Orya-Maqbool-Jan

عید اور امت مسلمہ

کیا کسی کو خبر ہے کہ پوری دنیا میں تقریبا چھبیس کروڑ مسیحی ایسے ہیں جو 25 دسمبر کو کرسمس یعنی سیدنا عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں مناتے۔ رقبے کے حساب سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں یہ آبادی کا 77 فیصد ہیں جبکہ یوکرین، رومانیہ، بیلاروس، یونان، سربیا، بلغاریا، جارجیا، قبرص اور بوسنیا، میں یہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انہیں راسخ العقیدہ (Orthodox) عیسائی کہا جاتا ہے۔ یہ چھبیس کروڑ عیسائی کرسمس کو قدیم جولین(Julian) کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں۔ یہ رومن بادشاہت کے زمانے کا کیلنڈر ہے جسے جولیس سیزر نے نافذ کیاتھا۔ اس کیلنڈر کو ہر سال ترتیب دینے کے لیے ماہرین اکٹھا ہوتے اور فیصلہ کرتے ہیں کہ اس سال کتنے دن سال سے نکالنے یا جمع کرنے ہیں تاکہ موسموں کے آنے جانے کا حساب کتاب ٹھیک رہے۔ اس کیلنڈر کے مطابق 2019ء کو آرتھوڈوکس عیسائیوں کا کرسمس 18 ممالک میں 7 جنوری کو منایا گیا جبکہ آرمینیا کے عیسائیوں نے اسے چھ جنوری کو منایا۔ کیا دنیا کے کسی اخبار ٹیلی ویژن یا میڈیا پر ایک منٹ کے لئے بھی یہ بحث ہوئی کہ پوری دنیا کے عیسائی دو ہفتے پہلے 25 دسمبر کو کرسمس منا چکے ہیں۔ دنیا واپس اپنے کاموں کی جانب لوٹ گئی ہے اور عیسائیوں کے یہ راسخ العقیدہ پادری آج تک جولین کیلنڈر کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور انکا کرسمس علیحدہ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ہے اب تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر فواد چوہدری بھی دنیا کو “سائنسی” طور پر بتاتا پھرتا ہے کہ دیکھو یہ چاند پیدا ہو رہا ہے، ابھر رہا ہے، سامنے آ رہا ہے۔ باہر جانے کی کیا ضرورت، اپنے موبائل پر بیٹھے بیٹھے چاند دیکھو اور عید مناؤ۔ لیکن گزشتہ دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے یہ آرتھوڈوکس عیسائی باقی رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر عیسائیوں سے علیحدہ کرسمس مناتے چلے آرہے ہیں، لیکن انہیں آج تک کوئی یہ طعنہ نہیں دیتا کہ تم لوگ ایک کرسمس پر متفق کیوں نہیں ہو جاتے۔ تمہارا چاند اٹھارہ ملکوں میں ایک دن نکلتا ہے اور ایک ملک آرمینیا میں کسی اور دن۔تمہیں ذرا بھی عقل نہیں۔ اسی طرح یہودی جو دنیا بھر سے سائنس کے شعبہ میں سب سے زیادہ نوبل انعام لینے کیلئے مشہور ہیں مگر آج بھی اپنا عبرانی کیلنڈر استعمال کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ اس جدید دور میں عبرانی کیلنڈر میں دن اور رات کا کوئی عرصہ مقرر نہیں، کوئی ٹائم زون یا سٹینڈرڈ ٹائم نہیں ہے۔ یہ بیک وقت چاند اور سورج کی گردش کو ملا کر بنایا جانیوالا کیلنڈر ہے۔اس میں پورا دن سورج نکلنے سے غروب ہونے تک بارہ درجوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یوں انکی سردیوں میں ایک گھنٹہ ساٹھ منٹ سے کم کا ہوتا ہے اور گرمیوں میں ساٹھ منٹ سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہودیوں کے ہاں سال کو سورج کے حساب سے ناپا جاتا ہے، جبکہ مہینے چاند کے طلوع و غروب اور گردش کے حساب سے تبدیل ہوتے ہیں۔ اسی لیے انکے تمام مذہبی تہوار جیسے یوم کپور وغیرہ ہر سال مختلف دنوں میں ہوتے ہیں اور اسرائیل کا کوئی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اپنی وزارت کو یہ حکم نہیں دیتا کہ فورا ایک کیلنڈر بناؤ اور ان مذہب کے ٹھیکیداروں کو بتاؤ کہ ایسے ایک موبائل پر بیٹھ کر سارے دن طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہندو عورتیں اپنے خاوند کے لیے کڑوا چوتھ کا روزہ رکھتی ہیں۔ اسے ہندی زبان میں “بھرت” کہتے ہیں۔ یہ روزہ چاند دیکھ کر کھولا جاتا ہے اور یہ کاتک کے مہینے کے چوتھے دن رکھا جاتا ہے۔ وہاں بھی کوئی اس پورن ماشی کے چاند کو کمپیوٹر پر سائنسی طور پر دیکھ کر روزہ کھولنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ لیکن ایسا مذاق بلکہ ٹھٹھا مذاق صرف اور صرف میرے دین کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔ اس مذاق کے باہم شریک کچھ ملحد، سیکولر اور لبرل ہیں اور ان کے ہم رکاب سرسیداحمدخان کی عقلیت پرستی سے جنم لینے والی مذہبی توجیہات کے نمائندہ علماء و دانشور۔ علیگڑھ نے عین ممکن ہے تعلیم کے میدان میں بے شمار فائدے پہنچائے ہوں لیکن برصغیر کے مسلمانوں کا ایک عظیم نقصان یہ ضرور کیا ہے کہ ان مسلمانوں کے سامنے جدوجہد کا معیار اور ترقی کا مینار مغرب کو بنا دیا۔ اس تحریک کا یہی درس تھا کہ تم نے مغرب کی طرح ترقی کر کے دنیا پر چھانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے دماغوں سے بغداد اور طیطلیہ (Teledo) کے علمی مراکز کی جگہ آکسفورڈ اور کیمبرج کی دنیا آباد ہو گئی۔ ان جدت پسند دانشوروں کے نزدیک یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہم کرسمس کی طرح ایک دن عید کیوں نہیں مناتے، ہم گھر بیٹھے سائنسی آلات کی مدد سے پورے سال کا کیلنڈر کیوں نہیں بنا لیتے۔ یہ جدیدیت پسند علماء اور انکے پیروکار دانشور و کالم نگار رات دن اس غم میں گھلے جاتے ہیں کہ مسلمان ایک دن عید کیوں نہیں مناتے۔ انکے نزدیک مسلمان سے مراد بھی صرف ایک ملک کے مسلمان ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر ان سے کہو کہ پوری امت کو ایک دن عید منانا چاہیے تو یہ مغرب زدہ علماء جنکے دماغوں میں قومی ریاستیں اور انکی سرحدیں رچی بسی ہیں فوراً مسلمانوں کے “نظم اجتماعی” کا فتوی لے آتے ہیں۔لگتا ہے ان علماء کے ہاں نظم اجتماعی کا تصور اسلام سے نہیں اقوام متحدہ سے آتا ہے۔ مثلا خیبر پختونخواہ چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر نہیں ہے اس لئے اسکی حکومت کا چاند دیکھ کر عید منانے کا فیصلہ نظم اجتماعی کا فیصلہ نہیں، جبکہ مرکزی حکومت چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر ہے اس لیے اسکی اطاعت لازم ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تمام جھگڑے صرف اسلام اور مسلمانوں کے کھاتے میں کیوں ڈالے جاتے ہیں اور ایسا کیوں ہوتا ہے۔ عید کے بارے میں یہ تصور ذہن سے نکالنا ہوگا کہ یہ یوم آزادی یا یوم پاکستان نہیں ہے کہ جیسے چاہو منا لو۔ یہ اسلام کا بنیادی تہوار ہے اور اسے ویسے ہی منانا چاہیے جیسے رسول اکرم ﷺ نے بتایا۔ آپ نے کہیں نہیں فرمایا سورج دیکھ کر نماز پڑھوبس وقت کا تعین کر دیا۔ اس لئے صحابہ سے لے کر پوری امت ایسا کرتی آئی ہے۔ لیکن روزہ رکھنے اور عید منانے کے لیے خاص طور پر فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر رمضان ختم کرو۔ حکم چاند دیکھنے کا ہے، ورنہ فواد چوہدری کے کیلنڈر کے مطابق تو اس سال اٹھائیسویں ویں روزے یعنی تین جوں کو ساڑھے تین بجے پاکستان میں چاند پیدا ہو گیا تھا، لیکن سورج کی تیز روشنی میں نظر نہیں آیا۔ اس طرح تو کیلنڈر کے حساب سے تو عید ہو چکی تھی۔ اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق چاند کی رویت ضروری ہے۔ لیکن یہ سارا جھگڑا اس لیے پیدا ہوا کہ ہم نے پوری امت کو مطلع کے اعتبار سے قومی ریاستوں میں تقسیم کر رکھا ہے جبکہ اگر پوری امت مسلمہ برونائی سے مراکش تک چاند دیکھنے کے مختلف جگہوں پر مراکز قائم کرے اورپھر جس جگہ بھی چاند نظر آجائے اس کا اعلان پوری امت کیلئے کردیا جائے تو مسئلہ چند سیکنڈ میں حل ہو سکتا ہے۔ لیکن کوئی ملک یا اس کا سربراہ اس اتحاد کی بات نہیں کرے گا۔ اللہ کے رسول کی منشا بھی یہی تھی۔ رسول اکرم ؐ کی حدیث ہے “ہمیں شوال کا چاند بادلوں کی وجہ سے نظر نہ آ سکا ہم روزے سے تھے لیکن دن کے آخری حصے میں چند مسافر مدینہ آئے اور جنہوں نے رسول اللہﷺکے سامنے یہ شہادت دی کہ انہوں نے گزشتہ روز چاند دیکھ لیا تھا، بس رسول اللہﷺ نے لوگوں کو روزہ توڑنے اور اگلے روز عید کے لئے نکلنے کا حکم دیا” (ابنِ ماجہ)۔ اس مضمون کی چار حدیث ملتی ہیں۔ کیا آج اگر مراکش، مصر، ملائیشیا یا انڈونیشیا سے کوئی دین دار نیک شخص چاند دیکھ کر رویت ہلال کمیٹی کے سامنے اسکی گواہی دینے پہنچ جائے تو کوئی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ اعلان کرے کہ امت کے فلاں علاقے میں چاند دیکھا گیا ہے۔ اس لئے سنت رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ روزہ توڑو اور عید کے لیے نکلو۔ کون کرے گا قومی ریاستوں میں بٹی ہوئی امت ایسا نہیں کر سکتی۔

اشتہار


4 تبصرے “عید اور امت مسلمہ

  1. کیسے کیسے جاہل لوگ عالم بن کر لیکچر دینے لگ جاتے ہیں۔ جن عیسائیوں اور یہودیوں کا موصوف زکر فرما رہے ہیں ان کے کیلنڈر سائنسی بنیادوں پر بنے ہوئے ہیں ۔ آپ جا کے دیکھ لیں کہ اگلے دس سال میں orthodox کی کرسمس کب ہو گی اور یہودیوں کا یوم کپور کب ہو گا۔ یہی بات فواد چوہدری کر رہا ہے۔ ہر معاملے میں ترکی کی بہت مثالیں دی جاتی ہیں، لیکن وہاں تو عید، رمضان سب پہلے سے تیار کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، وہاں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

  2. جناب عالی آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ کی کرسمس علیحدہ کیوں ہے کچھ اس پر بھی روشنی ڈالیں اُن کی سائنس اُن کو یہ نہیں بتا سکی کہ اصل میں ولادت عیسیٰ علیہ السلام کس دن ہے اور آرتھوڈوکس میں بھی ایک دن کا فرق کیوں ہے
    تین علیحدہ دن عید ولادت مسیح علیہ السلام منانے والوں نے اپنے دن کا تعین سائنس سے کیا ہے تینوں مختلف نتیجہ پر پہنچے ثابت ہوا سائنس کا فیصلہ ختمی نہیں

  3. ویسے سعودی عرب میں بھی پورے سال کا کیلینڈر ہوتا ہے بلکہ سعودی عرب میں شروع سے ہی ہجری سال کا کیلینڈر ہوتا ہے۔باقی روزے اور عید مبارک چاند دیکھنے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔بعض اوقات کیلینڈر میں تبدیلی ہوتی ہے ۔اللہ تعالی ہمیں حق وسنت پر عمل درآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں