شادی کی اخلاقیات کے بندھن میں نہ باندھا جائے تو صرف گناہ کی زندگی ہی انسان کے دروازے پر دستک نہیں دے رہی ہوتی بلکہ معاشرے میں ایک ایسا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جسے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لئے رسول اکرم ﷺنے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا “اے نوجوانوں کی جماعت تمہارے اوپر نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہوں کو نیچی کرنے والا اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والا ہے (ترمذی 1081)۔ اللہ تعالیٰ نکاح کو وسعت رزق کا ذریعہ بتاتا ہے، “تم میں سے جو مرد، عورت بغیر نکاح کے ہوں، انکا نکاح کر دو، اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ انکو غنی کر دے گا (النور 32)۔ ایسا کونسا معاشرتی بگاڑ ہے، اخلاقی پستی اور بے راہ روی ہے جو اس عنفوان شباب یعنی ٹین ایج کی شادی پر پابندی لگانے سے پھیلتی ہے جسکے بارے میں اسلام خبردار کرتا ہے۔ صرف ان ممالک کا جائزہ لے لیتے ہیں جہاں اس عمر میں شادی پر پابندی کا قانون منظور ہوا تو پھر وہ معاشرے اور خصوصاََ نوجوانوں پر کیا بیتی۔ عنفوان شباب کی شادی کے مخالفین صرف دو دلیلیں پیش کرتے ہیں، پہلی یہ کہ اس عمر میں بچے ابھی تک معاشی طور پر اسقدر مستحکم نہیں ہوتے کہ ایک خاندانی زندگی کا بوجھ اٹھا سکیں اور دوسرا لڑکی کا جسم اس عمر میں ماں بننے جیسے عمل کا متحمل نہیں ہو پاتا اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ پابندی نکاح یا شادی پر لگائی گئی تھی، جنسی تعلقات پر نہیں تو اسکا نتیجہ یہی نکلا کہ اس عمر کے نوجوانوں نے اس قانون کا وہ مذاق اڑایا کہ امریکہ اور یورپ میں کسی دوسرے قانون کا اسقدر مذاق نہیں اڑایا گیا۔ یہ نوجوان شادی کے بندھن میں بھی بندھے بغیر ہی یہ کم سن بچیاں ناجائز بچوں کی مائیں بننے لگیں۔ یعنی اس کم سنی کی شادی کے مخالفین کی دونوں دلیلیں انہوں نے انکے منہ پر دے ماریں۔ حیرت کی بات ہے کہ جن ممالک میں پچاس کی دہائی کے آخر میں مانع حمل ادویات عام ہوگئیں تھیں اور بچوں کی پیدائش سے بچاجا سکتا تھا وہاں بھی ان جذباتی جوڑوں نے اسکی بالکل پرواہ نہ کی۔ صرف برطانیہ میں 2002ء میں ہر ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے 101 ایسے تھے جو نہ صرف بغیر شادی کے تھے بلکہ 13 سال سے 19 سال کی ٹین ایج بچیوں کے ہاں پیدا ہوئے تھے ،جبکہ اسی سال امریکہ میں ہر ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں 76 ایسے تھے۔ امریکہ میں 2017 میں دو لاکھ انتیس ہزار سات سو پندرہ (2,29,715) ایسی غیر شادی شدہ بچیاں مائیں بنیں ،جنکی عمریں 15 سال سے 19 سال کے درمیان تھیں۔میں اگر وہ اعدادوشمار یہاں پیش کروں جو ان کنواری ماؤں اور انکے ناجائز بچوں پر بیتنے والی قیامت کے متعلق ہیں تو چیخیں نکل جائیں۔ لیکن اسکے باوجود بھی صرف مغرب کی تقلید میں ہم ایک ایسی ماں سے نفرت کرتے ہیں جو اگر عنفوان شباب میں شادی کے بعد ماں بنتی ہے تو اسکے بچے کا استقبال کرنے کے لیے پورا خاندان موجود ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب مغرب میں ناجائز بچوں کی اکثریت خیراتی اداروں کے سپرد ہو جاتی ہے ۔ پوری دنیا کے شوبز کے میگزین اور سوشل لائف کے رسالے نکال لیں ان میں ایسی بے شمار بڑی بڑی شخصیات کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو کم عمر اور کم سن لڑکیوں سے افیئر چلاتے ہیں، انہیں گرل فرینڈ بناتے ہیں، بلکہ کئی ایک کے ان میں سے بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر میرے ملک میں کوئی اس عمرکی بچی کا نکاح ذرا بڑی عمر کے مرد سے خاندان والے کر دیں توسارا میڈیا اور انتظامیہ اسکے پیچھے پڑ جاتی ہے۔دراصل ان سیکولر ، لبرل روشن خیال مغرب زدہ طبقے کی نفرت کم سنی میں جنسی تعلقات سے ہر گز نہیں، نفرت صرف نکاح سے ہے، شادی سے ہے ،جو اس عمر میں ان بچوں اور بچیوں کو گناہ سے روکتی ہے، زمین پر فساد پھیلنے سے بچاتی ہے۔ یہ مغرب زدہ دانشور ہر سال ایک انداز کے مطابق 25 لاکھ کنواری ٹین ایج ماؤں پر مقدمہ چلانے کی بات کیوں نہیں کرتے، جو ان تمام ممالک میں قانون کا مذاق اڑا کر وہ سب کچھ کر گزرتی ہیں جو شادی کا حاصل ہے یعنی اکٹھے رہنا اور بچے پیدا کرنا ، صرف نکاح نہیں کرتیں۔ ایسے تمام قوانین کے مطابق شادی کے بغیر کم سنی میں جنسی تعلقات رکھنا اور ماں بننا جرم نہیں ہے، البتہ کم سنی میں شادی یا نکاح کرکے جنسی تعلقات رکھنا اور ماں بننا جرم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل نفرت نکاح سے ہے، پاکیزگی سے، عفت مآب زندگی سے ہے۔
اشتہار


اصل نفرت نکاح سے ہے” ایک تبصرہ

  1. حرام خور ہیں ۔سود کھاتے پیتے ہیں۔اس دنیا میں سب سے بد ترین لوگوں ہیں مسلمانوں پر بہت بڑا دبہ ہیں یہ لوگ ۔اوپر سے مسلمانوں کی باتیں اور ان کے کردار کفار جیسے ہیں ان حکمرانوں کا دل بھی کفار کی نفسیات اپنانے کا خواہاں ہے۔اللہ تعالی ان کی رسی کو دراز اپنی حکمت سے کر رہے ہیں۔بحرحال دنیا میں سب زلیل لوگ ہیں ۔روزانہ ان کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے ۔لعنت ہو ایسے لوگوں پر۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں