بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا اور جعلی اکاؤنٹس سے دیگر اکاؤنٹس ہولڈرز خوف اور عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کے ملزم محمد انور کی اپیل کی سماعت ہوئی تو مدعی محمد انور نے سزا کیخلاف اپیل واپس لے لی۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکائونٹ نہیں کھل سکتا، معاملہ گھمبیر ہے کیوں نہ سزا بڑھا دیں؟

ملزم کے وکیل نے کہا کہ جعلی اکائونٹس کا معاملہ 1999 کا ہے اور اس کا موکل تین سال کی سزا سے زیادہ جیل کاٹ چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنک والے اکاؤنٹ کھولنے میں بڑی احتیاط کرتے ہیں، لیکن جعلی شناختی کارڈ اور جعلی دستاویزات سے اکاؤنٹس کھل گئے، جعلی اکاؤنٹس کھولنے سے دیگر اکاؤنٹس ہولڈرز کے اعتماد کو دھچکہ لگتا ہے اور خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نیب اپیلیں چند ہفتوں میں نمٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ نیب ہائیکورٹ فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر تیاری شروع کر دے، نیب کی اپیلیں چند ہفتوں میں نمٹا دیں گے، نیب کی عدالت عظمی میں 100 اپیلیں زیرالتواء رہ گئی ہیں۔

ملزم محمد انور پر نیشنل بنک راولپنڈی میں جعلی بنک اکاؤنٹس کھولنے کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے اسے تین سال قید کی سزا سنائی اور ہائیکورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں