afgbanistan

افغان فورسز کی فائرنگ سے بچوں اور خواتین سمیت 6 شہری جاں بحق

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں حکام نے کہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 2 بچوں اور خواتین سمیت 6 شہری جاں بحق ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق صوبائی حکام نے تصدیق کی کہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی ’غلطی‘ سے شہری جاں بحق ہوئے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ نے بتایا کہ ضلع شرزاد میں افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں طالبان کے 10 جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’آپریشن کے فوراً بعد ایک گاڑی کو مذکورہ علاقے سے نکلتے دیکھا تو سیکیورٹی سورسز سمجھے کہ طالبان جنگجو فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی‘۔

صوبائی کونسل کے رکن اجمل عمر نے بتایا کہ متاثرین کے اہلخانہ اور گاؤں والوں نے لاشوں کو صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں رکھ کر انصاف کے لیے احتجاج کیا۔

دوسری جانب افغانستان میں موجود اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ ’ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، جو باعث تشویش ہے‘۔

اس سےقبل یو این اے ایم اے کی رپورٹ کے مطابق رواں برس ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سال 2013 کے ابتدائی 3 ماہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے مقابلے میں اب تک کی سب سے کم ترین سطح پر ہے۔

خیال رہے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ نے پہلی مرتبہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت سے متعلق اقرار کیا تھا کہ ’افغان اور امریکی فوجیوں نے القاعدہ کے مقابلے میں زیادہ شہریوں کو قتل کیا‘۔

الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق افغان اور امریکی فوجیوں کے حملوں میں سال 2019 کی پہلی سہہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 300 شہری جاں بحق ہوئے۔

اس سے قبل مارچ میں صوبے قندوز میں طالبان کے حملے میں دو امریکی ہلاک جبکہ امریکی فضائی حملوں میں 4 افغان اہلکار کے علاوہ بچوں اور خواتین سمیت 14 شہری جاں بحق ہوگئےتھے۔

قندوز میں دو امریکیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے ضلع گل ٹیپا کے مضافات میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 8 بچے اور 4 خواتین سمیت 14 پناہ گزین جاں بحق ہو گئےتھے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں