اخوان المسلمین نے سابق مصری صدر کی موت کو قتل قرار دے دیا

مصر میں حکام کے مطابق ملک کے سابق صدر محمد مرسی جنھیں فوج نے ایک سال بعد اقتدار سے معزول کر دیا تھا پیر کو عدالت میں پیشی کے دوران گر کر انتقال کر گئے۔

حکام کے مطابق محمد مرسی نے پیر کو ایک پنجرے میں قید عدالت سے خطاب کیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

واضح رہے کہ محمد مرسی کے خلاف دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے ایک جاسوسی کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔ 67 سالہ محمد مرسی اپنی معزولی کے بعد سے قید میں تھے۔

اطلاعات کے مطابق انھیں قاہرہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمین نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے عام لوگوں سے محمد مرسی کے جنازے میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور محمد مرسی کا خاندان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ مرسی کو ہائی بلڈ پریشر اور زیابیطس جیسے امراض کا علاج کروانے کے لیے مناسب طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔

محمد مرسی کے بیٹے عبداللہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے والد کی لاش کے بارے میں معلوم نہیں ہے اور حکام مرسی کو ان کے آبائی علاقے شرقیہ صوبےمیں دفن کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں